ہتک عزت کا دعویٰ: علی ظفر نے میشا شفیع کیخلاف عدالت میں دستاویزات پیش کردیں

لاہور: گلوکار علی ظفر کی جانب سے گلوکارہ و ماڈل میشا شفیع کے خلاف ہتک عزت کے دعوے کے کیس کی سماعت کے دوران دستاویزات عدالت میں پیش کردیں۔ علی ظفر سیشن کورٹ لاہور میں آج  میشا شفیع کے خلاف دستاویزات کے ساتھ پیش ہوئے اور سوشل میڈیا پر دھمکیوں والے پوسٹ بھی عدالت میں جمع کروائے۔ سماعت کے دوران علی ظفر نے مؤقف اختیار کیا کہ میشا شفیع نے ایک منظم سازش کے تحت ان کی فلم (طیفا اِن ٹربل) سے پہلے انہیں نشانہ بنایا اور ان کیخلاف مہم چلانے کے لیے سوشل میڈیا کے جعلی اکاؤنٹس کو بھی استعمال کیا۔  انہوں نے کہا کہ 'میشا نے ایک ٹی وی شو سے پہلے پیغام بھجوایا کہ اگر میں ریکاڈنگ سے نہ نکلا تو میرے خلاف مہم چلائیں گی تاہم میرے خلاف مہم چلانے والے ہر فرد کا تعلق براہ راست میشا اور اس کے نمائندہ سے ہے۔علی ظفر کا کہنا تھا کہ کترینہ کیف سمیت بڑے بڑے ناموں کے ساتھ کام کیا ہے اور کبھی کچھ غلط نہیں کیا جب کہ میشا شفیع کے الزامات سے فیملی اور پروفیشن کو نقصان پہنچا ہے۔سیشن کورٹ میں علی ظفر کی شہادت ڈھائی گھنٹے تک جاری رہی جس کے بعد  20 منٹ کے لیے کارروائی ملتوی کردی ہے۔واضح رہے کہ میشا شفیع کی جانب سے جنسی ہراساں کیے جانے کے الزام کے بعد علی ظفر نے گلوکارہ پر ہتک عزت کا دعویٰ دائر کیا ہے جس کی سماعت ایڈیشنل سیشن جج شکیل احمد گزشتہ 8 ماہ سے کررہے ہیں۔گزشتہ سماعتوں کے دوران 9 گواہ پہلے ہی علی ظفر کے حق میں عدالت میں بیان جمع کرواچکے ہیں۔