وزیراعلیٰ پنجاب کی اٹک آمد متوقع ،این اے56 عوام کا احتجاج بھی متوقع

اعلان نہیں عملی کام، مظاہرین ترنول سے جنڈ روڈ اور فتح جنگ سے پنڈی گھیب روڈ کا کریں گے، ذرائع
اٹک(صدیق فخر سے) وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزردار کی اٹک میں متوقع آمد کے سلسلے میں بازگشت سنائی دیتی ہے جس کے لیے پاکستان تحریک انصاف کے رہنمائوں کی اٹک میں ڈپٹی کمشنر کے ساتھ بیٹھک بھی ہو چکی ہے تاکہ پروگرام ترتیب دیا جائے اور تحریک انصاف کے نمائندے ایک پیج پر نظر آئیں۔ یاد رہے کہ گزشتہ وزیراعلیٰ پنجاب کے اٹک دورے کے موقع پر تقریب میں بدمزگی پیدا ہو گئی تھی جس میں تحریک انصاف کی گروپ بندی واضح نظر آئی تھی اور سخت مخالف نعرے بازی بھی کی گئی تھی۔
وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزردار کی آمد پر این اے 56 کی عوام کی طرف سے مرکزی تقریب کے باہر احتجاج بھی متوقع ہے جس میں عوام کی طرف سے ترنول سے جنڈ اور فتح جنگ سے پنڈی گھیب روڈ بارے مطالبہ کیا جائے گا اور این اے 56 کو پسماندہ رکھنے کے خلاف آواز اٹھائی جائے گی۔ گزشتہ حکومتوں کی طرح اس حکومت نے بھی این اے 56 کے بارے میں اعلانات تو بہت کئے لیکن تاحال کوئی عملی کام نہیں ہو سکا۔ گزشتہ حکومتوں کی بہ نسبت موجودہ حکومت میں اٹک سے زیادہ وزیر و مشیر پنجاب اور وفاق دونوں میں موجود ہیں لیکن اس کے باوجود تاحال اٹک کیلئے کوئی میگا پروجیکٹ شروع نہ ہو سکا نہ ہی کوئی ترقیاتی فنڈ جاری ہو سکا۔ پی ٹی آئی حکومت کے اکثر عہدیدار مسلم لیگ (ن) کے پروجیکٹ کا افتتاح کر کے عوام اپنی کارکردگی ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
وفاق میں اس وقت وزیراعظم عمران خان کے قریبی دوست زلفی بخاری اور بااعتماد ساتھی ملک امین اسلم معاون خصوصی و مشیر وزیراعظم کے عہدوں پر موجود ہیں ، جن کے عہدے وفاقی وزیر کے برابر ہیں جبکہ پنجاب میں صوبائی وزیر کرنل (ر) انور اور ایم پی اے سید یاور بخاری چیئرمین پبلک اکائونٹس کمیٹی ٹو ہیں لیکن وفاق اور پنجاب میں مضبوط عہدوں کے ہونے کے باوجود اٹک کی عوام کیلئے کوئی فائدہ حاصل نہیں کیا جا سکا۔
دوسری طرف ایم این اے میجر(ر) طاہر صادق اور ایم پی اے ملک جمشید الطاف کا تعلق بھی حکومتی جماعت سے ہے لیکن این اے 55 کی نشست نہ چھوڑنے کی وجہ سے پارٹی کی طرف سے میجر طاہر صادق اور ان کی ٹیم کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے جو حقیقت میں تحریک انصاف کے لاکھوں ووٹروں کو نظرانداز کرنا ہے۔
اہلیان حلقہ این اے 56 کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی اٹک آمد پر ایک احتجاجی پروگرام ترتیب دیا جا سکتا ہے کیونکہ اپوزیشن کی طرف سے قومی و صوبائی اسمبلی میں آواز اٹھانے کے باوجود حکومت کوئی توجہ نہیں دے رہی اور نہ ہی اپنے نمائندوں کو کوئی میگا پروجیکٹ دے رہی ہے۔
