ایک ماہ پہلے قتل ہونیوالے لاش قاتل کی نشاندہی پربرآمد

ایک ماہ قبل پر اسرار طریقہ سے لاپتہ ہونے والے رکشہ ڈرائیور کی لاش برآمد ، دوملزمان گرفتار
اٹک (ڈیلی اٹک نیوز ویب) ایک ماہ قبل پر اسرار طریقہ سے لاپتہ ہونے والے رکشہ ڈرائیور کی لاش برآمد ہونے پر اٹک پولیس نے اپنی کارکردگی دکھانے کیلئے 31 روز بعد اغواء برائے تاوان کا مقدمہ درج کر لیا جس میں بعدازاں قتل کی دفعات کو شامل کیا جائے گا تفصیلات کے مطابق گل فراز ولد عمراز خان ساکن محلہ محمود آباد نے تھانہ اٹک سٹی میں درخواست دی کہ اس نے اپنے 32 سالہ بیٹے میاں گل عرفان عرف خٹک کو چنگ چی رکشہ خرید کر دیا جس پر وہ محنت مزدوری کرتا اور روزانہ واپس گھر آ جاتا 21 دسمبر 2019 ء کو حسب معمول وہ رکشہ لے کر گیا اور واپس نہ آیا جس پر میں نے 23 دسمبر 2019 ء کو اپنے بیٹے کی گمشدگی کی رپٹ تھانہ اٹک سٹی میں درج کرا دی اور بیٹے کی تلاش جاری رکھی اس کا موبائل 21 دسمبر 2019 ء سے مسلسل بند مل رہا تھا میرا شبہ ہے کہ میرے بیٹے کو ذیشان ، عدنان پسران غلام جیلانی سکنائے محلہ سردار گڑھی شکردرہ حضرت محمد ولد حکیم خان سکنہ محلہ نور ، شعیب اشرف ولد محمد اشرف ساکن محلہ ٹالی موری راولپنڈی نے اغواء کر رکھا ہے پولیس نے 21 جنوری کو زیر دفعہ 365 ت پ کے تحت مقدمہ درج کر لیا ڈی پی او آفس سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق ڈی پی او سید خالد ہمدانی نے رکشہ ڈرائیور کی گمشدگی کا خصوصی نوٹس لیتے ہوئے ڈی ایس پی صدر عبدالرحمن کی سربراہی میں ایس ایچ او تھانہ اٹک سٹی حاجی گل فراز ، سب انسپکٹر عبدالوعظ اور سب انسپکٹر جہانزیب خان پر مشتمل ٹیم تشکیل دی ۔
جنہوں نے دن رات محنت کر کے اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے میاں گل عر ف خٹک کو اغواء کے بعد قتل کرنے والے 2 ملزمان حضرت محمد ولد حکیم خان سکنہ محلہ نور اٹک ، عدنان پسران ولد غلام جیلانی سکنہ محلہ سردار گڑھی شکردرہ کو گرفتار کر لیا پولیس نے دوران تفتیش ملزمان کے انکشاف پر مقتول میاں گل عرف خٹک کی لاش کالا چٹا پہاڑ میں واقع شکردرہ ڈیم نندنا ہرو سے برآمد کی اور ریسکیو 1122 کی غوطہ خور ٹیم نے لاش کو دریا سے نکال کر پوسٹ مارٹم کیلئے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال اٹک منتقل کیا اور پولیس نے رکشہ نمبر اور ایک موبائل برآمد کیا مقدمہ قتل کی تفتیش انچارج ایچ آئی یو صدر سرکل سب انسپکٹر عظمت حیات کر رہے ہیں ۔
