ارجہ،بوائز ہائی سکول چلندراٹ کی عمارت نہ ہی سٹاف،طلباء کو مشکلات

ارجہ(نمائندہ خصوصی کشمیر ٹوڈے) گورنمنٹ بوائز ہائی سکول چلندراٹ شدید مشکلات ومسائل سے دو چار عمارت ناکافی تدریسی سٹاف میں متعلقہ آسامیاں خالی ،ماضی قریب کا مثالی ادارہ آج مسائلستان بن گیا۔ نام نہاد اپ گریڈیشن تو ہوئی مگر متعلقہ آسامیاں ہنوز خالی ہیں۔ کوئی پرسان حال نہیں۔ طلباکا مستقبل تاریک ہو رہاہے۔ والدین اور اساتذہ اپنے مسائل کا رونا ہی رو رہے ہیں۔ محکمانہ غفلت کا شکار یہ ادارے کیا کار کردگی دکھائیںگے۔

آج سے 2سال پہلے جہاں طلباء کی تعداد 350سے اوپر تھی آج وہاں تقریباً150طلباء موجود ہیں۔ اور حالت ان کی بھی قابل رحم ہے۔ چلندراٹ تین تعلیمی ادارے محکمانہ اور حکومتی کارکردگی پر سوالیہ نشان بنے ہوئے ہیں۔بذریعہ اخباری بیانات اور سوشل میڈیا بھر پور فریاد کے باوجود مجاز اتھارٹیز خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ان خیالات کا اظہار نوجوان سیاسی سماجی رہنماء راجہ عامر نوازسوشل میڈیا گروپ چلندراٹ باغ اے جے کے سے قاری اشتیاق بشیر، راجہ محمد علی، اور دیگر نے صحافیوں سے اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔ ان نے کہا کہ سیاسی وسماجی قائدین وکارکنان سمیت مسلم لیگی کارکن جو علاقے کی تعمیر وترقی میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ اور انہی مشکلات ومسائل نامہ پر گزشتہ انتخابات میں بھر پور ہمدردی کا یقین دلانے کے باوجود سابق حکمرانوں کی طرح خاموش تماشائی بن گئے۔حالانکہ پیپلزپارٹی اور کانفرنسی حکومت کے بعد غربی حلقہ کے تمام مسائل موجود ہ حکمرانوں کیلئے ایک چلنچ ہے۔ بچے جوکہ کسی بھی قوم کے معمار ہوتے ہیں۔ معماران قوم کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے سے ہی ملک کی ترقی ممکن ہوسکتی ہے۔مفت تعلیم دینا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ سانحہ زلزلہ میں جہاں ہر طرف تباہی وبربادی کا منظر تھا وہاں اکثر سرکاری سکولوں وکالجز کی عمارات بھی زمین بوس ہوگئی تھیں۔ زلزلہ کے بعد پورے آزادخطہ کے اندر اربو روپے کی لاگت سے سکولوں وکالجز کی عالی شان عمارات تعمیر کی گئی مگر بدقسمتی سے گورنمنٹ بوائز ہائی سکول اورچلندراٹ دیگر سکولوں کی عمارات پر کوئی توجہ نہ دی گئی۔ عوام علاقہ ادارہ کے طلباء وطالبات ادارہ ارباب اقتدار سے مطالبہ کیا کہ گورنمنٹ بوائز ہائی سکول چلندراٹ اور دوسرے دونوں سکولوں کے طلبہ وطالبات کی حالت پر رحم کرتے ہوئے ان سکولوں کی بلڈنگ کی طرف توجہ دی  جائے۔