حکومت کی تاجر کش پالیسیوں کیخلاف مرکزی انجمن تاجران اٹک کا بھی احتجاج

مرکزی انجمن تاجران اٹک کے زیر اہتمام احتجاجی ریلی نکالی جا رہی ہے جبکہ دوسری طرف ہڑتال کے موقع پر کاروباری مراکز بند ہیں

 تاجروں سے سلوک یوگنڈہ کی طرح کیا جا رہا ہے جو کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا، تاجران

اٹک :حکومت کی تاجر کش پالیسیوں کے خلاف آل پاکستان انجمن تاجران و مرکزی انجمن تاجران اٹک کے زیر اہتمام ملک بھر کی تاجر تنظیموں کے متفقہ فیصلوں کے مطابق اٹک کی تاریخ کی سب سے کامیاب شٹر ڈائون ہڑتال کی گئی جس کی کامیابی کا سہرا صدر مرکزی انجمن تاجران اٹک راشد الرحمان خان ، ان کے دیگر عہدیداران اور ذیلی تنظیموں کو جاتا ہے۔

 جنہوں نے مختصر کال پر کامیاب ہڑتال کرا کے تاریخ رقم کی ، منگل کے روز نماز فجر کے بعد سے ہی درجنوں تاجر رہنما صدر مرکزی انجمن تاجران راشد الرحمان خان کی قیادت میں اٹک کے تمام تجارتی مراکز ، بازاروں اور دیگر مقامات پر گئے ۔

 اٹک کے تاریخی مقام فوارہ چوک اور اس کے چاروں اطراف میں جانے والے بازار سول بازار ، اردو بازار ، مدنی روڈ اور حبیب بینک روڈ ، مینا بازار ، لنڈا بازار اور اٹک کے دیگر ہزاروں دکانوں پر مشتمل اور بلاک پر مشتمل تجارتی مراکز ، صرافہ بازار ، برق روڈ ، منصب چوک ، محمد اکبر یوسف زئی روڈ ، ستار چوک ، کشمیر چوک ( گیدڑ چوک ) ، مدنی چوک ، کمیٹی چوک ، شیرانوالہ چوک ، ٹرک اڈہ ، کاملپور سیدان ، صدر بازار اٹک کینٹ ، مارکیٹ پیپلز کالونی ، اٹک تین میلہ روڈ ، مارکیٹ دارالسلام کالونی ، اٹک بسال روڈ ، اٹک فتح جنگ روڈ ، اٹک مرزا روڈ ، گورا قبرستان چوک ، ڈھوک فتح روڈ ، پلیڈر لین ، ;66; بلاک چوک ، ;68; بلاک چوک ، ;70; بلاک چوک ، پرانی سبزی منڈی چوک ، صدیقی روڈ سمیت دیگر تجارتی مراکز میں موجود ہزاروں دکانوں میں کام کرنے والے موبائل فون ، کریانہ مرچنٹ ، منیاری ، میڈیکل سٹورز ، سویٹ اینڈ بیکرز ، ہوٹل ، صرافہ ، تندور اور ہر قسم کا کاروبار کرنے والوں نے اپنی دکانیں بند کر کے تاجروں کے خلاف حکومتی اقدامات پر اپنے جذبات اور رائے کا اظہار کیا صدر انجمن تاجران راشد الرحمان خان کی ہڑتال کی اپیل پر صدر کیمسٹ اینڈ ڈرگسٹ ایسوسی ایشن طارق محمود کی کال پر تمام میڈیکل سٹورز اور اکثر کلینک بند رہے۔

 جبکہ حاجی محمد اکرم خان کی قیادت میں سبزی فروٹ منڈی میں کوئی بھی آڑھتی بیرون شہر سے کسی قسم کا کوئی سبزی اور فروٹ لے کر نہیں آئے اور صرف گرد و نواح کے دیہات سے آنے والی کچی سبزی کو ہڑتال میں اظہار یکجہتی کے سبب بغیر بولی کے فروخت کیا صدر پولٹری ایسوسی ایشن حاجی محمد ادریس کی قیادت میں تمام مرغ فروشوں نے منگل کے روز مرغ منڈی بند رکھی بلکہ اپنی دکانیں بھی بند کر کے ہڑتال میں شامل ہوئے اسی طرح صدر نان بائی ایسوسی ایشن نادر خان کی کال پر اٹک اور گرد و نواح کے تمام نان بائیوں نے اپنے تندور بند رکھے صدر صرافہ ایسوسی ایشن محمد افتخار احمد ، جنرل سیکرٹری چوہدری افتخار ہپو کی کال پر تمام صرافہ کی دکانیں بند رہیں اور صرافہ بازار میں ھو کا عالم تھا صدر ہوٹل ایسوسی ایشن نسیم بٹ ، جنرل سیکرٹری محمد اکرام کی کال پر تمام ہوٹل بند رہے صدر سویٹ اینڈ بیکرز میجر ( ر ) محمد اصغر اور جنرل سیکرٹری محمد شکیل کی کال پر تمام سویٹ اینڈ بیکرز نے مکمل ہڑتال کی صدر مینا بازار ایسوسی ایشن محمد ساجد اور تاجر وقار قاری کی کال پر مینا بازار اور گرد و نواح کے تمام تجارتی مراکز بند رہے ۔

