باغ، ٹریفک پولیس انسپکٹر ڈان بن گیا، ڈرائیورز کو گالیاں دینا معمول

باغ (نمائندہ خصوصی) اندھیر نگری چوپٹ راج ۔ارجہ کے قریب تعینات ٹریفک پولیس انسپکٹر مسرت عباسی ڈان بن گیاغریب اور محنت کش ڈائیورز کو بلاوجہ تنگ کرنے لگا ۔گاڑیوں کے کاغذات اور لائسنس چیک کرنے کے دوران گالم گلوچ کرتا ہے۔پسند اور نا پسند کی بنیاد پر اپنی مرضی سے بھاری چالان کاٹ کر غریب ڈرائیوز کا جینا حرام کردیا جبکہ کئی غیرقانونی جن میں نان کسٹم، چوری، بنک شارٹ گاڑی مالکان کو کھلی چھٹی دے رکھی ہے اور نامکمل کاغذات والی گاڑیوں کا چالان کاٹ کر ان کو چالان کی آڑ میں شیلٹر دیتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ چالان اپنے پاس رکھو اگر کوئی افسرگاڑی کے کاغذات مانگے تو کہو میرے کاغذات چالان ہوئے ہیں۔اگر کوئی اس کو کہے کہ آپ ڈبل چالان کرتے ہو ہم اوپر شکائت کریں گے تو آگے کہتا ہے کہ ضلع باغ میرے انڈر ہے میں جو چاہے کرومیرا کوئی پوچھنے والا نہیںجس کو مرضی شکائت کرو مجھے کوئی نہیں پوچھ سکتاٹی ایس آئی مسرت کا ستایا نوجوان محنت کش ڈائیور محمد آصف فریاد لے کر پریس کلب پہنچ گیانوجوان ڈائیور نے فریاد کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روز میں سامان لے کر دھرکوٹ جا رہا تھا راستے میں ٹی ایس آئی مسرت عباسی نے ارجہ کے مقام پر روک کے گاڑی کے کاغذات مانگے تمام کاغذات اور لائسنس اور شناختی کارڈ چیک کرنے بعد میرا ایک ہزار روپے کا چالان کر دیا جس پر میں نے منت سماجت کی کہ آج بارش ہے پٹرول کا خرچہ پورا کرنے کے لیے  صرف ایک ہزار روپے لے کرپھیرہ لگا رہا ہوںاور آپ چالان بھی ہزار روپے کا کررہے ہیں جو کہ ظلم ہے اس پر ٹی ایس آئی نے گالم گلوچ کرتے ہوئے کہا کہ میں نے چالان کر دیا ہے تم جو مرضی کرو کر لو میرا کوئی پوچھنے والا نہیں اور نہ ہی کسی سے میں ڈرتا ہے میرا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا باغ کے سیاہ و سفید کا میں مالک ہوں وزیر اعظم اور آئی جی بھی مجھ سے پوچھ نہیں سکتے۔سوزوکی ڈائیور آصف نے کہا کہ ٹی ایس آئی مسرت جان بوجھ کر غریب اور بے سہارا لوگوں کو تنگ کرتا ہے چند روز قبل اس نے ایک اور موٹر سائیکل سوار نوجوان کو ارجہ موٹر پر کاغذات کے لیے روکا کاغذات پاس نہ ہونے پر اس نے اس نوجوان کو ماں بہن کی گالیاں دیں جس پر نوجوان نے مشتعل ہو کر آپنے موٹر سائیکل کو وہیں پر ہی آگ لگانے کی کوشش کی اور خود کو بھی نقصان پہنچانے کی کوشش کی جس پر ٹی ایس آئی نے اس کو تشدد کر کے ارجہ چوکی پر کئی گھنے بند بھی رکھا جبکہ وہ نوجوان اس وقت اپنی بیمار ماں کے لیے دوائیاں لینے ارجہ جارہا تھا ،نوجوان آصف نے فریاد کر تے ہوئے وزیر اعظم آ زاد کشمیر راجہ فاروق حیدر،آئی جی آزادکشمیر،ڈی آئی جی پونچھ چوہدری سجاد، ایس پی ٹریفک موسیٰ خان ،ڈپٹی کمشنر باغ اور ایس پی باغ جمعیل میر سے اپیل کی کہ اس ظالم ٹی ایس آئی سے ہم غریب محنت کش ڈائیورز کی جان چھڑائی جائے اور اس کی خرمستیوں کا نوٹس لیا جائے۔