جنڈ: دو مختلف واقعات میں طلبہ سمیت3 افراد قتل 

جنڈ: دومختلف واقعات میں دسویں کلاس کی طالبہ سمیت 3افراد قتل صبح کے اوقات میں ایک طالبہ اور اس کے کزن کو آتشیں اسلحہ سے فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا جبکہ دوسرے واقعہ میں چار روز قبل لاپتہ ہونے شخص کی نعش جنڈ مکھڈ روڈ ایک خالی پلاٹ سے مل گئی تفصیلات کے مطابق صبح تقریباً ساڑھے سات بجے جنڈ کے نواحی گاؤں کھڑیوٹ کی رہائشی گورنمنٹ گرلز ہائی سکول جنڈمیں دسویں جماعت کی طالبہ ،مسماۃ (ا،س) دختر محمد ارشد اور پڑوٹ کے رہائشی مقتولہ کے پھوپھی زاد بھائی عابدزعفران ولدمحمد اسلم کو محلہ رحمانیہ کی ایک گلی میں موٹر آتشیں اسلحہ سے فائرنگ کرکے قتل کر دیا گیا واقعے کی اطلاع ملتے ہی ایس ایچ او تھانہ جنڈ ملک نثار احمد اپنے پولیس ملازمین کے ہمراہ جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔مقتولین کی نعشوںکوضروری کاروائی کے بعد پوسٹ مارٹم کیلئے ٹی ایچ کیو جنڈ لے جایا گیاہے۔  جہاں پر پوسٹ مارٹم کے بعد نعشوں کو ورثاء کے حوالے کر دیا گیا علاوہ ازیں ایک اور ذرائع کے مطابق یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ لڑکے نے لڑکی کو گولی مار کر خود کشی کی ہے ۔ پولیس مصروف تفتیش ہے حتمی رپورٹ پولیس کی تفتیش کے بعد ہی منظر عام پر آ سکتی ہے۔جبکہ چار روز قبل لاپتہ ہونے والے شخص کی نعش برآمد جنڈ محلہ گوڑا کا رہائشی غلام اکبر ولد نذیر احمد جو پلمبرتھا لواحقین کے بیان کے مطابق 29اگست کو شام پانچ بجے ایک نامعلوم کال آنے پر گھر سے نکلا اور گھر واپس نہیں آیا جس کی گمشدگی کی درخواست اس کے ورثاء نے تھانہ جنڈ میں دے رکھی تھی ورثاء سے ملنے والی معلومات پر پولیس تفتیش کر رہی تھی کہ آج دن کو ٹی ایچ کیو ہسپتال جنڈ سے آگے مکھڈ روڈ کے قریب خالی پلاٹ سے مذکورہ شخص کی نعش برآمد ہوئی واقعہ کی اطلاع ملتے ہی تھانہ جنڈ پولیس موقع پر پہنچ گئی ، ضروری کارروائی کے بعدنعش کو پوسٹ مارٹم کے لئے ٹی ایچ کیو ہسپتال جنڈ منتقل کیا گیا ، پوسٹ مارٹم کے بعد نعش کو ورثاء کے حوالے کر دیا گیاپولیس تھانہ جنڈ نے وقوعہ کی تحقیقات شروع کر دی ہے ڈی پی او اٹک نے طالبہ کے قتل کا نوٹس لیتے ہوئے جنڈ تھانے کا بھی دورہ کیا اور پولیس تھانہ جنڈ کو ہدایات جاری کر دی ہیںکہ دونوں واقعات کے حقائق تک پہنچ کر ملزمان کو گرفتار جلد از جلد گرفتار کیا جائے۔