صدر مرکزی انجمن تاجران اٹک راشد الرحمان خان اور دیگر تاجر رہنمائوں نے مختلف علاقوں کے دورے کیے تو دکانیں بند کر کے تجارتی مراکز میں موجود تاجروں نے انہیں اپنی بھرپور حمایت کا یقین دلاتے ہوئے مکمل ہڑتال کر کے حکومت کی تاجر کش پالیسیوں اور ایف بی آر کے 22 ہزار ملازمین کی لوٹ کھسوٹ کے خلاف تاریخی عدم اعتماد کا اظہار کیا یاد رہے کہ عام انتخابات میں اٹک سے قومی و صوبائی اسمبلی کی 7 نشستوں میں سے 6 پر تحریک انصاف نے کامیابی حاصل کی تھی تاہم وزیر اعظم عمران خان اور ان کی کابینہ کی جانب سے عوام کو کسی قسم کا کوئی ریلیف فراہم نہ کرنے اور ایف بی آر سمیت قومی خزانہ آئی ایم ایف کے ہاتھوں گروی رکھنے جس کے سبب آئے روز حکومت اور ایف بی آر کے تاجر کش اقدامات سے تاجر برادری انتہائی نالاں ہیں اور یہ ہڑتال کی کامیابی تحریک انصاف کی حکومت کی ناکام معاشی پالیسیوں کا منہ بولتا ثبوت ثابت ہوا ہے بعدازاں صدر مرکزی انجمن تاجران اٹک راشد الرحمان خان نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ آل پاکستان انجمن تاجران اور دیگر تاجر تنظی میں حکومت کی تاجر کش پالیسیوں کے خلاف عرصہ دراز سے سراپا احتجاج ہیں کاروبار میں شدید مندے اور خسارے باوجود اپنے کاروبار بند کرنے پر مجبور ہیں انہوں نے کہا کہ ہمارے مطالبات یہ ہیں کہ ٹرن اوور ٹیکس کو 1;46;50 فیصد کی بجائے 0;46;25 فیصد کیا جائے خریدار سے شناختی کارڈ کا حصول ختم ، دکانوں کے رقبہ کے لحاظ سے انکم ٹیکس نفاذ کے بجائے فکس ٹیکس سکیم نافذ کی جائے ، ہول سیلرز اور چھوٹے دکانداروں کیلئے سیلز ٹیکس میں رجسٹریشن کے قانون کا نفاذ واپس لیا جائے ، سبزی منڈی، فروٹ منڈی ، غلہ منڈی کے آرتیوں پر نئے لگائے گئے ٹیکس اور لائسنس فیس میں بھاری اضافہ واپس لیا جائے ، پچھلے 6 سالوں کی پوچھ گچھ سے تحفظ اور آئندہ ٹیکس آڈٹ سے استثناء دیا جائے چھوٹے تاجروں کے چھوٹے اثاثوں ، دکان ، مکان ، پلاٹ اور چھوٹی جو ظاہر نہیں کیے گئے ان کو ویلتھ سٹیٹمنٹ میں ریگولر کیا جائے ، جیولرز کو سیلز ٹیکس سے استثناء ، تاجر کو ودہولڈنگ ٹیکس ایجنٹ بنانے کے فیصلے کی واپسی اور استعمال شدہ موبائل کے بزنس کی بحالی کیلئے ٹھوس اقدامات کئے جائیں انہوں نے کہا کہ حکومت ایف بی آر سے 22 ہزار ملازمین جنہیں دیگر سرکاری ملازمین کے مقابلے میں دگنی تنخواہیں اور مراعات حاصل ہیں انہیں فارغ کر کے فکسڈ ٹیکس کا نفاذ کیا جائے تو قومی خزانے سے بوجھ کم ہونے کے علاوہ حکومت کے ریونیو میں واضح اضافہ ہو گا کیونکہ تاجر ٹیکس دینا چاہتے ہیں حکومت کا ٹیکس کا نظام انتہائی پیچیدہ اور اسے انگریزی زبان میں تحریر کیا گیا ہے جو ملک کی اکثریتی تاجر برادری کی سمجھ سے بالا تر ہے اسے قومی زبان اردو میں تحریر کر کے ایف بی آر کے کرپٹ عملہ کے خلاف سخت کاروائی کی جائے تاجر پر امن اور سادے لوگ ہیں آئی ایم ایف کے ایجنڈے پر عمل نہیں کر سکتے حکومت تاجروں سے ٹیکس امریکہ اور یورپ کی طرح کا وصول کرنے کی خواہشمند ہے اور تاجروں سے سلوک یوگنڈہ کی طرح کیا جا رہا ہے جو کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا ۔