غیر قانونی ادائیگیاں،شاہرات ملازمین کی مراعات روکنے کی سفارش

مظفرآباد (وقائع نگار)جموں و کشمیر پبلک اکائونٹس کمیٹی نے محکمہ تعمیرات عامہ شاہرات (سائوتھ) کی مختلف ترقیاتی سکیموں کے خلاف غیر قانونی ادائیگیوں میں ملوث آفیسران و اہلکاران کا تعین کرنے  اور ان آفیسران کی ترقیابیوں سمیت دیگر مراعات نہ دینے کی ہدائت کی ہے ۔آزاد جموں و کشمیر پبلک اکائونٹس کمیٹی اس بارے میں بارے حکومت کو  مکتوب لکھے  گی ۔ یہ فیصلہ آزاد جموں و کشمیر پبلک اکائونٹس کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا اجلاس کی صدارت کمیٹی کے چیئر مین چوہدری محمد اسحاق نے کی۔ اس موقع پر متعدد ترقیاتی سکیموں کی خلاف ضابطہ ادائیگیوں کی اندر 1ماہ ریکوری یا مجاز اتھارٹی سے منظوری کروانے کا بھی فیصلہ کیا۔ اجلاس میں کوٹلی پلندری روڈ میں ناقص میٹیریل کے استعمال بارے کی گئی انکوائری میں ابہام پایا گیا۔ ممبر پبلک اکائونٹس کمیٹی کرنل (ر) وقار احمد نُور نے موقف اختیار کیا کہ اس روڈ کا نہ صرف کام ناقص ہوا بلکہ لوکل میٹیریل کا استعمال کیا گیا۔ معطل شُدہ سب انجینئر کی انکوائری کو غلط قرار دیتے ہوئے بحال کر دیا گیا۔ جس کا کوئی قانونی جواز نہ ہے۔ اس موقع پر ممبر کمیٹی عبدالماجد خان نے کہا کہ رولز کی موجودگی میں پریکٹس کی کوئی گنجائش نہیں بلکہ رولز کو تقدم حاصل ہے۔ سرکاری آفیسران کو رولز کے مغائر کوئی کام نہیں کرنا چاہیے۔ اُنہوں نے تجویز دی کہ محکمہ شاہرات (سائوتھ) کی کروڑوں روپے کی غیر قانونی ادائیگیوں سمیت مالیاتی اور انتظامی بے ضابطگیوں میں ملوث آفیسران کے خلاف سیکرٹری ورکس و مواصلات احتساب بیورو میں ریفرنس دائر کریں اور خرد برد کی گئی سرکاری رقم کی ریکوری یقینی بنائی جائے۔ ممبر کمیٹی حافظ محمد احمد رضا قادری نے کہا کہ ہاتھ ہلکا رکھا جائے تا کہ محکمہ خود ہی بہتری کرے۔ چیئر مین کمیٹی چوہدری محمد اسحاق نے مزید کہا کہ ہم محکمہ شاہرات (سائوتھ) کی کارکردگی سے مطمن نہیں ۔ گزشتہ ایک سال سے محکمہ کے آفیسران تیاری کر کے نہیں آئے اور نہ ہی آڈٹ پیرا جات پر توجہ دی جاتی ہے، سمجھ نہیں آتی کہ یہ لوگ کمیٹی کی واضح ہدایات پر عمل کیوں نہیں کرتے۔ یہ ہر معاملہ کو اگلے اجلاس تک ٹال دیتے ہیں۔ ایسا نہیں ہونے دیں گے۔ جُمعتہ المبارک کے روز ہوئے والے پبلک اکائونٹس کمیٹی کے اجلاس میں میرپور کی ایک روڈ جس کے خلاف 1کروڑ 10لاکھ کی ادائیگی کر دی گئی مگر3سال میں مجاز اتھارٹی سے منظوری حاصل نہیں کی جا سکی، جبکہ 2012ء میں شروع کی گئی68ملین روپے کی ایک سکیم تا حال مکمل نہیں کی جا سکی جس کو 2سال میں مکمل ہونا تھا نہیں کیا جا سکا۔ اس پر کمیٹی نے فوری طور پر ریکوری یا منظوری کے لیے ٹائم فریم دے دیا۔ اکائونٹنٹ جنرل آزاد کشمیر محمد ایاز خان نے اس موقع پر کہا کہ محکمہ تعمیرات عامہ شاہرات کا ورکنگ پیپر ایک بلین پر مشتمل دکھائی دیتا ہے مگر مالیاتی و انتظامی ڈسپلن کا شدید فقدان ہے۔ کمیٹی نے سختی سے ہدایت کی کہ محکمہ جات کو رولز ریگولیشن پر چلنا ہو گانہ کہ اپنی مرضی پر۔ جن منصوبہ جات کے لیے بجٹ مختص کیا جاتا ہے ان میں کسی بھی مرحلہ پر تبدیلی کو کوئی جواز نہ ہے۔ اس موقع پر پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے نمائندہ نے بھی شرکت کی اور مختلف معاملات میں مناسب معلومات دیں۔ اجلاس میں۔ پی اے سی کے ممبران کرنل (ر) وقار احمد نُور، عبدالماجد خان، حافظ محمد احمد رضا قادری سمیت محکمہ جات کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ چوہدری بشارت حسین سیکرٹری اسمبلی نے سیکرٹری کمیٹی کے فرائض سر انجام دیے۔ کمیٹی نے اس بات کا سختی سے نوٹس لیا کہ بعض منصوبہ جات کی تکمیل سے قبل ہی بعض ذمہ داران حکام بالا ٹھیکیداران کو بدوں منظوری کروڑوں روپے کی ادائیگی کر دیتے ہیں جس کا کوئی قانونی و اخلاقی جواز نہ ہے۔ اس موقع پر اکائونٹنٹ جنرل آزاد جموں و کشمیر محمد ایاز خان نے موقف اختیار کیا کہ ایسے ذمہ داران کے خلاف محکمہ ریکوری کی کارروائی کرتے ہوئے کمیٹی کو آگاہ کرے۔ اے جی نے جُملہ ڈویژنل اکائونٹ آفیسران کو ہدایات جاری کیں کہ وہ بدوں منظوری مجاز اتھارٹی کسی قسم کی ادائیگی نہ کریں۔