آزادحکومت کا انوکھا فیصلہ،کنٹرول لائن پر سرکاری ملازمین کیلئے پیکیج،عوام محروم

اسلام آباد(حسیب شبیر چوہدری)آزاد کشمیر حکومت کا ایک انوکھا فیصلہ، لائن آف کنٹرول پر99فیصد سول آبادی تاحال کسی بھی پیکج سے محروم جبکہ سرکاری ملازمین  کیلئے مکان کی تعمیر کیلئے قرض فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔وزرات امور کی کشمیر کی جانب سے  لائن آف کنٹرول کے عوام کیلئے بنکرز بنانے کیلئے 6ارب کا اعلان کیا گیا تھا جس پر تاحال عملدرآمد نہیں ہو سکا ہے۔جبکہ ائیر ایمبولینسز کا اعلا ن بھی ادھورا ہے۔آزاد کشمیر میں ایل او سی پر قریباً ساڑھے پانچ لاکھ افراد آباد ہیں  جبکہ اس آبادی کا ایک فیصد سرکاری ملازمت کر رہے ہیں جن کیلئے مکان کی تعمیر کیلئے قرضوں کی فراہمی کا اعلان خوش آئند ہے مگر99فیصد عام شہری آئے روز گولہ باری میں شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں ان کیلئے حکومت کی جانب سے عملی اقدام نہ اٹھائے جانے سے عوامی حلقوں میں شدید مایوسی  پائی جاتی ہے۔عوامی حلقوں کی جانب سے حکومت کی پالیسی  پر تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے ۔حکومت کی جانب سے ایل او سی متاثرین کیلئے اقدامات نہ کرنا انتہائی مایوس کن ہے۔سرکاری ملازمین کیلئے مکان کی تعمیر کے حوالہ سے قرضوں کی فراہمی  کا فیصلہ خوش آئند ہے  مگر 99فیصد شہری جو آئے روز فائرنگ کی زد میں  ہیں  کیلئے کوئی بھی پیکج  نہیں دیا گیا ہے۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ میڈیکل کی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں جبکہ سڑکوں کی حالت اتنی بد تر ہے کہ زخمیوں کو دوسری جگہ علاج کیلئے منتقل کرنا نہایت ہی مشکل ہوتا ہے۔بنکرز بنانے کیلئے اعلانات ہوئے  اور ائیر ایمبولینس کی باتیں بھی کی گئیں مگر عملی طور پر ایک بھی اعلان  پورا نہیں کیا گیا۔عوامی حلقوں نے حکومت آزاد کشمیر سے مطالبہ کیا ہے کہ فی الفور لائن آف کنٹرول کے عوام کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کئے جائیں۔میڈیکل کی جدید سہولیات اور بنکرز کا بندوبست کیا جائے۔