پلوامہ حملہ: پاکستان نے بھارتی ڈوزیئر کا جواب دے دیا

اسلام آباد: ترجمان دفترخارجہ کا کہنا ہے پاکستان نے پلوامہ حملے کے بعد بھارت کی جانب سے دیئے گئے ڈوزیئر کا جواب دے دیا۔ ترجمان دفترخارجہ ڈاکٹر محمد فیصل کے مطابق بھارتی ہائی کمشنر کو دفترخارجہ بلا کر پلوامہ حملے پر فائنڈنگ شیئر کی گئیں۔ترجمان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم پاکستان نے ٹھوس شواہد فراہم کرنے پر مکمل تعاون کی پیش کش کی تھی لیکن وزیراعظم عمران خان کی پیشکش پر بھارت نے صرف ایک صفحہ 27 فروری کو دیا۔ترجمان دفترخارجہ نے کہا کہ پاکستان نے بڑی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے تعاون کیا ہے، پاکستان خطے کی امن و سلامتی کی خاطر تعاون کرتا ہے۔ترجمان کے مطابق پاکستان نے اس معاملے پر بھارت سے مزید شواہد اور معلومات مانگی ہے۔ترجمان دفتر خارجہ کا بھارت کی جانب سے 'اینٹی سٹیلائٹ میزائل' کا تجربے پر ردعمل میں کہنا تھا کہ پاکستان خلا میں اسلحہ کی دوڑ سے اجتناب کا سخت حامی ہے کیوں کہ خلا بنی نوع انسان کی مشترکہ میراث ہے۔ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جو خلا کو فوجی مقاصد کے لئے استعمال کریں، خلا سے متعلق بین الاقوامی قوانین میں سقم دور کرنے کی اشد اضرورت ہے، اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ   پرامن سرگرمیوں کو خطرات نہ ہوں۔ ترجمان دفترخارجہ کا کہنا ہے کہ خلائی ٹیکنالوجی کا استعمال سماجی و اقتصادی ترقی کیلئے ہونا چاہیے لہٰذا خلا کو درپیش فوجی خطرات سے بچاؤ کیلئے سب مل کر کام کریں۔یاد رہے کہ 14 فروری کو مقبوضہ کشمیر کے ضلع پلوامہ میں بھارتی فوج کے کانوائے پر ہونے والے کار خودکش حملے میں 50 کے قریب فوجی ہلاک ہوئے تھے۔بھارتی حکومت اور میڈیا نے بغیر کسی تحقیقات کے پلوامہ حملے کا ملبہ پاکستان پر ڈال دیا جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا تھا۔28 فروری کو بھارت کی جانب سے پلوامہ حملے سے متعلق ڈوزئیر دفتر خارجہ کو موصول ہوا تھا۔