بھاگنے والے بھاگ گئے ہم سرخرو ہو کر نکلیں گے،عدلیہ آمروں کو تحفظ دیتی ہے،نوازشریف

اسلام آباد(اے بی سی نیوز)سابق وزیراعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ عدالتوں کا پہلے بھی سامنا کیا اور آئندہ بھی عدالتوں میں پیش ہوں گے جب کہ موجودہ حالات سے سرخرو ہو کر نکلیں گے۔سابق وزیراعظم نواز شریف احتساب عدالت میں پیشی اور پنجاب ہاس میں پارٹی رہنماں اور دیگر سے ملاقات کے بعد صاحبزادی مریم نواز کے ہمراہ مری کے لئے روانہ ہوگئے۔پنجاب ہاس میں نواز شریف نے پارٹی رہنماں سے غیررسمی گفتگو کے دوران کہا کہ عوام کے ساتھ ایک رشتہ قائم ہے اور امید ہے کہ عوام ایک بار پھر اعتماد کریں گے، 7 سال کی جلاوطنی بھی عوام سے رشتہ نہ توڑ سکی۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات سے سرخرو ہو کر نکلیں گے، عدالتوں کا پہلے بھی سامنا کیا اور آئندہ بھی عدالتوں میں پیش ہوں گے۔نواز شریف نے کہا کہ عدالتوں سے بھاگنے والے اور لوگ ہیں، جنہوں نے بھاگنا تھا وہ بھاگ گئے ہیں۔سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہمیشہ حق کا ساتھ دیا، ہماری وجہ سے آج عدلیہ آزاد ہے لیکن سمجھ سے بالاتر ہے کہ عدلیہ غیر جمہوری حکمرانوں کو ویلکم کرتی ہے، عدلیہ آمروں کو قانونی تحفظ اور آئین میں ترامیم کی اجازت دیتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ سمجھ سے باہر ہے کہ کس چیز کی سزا دی گئی، ترقی کرتے ملک کو غیر مستحکم کردیا گیا، عوام کے پاس جارہا ہوں، جگہ جگہ لوگوں کو بتاں گا کہ کیسے ترقی کرتے پاکستان کو پٹری سے اتارا گیا، توقع ہے کہ عدالتوں سے انصاف ملے۔خیال رہے کہ احتساب عدالت شریف خاندان کے خلاف تین نیب ریفرنسز کی 10 سماعتیں کرچکی ہے جب کہ سابق وزیراعظم نواز شریف 4 مرتبہ عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔

اسلام آباد(صباح نیوز)اسلام آباد کی احتساب عدالت نے قومی احتساب بیورو(نیب)کی جانب سے غیر قانونی اثاثے بنانے کے خلاف دائرتین ریفرنسز کو یکجا کرنے کے حوالے سے سابق وزیرِاعظم نواز شریف کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا جسے   آج( بدھ کو )سنایا  جائے گا۔منگل کو سابق وزیراعظم نوازشریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر)صفدر ا سلام آباد کی احتساب عدالت میں پیش ہوئے ۔منگل کو احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے شریف خاندان کے خلاف بیرون ملک جائیدادوں سے متعلق ریفرنسز کی سماعت کی۔سماعت کے دوران سابق وزیراعظم کے وکیل خواجہ حارث نے تین نیب ریفرنسز کو یکجا کرنے پر دلائل دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ تینوں ریفرنسز میں آمدن سے زائد اثاثے بنانے کا الزام ہے اور تمام ریفرنسز ایک ہی انکوائری اور تحقیقات کے نتیجے میں بنائے گئے جس میں الزام ہے کہ اثاثے نواز شریف کی ملکیت اور حسن و حسین نواز بے نامی دار ہیں۔احتساب عدالت میں نواز شریف کے وکیل حارث نے شریف خاندان کے افراد کے خلاف ریفرنسز کی چارج شیٹ عدالت میں پڑھ کر سنائی۔خواجہ حارث نے تمام ریفرنسز کو یکجا کرنے کی درخواست پر دلائل دیتے ہوئے کہا کہ فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنسز میں استغاثہ کے 9گواہان ہیں اور عزیزیہ اسٹیل ملز سے متعلق نیب ریفرنس میں 13گواہان جبکہ ان میں سے 6گواہان مشترک ہیں اس کے علاوہ ایون فیلڈ اپارٹمنٹ سے متعلق ریفرنس کے بھی 3گواہان مذکورہ ریفرنسز میں مشترک ہیں۔