شامی باغیوں نے روسی جنگی طیارہ مار گرایا، پائلٹ ہلاک

شام کے شمال مغربی صوبے ادلب میں شامی باغیوں نے روسی جنگی طیارے کو مار گرایا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق شامی مبصر تنظیم برائے انسانی حقوق اور روسی وزارت دفاع کی جانب سے جاری بیان میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ باغیوں نے زمین سے فضاء میں مار کرنے والے میزائل کے ذریعے طیارے کو نشانہ بنایا۔
روسی وزارت دفاع کی جانب سے جاری بیان کے مطابق طیارہ تباہ ہونے سے قبل پائلٹ طیارے سے نکل گیا تھا۔
وزارت دفاع نے کہا کہ پائلٹ جب زمین پر پہنچا تو اس کی باغیوں سے جھڑپ ہوئی اور وہ فائرنگ کے تبادلے میں مارا گیا۔
شامی مبصر تنظییم کے سربراہ رمی عبد الرحمان کا کہنا ہے کہ جنگجوؤں نے شامی صوبے ادلب میں روس کے سخوئی 25 جنگی جہاز کو نشانہ بنا کر تباہ کیا۔
انہوں نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ کس گروپ نے روسی جہاز کو گرایا ہے تاہم اس علاقے میں حیات تحریر الشام اور دیگر گروپ سرگرم ہیں، کسی بھی گروپ کی جانب سے تاحال اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی ہے۔
گزشتہ برس دسمبر میں شامی فورسز نے روسی افواج کے ساتھ مل کر ادلب میں بڑے پیمانے پر فضائی کارروائی کا آغاز کیا تھا۔
رمی عبدالرحمان کا کہنا تھا کہ ادلب میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران روسی افواج کی جانب سے درجنوں فضائی کارروائیاں کی جا چکی ہیں اور تباہ ہونے والا جہاز بھی ان کارروائیوں میں شامل تھا۔
روس کے فضائی حملے میں 30 جنگجو ہلاک
روسی سرکاری خبر رساں ایجنسی تاس کے مطابق باغیوں کی جانب سے طیارہ گرائے جانے کے بعد روسی فضائیہ نے اس علاقے میں فضائی کارروائی کی جس کے نتیجے میں 30 جنگجو مارے گئے۔
ماضی میں بھی جنگجو شامی جہازوں کو نشانہ بنا کر تباہ کر چکے ہیں لیکن روسی جہازوں کو شازو نادر ہی نشانہ بنایا گیا ہے۔
اگست 2016 میں شام کی فضائی حدود میں ایک روسی جہاز کو فضاء میں تباہ کر دیا گیا تھا جس کے نتیجے میں اس میں سوار 5 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
روس نے شام میں فضائی کارروائیوں کا آغاز ستمبر 2015 میں کیا تھا اور دو ماہ بعد ہی ترکی نے روسی طیارے کو مار گرایا تھا جس کے باعث دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کافی کشیدہ بھی ہو گئے تھے۔
