پنڈی گھیب ،ڈیلیوری کے دوران عطائی ڈاکٹر نے خاتون کی جان لے لی

پنڈیگھیب (مانیٹرنگ ڈیسک) پنڈی گھیب کے پرائیوٹ کلینک میں سی-سیکشن ڈیلیوری کے دوران عطائی ڈاکٹر نے خاتون کی جان لے لی چند پیسوں کی لالچ کے لیئے ایک ٹیکنیشن کو سرجن ڈاکٹر کے طور پر متعارف کروا کر ہزاروں روپے بٹور لیئے گئے جبکہ بڑے آپریشن کے دوران خاتون کی بڑی آنت پر کٹ لگا دیا گیا جسم میں انفیکشن پھیلنے پر خاتون 15 روز زندگی اور موت کی کشمکش میں رہنے کے بعد وفات پا گئی خاتون 2 معصوم بچوں اور ایک نوزائیدہ بچی کی ماں تھی تفصیلات : صدر بار ایسوسی ایشن پنڈی گھیب خرم شہزاد ایڈووکیٹ نے تھانہ پنڈی گھیب میں ایف آئی آر درج کرواتے ہوئے موقف اپنایا کہ عرصہ دراز سے اسکی جان پہچان لیاقت عثمان نامی شخص سے ہے جس نے اپنی زوجہ کوثر کے ہمراہ محلہ سول ہسپتال پنڈی گھیب میں صباء کلینک و میٹرنٹی سنٹر بنا رکھا ہے حالیہ وباء کے پیش نظر اُس نے لیاقت عثمان سے اپنی بھابھی کی ڈیلیوری کے حوالے سے پریشانی کا اظہار کیا تو اس نے اپنی زوجہ کوثر کے ہمراہ ہمیں باور کرایا کہ اسکے کلینک (صباء کلینک و میٹرنٹی سنٹر) میں خاتون گائنا کالوجسٹ اور سرجن ڈاکٹر ذوالفقار ساکن تلہ گنگ موجود ہے ، کورونا وائرس کیوجہ سے لاک ڈاؤن کے دوران ہسپتال بند ہونے کیوجہ سے ہم نے مذکورہ کلینک میں ڈیلیوری کرانے کا فیصلہ کیا 17 اپریل کو اپنے بھائی،بھابھی اور ایک عزیزہ خاتون کے ہمراہ صباء کلینک و میٹرنٹی سنٹر پہنچا جہاں پر میری بھابھی کی سی-سیکشن ڈیلیوری ہوئی
مگر اسوقت کوئی لیڈی گائناکالوجسٹ موقع پر موجود نہ تھی جبکہ لیاقت عثمان نے ذوالفقار نامی شخص کا تعارف ماہر سرجن ڈاکٹر کے طور پر کرایا ، بعد ازاں بیٹی پیدا ہونے کے بعد ڈسچارج کاغذات دیئے گئے تو اس پر ڈاکٹر قراۃ العین کے دستخط موجود تھے ، معلوم کرنے پر جواب دیا گیا کہ یہ آپکے متعلقہ نہیں یے ، بھابھی کو گھر لیکر آنے کے بعد 21 اپریل کو انکی طبیعت بگڑ گئی جس پر انہیں چیک اپ کے لیئے دوبارہ اسی کلینک لایا گیا مگر طفل تسلی کے علاوہ کچھ حاصل نہ ہوا 22 اپریل کو مزید طبیعت کی خرابی پر انہیں بے نظیر بھٹو ہسپتال راولپنڈی لیجایا گیا جہاں پر انکی سرجری کی گئی تو معلوم ہوا کہ سی-سیکشن آپریشن کے دوران سرجن ڈاکٹر ذوالفقار نے غفلت ، لاپرواہی اور ناتجربہ کے باعث بڑی آنت پر کٹ لگا دیا ہے اور یہ سارا معاملہ ہم سے پوشیدہ رکھا ہوا ہے اور اب انفیکشن پورے جسم میں پھیلنے کیوجہ سے میری بھابھی septic shock میں چلی گئی ہیں اِس دوران 28 اپریل کو مسماۃ کوثر اپنے شوہر لیاقت عثمان کے ہمراہ بے نظیر بھٹو ہسپتال راولپنڈی آیا اور اقرارِ جرم کیا کہ ذوالفقار نامی شخص سرجن ڈاکٹر کے بجائے ایک OT ٹیکنیشن ہے جبکہ اسکی دختر ڈاکٹر صباء کے نام پر چلائے جانے والے کلینک میں اسکی بیوی ہی ڈیلیوری وغیرہ سرانجام دیتی ہے جس پر ہم نے انکو کہا کہ تم لوگوں نے ظلم کیا ہے دعا کرو نگہت ممتاز بچ جائے کیونکہ اسکے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں جسکے بعد وہ 15 دن موت و حیات کی کشمکش میں رہنے کے بعد 07 مئی کو وفات پا گئی ، پنڈی گھیب پولیس کے ذرائع کے مطابق خرم شہزاد ایڈووکیٹ کی درخواست پر قتل اور دھوکہ دہی کی دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے جبکہ مزید تفتیش کے بعد ملزمان کیخلاف حسبِ ضابطہ قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے گی ۔