خواجہ حارث نے کہا کہ ایک ریفرنس کے بعد دوسرے ریفرنس میں گواہ کو وکیل کے سوالات کا اندازہ ہوجائے گا،لہذا ایک ہی گواہ سے مختلف ریفرنسز میں بیان قلمبند کیا گیا تو گواہ کو وقت مل جائے گا، اور قوی امکان ہے کہ وہ اپنا بیان بدل سکتا ہے۔انہوں نے اپنے دلائل کے دوران کہا کہ احتساب عدالت کو اختیار حاصل ہے کہ وہ ریفرنسز کو یکجا کرکے کارروائی آگے بڑھائے اور اس سلسلے میں ریفرنسز تین ہی رہیں لیکن ٹرائل ایک چلایا جائے اور مرکزی ریفرنس کے ٹرائل کے بعد الزام ثابت ہوجاتا ہے تو ایک سزا سنائی جائے۔وکیل نے دلائل میں کہا کہ تینوں ریفرنسز میں ڈیفنس ایک ہی ہے، کیسز کی نوعیت بھی ایک ہے اور پراسیکیوشن بھی، اس لئے تین کے بجائے ایک ہی ریفرنس چلا کر کارروائی مکمل کی جائے۔احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے ریمارکس دئیے کہ ہائیکورٹ نے نیب آرڈیننس کے سیکشن 17 ڈی کے تحت درخواست نمٹانے کا حکم دیا ہے۔خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ ریفرنسز کا دفاع ایک جیسا ہے،اس مو قع پر خواجہ حارث نے مختلف کیسز کے حوالے بھی پیش کیے ۔انہوں نے نیٹو کنٹینرز سے متعلق کیس کا حوالہ بھی دیا اور کہا کہ نیٹو کنٹینرز کیس میں سندھ ہائیکورٹ نے49 ریفرنسز یکجا کرنے کا فیصلہ سنایا تھا۔ان کامزید کہنا تھا کہ جوائنٹ ٹرائل کا مطلب ہے تینوں ریفرنسزاکٹھا کرکے ایک فرد جرم عائد کی جائے۔جس پر جج احتساب عدالت کے کہا کہ آپ کہتے ہیں کہ ریفرنسز تین ہوں گے مگر چارج ایک ہی فریم کیا جائے؟ جس کے جواب میں خواجہ حارث کے کہا کہ ایک ہی الزام پر متعدد ریفرنسز پر سماعت شفاف ٹرائل نہیں ہو گا۔سماعت کے دوران نیب استغاثہ نے دلائل کے لیے کچھ وقت مانگا جس کے بعد سماعت کچھ دیر کے لیے ملتوی کردی گئی۔تاہم وہاں موجود نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر نے کہا کہ چونکہ تینوں ریفرنسز نیب نے خود نہیں بنائے بلکہ سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں بنائے گئے ہیں اس لیے عدالت اس میں کچھ نہیں کر سکتی۔عدالت نے سماعت کے دوران وقفہ دیا اور اس موقع پرعدالت نے نواز شریف سے کہا کہ اگر آپ جانا چاہتے ہیں تو جا سکتے ہیں۔ جس کے بعد نواز شریف، ان کی بیٹی اور داماد عدالت سے چلے گئے۔ احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے نواز شریف کی تین ریفرنسز یکجا کرنے کی درخواست کی سماعت پر دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے سماعت  آج( بدھ ) تک کے لئے ملتوی کردی۔سابق وزیراعظم کی احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر فیڈرل جوڈیشل کمپلیکس میں اور اس کے اطراف سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے۔اسلام آباد میں ایس ایس پی سیکیورٹی جمیل احمدہاشمی کافیڈرل جوڈیشل کمپلیکس کادورہ کیا اور عمارت کی سیکیورٹی صورتحال کاجائزہ بھی لیا۔سابق وزیر اعظم نواز شریف جب پنجاب ہائوس سے جب احتساب عدالت کے لیے روانہ ہوئے تو مئیر اسلام آباد، امیر مقام، تہمینہ دولتانہ اور دیگر رہنماپنجاب ہائوس میں موجود تھے۔