ریاستی عوم امن پسند،حکومت کی کارکردگی صفر ہے،جاوید ایوب

مظفرآباد(وقائع نگار)پاکستان پیپلز پارٹی ازادکشمیر کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات و سابق وزیر حکومت ازادکشمیر سردار جاوید ایوب نے کہا ہے کہ علامہ سید تصور حسین نقوی اور ان کی اہلیہ پر قاتلانہ حملے کو ایک سال ہو چکا مگر حملہ اور تاحال قانون کی گرفت سے دور ہیں، جو انتظامیہ اور موجودہ حکومت کی نا اہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔دن دیہاڑے ایک عالم دین کو گولیوں سے چھلنی کیا گیا اور حملہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی انکھوں میں دھول جھونکتے ہوئے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ اگر قانون نافذ کرنیوالے ادارے ذمہ داری سے اپنے فرائض سرانجام دیں تودارلحکومت سے باہر بھاگنا کسی کے بس میں نہیں ۔ ایک سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود حملہ اوروں کا سراغ نہ ملنا بہت سے سوالات کو جنم دے رہا ہے ۔اس خطے میں اگر ایک داعی اتحاد بین المسلمین عالم دین محفوظ نہیں تو ریاست کا کوئی بھی شہری خود کو محفوظ سمجھنے کی بھول نہیں کر سکتا۔علامہ جوادی پر حملے کو ایک سال مکمل ہونے پر   گفتگو کرتے ہوئے سردار جاوید ایوب کا کہنا تھا کہ علامہ تصور حسین نقوی الجوادی سے بہت گہرے مراسم ہیں ایسی شخصیات ملک و ملت کا سرمایہ ہوا کرتی ہیں ، ان پر حملہ ریاست کے امن ، اتحاد اور بھائی چارے کو پارہ پارہ کرنے کی منظم سازش تھی جسے ریاست کے باشعور اور امن پسند عوام نے ناکام بنایا ۔مگر دوسری جانب حکومت اور انتظامیہ کی کارکردگی انتہائی مایوس کن ہے، علامہ تصور حسین نقوی الجوادی کو انصاف فراہم کیا جائے بصورت دیگر انصاف کے حصول کے لئے چلنے والی مہم کا بھر پور ساتھ دیں گے اور حملہ اوروں کی گرفتاری تک خاموش نہیں بیٹھیں گے۔