مقبوضہ کشمیر،شوپیاں چلو مارچ پر بھارتی فوج نے ہلہ بول دیا،متعدد زخمی

سری نگر(کے پی آئی) بھارتی قابض فوج نے طاقت کا استعمال کرکے شوپیاں چلو مارچ ناکام بنادی ۔مارچ کوناکام بنانے کے لیے بدھ کو سری نگر سمیت کئی علاقوں میں شہریوں کی نقل وحرکت پر پابندی لگا دی تھی ادھرمقبوضہ کشمیر میں شہریوں کی شہادتوں کے خلاف بدھ کو ہڑتال کے نتیجے میں عام زندگی معطل ہو رہ گئی۔یہ ہڑتال کشمیری قیدیوں کو وادی سے باہر کی جیلوں میں منتقل کرنے کے خلاف کی گئی ہڑتا ل کی کال سید علی گیلانی ، میر واعظ عمر فاروق اور محمد یسین ملک پر مشتمل مشترکہ مزاحمتی قیادت نے دی تھی ۔ اس کے علاوہ جنوبی ضلع شوپیاں میں فوج کے ہاتھوں شہادتوں کے تناظر میں مزاحتمی قیادت نے شوپیاں چلو کی کال بھی دی تھی تاہم حکام نے میر واعظ عمر فاروق کو انکے گھر میں نظر بند کیا ہے اور محمد یسین ملک کو گرفتار کرکے سرینگر سینٹرل جیل میں منتقل کردیا گیا ہے۔جبکہ سید علی گیلانی حسب دستور گھر پر نظر بند ہیں۔ بھارتی فورسز نے طاقت کا استعمال کرکے شوپیاں چلو کال ناکام بنادی ۔ مشترکہ قیادت نے چھے شہریوں کے لواحقین کے ساتھ اظہار تعزیت کرنے کے لئے عوام کو شوپیاں پہنچنے کے لئے کہا تھا۔تاہم حکام نے شہر کے بعض حساس علاقوں میں فورسز کی بھاری تعیناتی عمل میں لاتے ہوئے ، عوام کی نقل و حرکت روک دی ہے۔ ان علاقوں میں گاڑیوں کی نقل و حرکت روکنے کے لئے سڑکوں پر خار دار تاریں بچھادی گئی ہیں۔ اس دوران شوپیان اور پلوامہ اضلاع میں موبائیل انٹرنیٹ خدمات منقطع اور بارہمولہ سے بانہال تک چلنے والی ریل سروس دوسرے دن بھی معطل رہی۔ شوپیان میں پنجورہ اورپہنوکے لوگوں نے فوجی کیمپ ہٹانے کے حق میں زورداراحتجاج کیاجبکہ قصبہ شوپیان اور پلوامہ میں فورسز اور نوجوانوں کے درمیان سنگباری اورآنسوگیس کا استعمال ہوا۔ جنوبی کشمیر کے چاروں اضلاع میں دوسرے روز بھی ہڑتال جاری رہی ،جس کی وجہ سے عام زندگی پٹری سے نیچے اتری۔شوپیان ،پلوامہ ،کولگام اوراسلام آباداضلاع کے قصبہ جات اوردیگرعلاقوں میں بازاراورکاروباری مراکزبندرہے جبکہ بیشترشاہراہوں اورسڑکوں سے مسافرگاڑیاں غائب رہیں ۔ سرکاری دفاتر میں بھی کام کاج متاثر رہا۔ ریلوے حکام نے احتیاطی طورپردوسرے روزبھی ریل سروس کومعطل رکھاجبکہ جنوبی کشمیرمیں موبائل انٹرنیٹ خدمات پرقدغن جاری رہی۔ریلوے حکام نے بتایاکہ ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر ریلوے سروس معطل رکھی گئی فوج کے ہاتھوں مرنے والوں کے علاقے سوگ میں ڈوبے ہوئے ہیں اور وہاں ہر طرف چیخ و پکار کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں جبکہ چوراہوں پر ماتمی جھنڈے آویزان کرنے کے علاوہ کئی مقامات پر سبز ہلالی پرچم بھی آویزان کئے گئے تھے۔دن بھر جاری رہنے والی تعزیتی مجالس میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کرکے پسماندگان کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنے کے علاوہ مہلوکین کے حق میں دعائے مغفرت بھی کی۔ ہڑتا ل کے بیچ پنجورہ شوپیاں میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے سڑ کوں پر نکل کراحتجاج کیا ۔فوجی کیمپ ہٹانے کی مانگ کرتے ہوئے پنجورہ اورپہنوکے لوگوں نے زورداراحتجاج کیا۔ پہنو،پنجورہ اوردیگرنزدیکی دیہات کے لوگ بڑی تعدادمیں یہاں جمع ہوئے اورانہوں نے آرمی کیمپ ہٹانے کی مانگ کولیکرآوازبلندکی ۔مظاہرین مطا لبہ کررہے تھے کہ علاقہ میں موجود اس کیمپ کو جلد از جلد ہٹا لینا چاہیے۔۔ادھرشوپیان قصبہ میں ڈی سی آفس کے نزدیک مشتعل مظاہرین اورفورسزکے درمیان سنگباری اورآنسوگیس کے گولوں کاتبادلہ ہوا۔ احتجاجی مظاہروں کے پیش نظرقصبہ شوپیان میں تعینات پولیس وفورسزاہلکاروں کواسوقت حرکت میں آناپڑاجب یہاں مشتعل نوجوانوں نے ڈی سی آفس کے قریب سنگباری شروع کردی ۔ احتجاجی نوجوانوں کومنتشرکرنے کیلئے سیکورٹی اہلکاروں نے آنسوگیس کے گولے داغے ۔ پلوامہ کالج روڈ پرمیں اس وقت تشدد بھڑک اٹھا جب نوجوانوں نے سڑکوں پر آکر احتجاجی مظاہرے کئے اور سیکورٹی فوسز پر پتھرائو کیا۔
