تحریک انصاف توہین رسالت قانون میں ترمیم چاہتی ہے:حمداللہ

دھیرکوٹ(تحصیل رپورٹر)سابق سنیئٹر حافظ حمد اللہ نے کہا ہے کہ ہم پارلیمنٹ میں سکولر اور لبرل نظام کے خلاف لڑ رہے ہیں ۔ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ مولوی سیاست کیوں کرتے ہیں انہیں پتا ہونا چاہیے کہ فیصلے نظام کی تبدیلی کے خلاف پارلیمنٹ کے ذریعے آتے ہیں اور پارلیمنٹ میں ووٹ کے ذریعے پہنچا جاتا ہے۔ ہمارے اکابر نے دین کے ساتھ سیاست کو بھی اوڑنا بچھونا بنایا ۔ آج پارلیمنٹ میں تحریک انصا بھی توہین رسالت قانون کے خلاف ترمیم چاہتی ہیں کہ سزائے موت کے بجائے عمر قید ہو ۔ وہ گزشتہ روز دھیرکوٹ مدرسہ انوار العلوم ختم بخاری کے موقع پر بڑے عوامی اجتماع سے خطا ب کر رہے تھے۔ اس موقع پر جمیعت علماء اسلام کے امیر مولانا سعید یوسف نے کہا کہ دینی مدارس اسلام کا قلعہ ہیں ۔ بر صغیر میں علما نے قربانی دے کر اسلام کی بقاء کی جنگ لڑی جب زندہ کھالیں کیچھوائی جا رہی تھیں ۔ دینی مدارس نے قرآن و سنت کے ساتھ دامن گھیر ہو کر آج لاکھوں گھروں کو دین سے مستفید کیا۔ اورر کسی سازش کا حصہ نہ پہلے بنے نہ اب بنیں گے۔ لوگ دین کے ساتھ وابستگی رکھیں ۔مولانا عبداللہ شاہ مظہر نے کہا کہ ہم قرآن و سنت کے دارعی ہیں دہشت گرد نہیں۔ آج انہی لوگوں کے سر پر دستار فضیلت سجائی جا رہی ہے جو معاشرے میں اسلامی نظام کی حیاء چاہتے ہیں۔ اس سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ جمیعت علما اسلام کے جنرل سیکرٹری مولانا امتیاز عباسی نے کہاکہ ریاست میں اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے حکمران پہل کریں ۔ ہم ان کے دست و بازو بنیں گے۔ اس وقت تحریک آزادی کشمیر نازک دور سے گزر رہی ہے۔ ڈوگرہ سامراج کی غلامی سے آزادی آبائو اجداد نے اس لیے لی تھی کہ یہاں پر قرآن و سنت کا نظام ہو گا۔ ہر شخص کو انصاف ملے گا۔ کشمیر آزاد ہو گا مگر بدقسمتی سے ہم ابھی اس بیس کیمپ میں وہ مقاصد حاصل نہیں کر سکے ۔ مہتمم مدرس مولانا سلیم اعجاز ،مولانا عبدالحی،مولانا حافظ اسحاق،مولانا اشرف علی،مفتی مسرت اور دیگر علما نے خطاب کرتے ہوئے دینی مدارس کے کردار پر روشنی ڈالی اور کہا کہ دینی مدارس کے ساتھ تعاون کیا جائے ۔ اس موقع پر حافظ حمداللہ نے مزید کہا کہ پارلیمنٹ میں داڑھی اور پگڑی والے چند ایک ہیں جنہوں نے آئین اور قانون کی خلاف ورزی نہیں ہونے دی ۔ آج کہا جا رہا ہے کہ ہم خواتین کے مخالف ہیں مگر خواتین کو صاب کی ٹکیا پر برہنہ کر کے پیش کیا جا رہا ہے۔ کیا یہ عورت کی عزت ہے۔ 26سال ہوگئے شادی ہوئے مگر بیوی سے کبھی تلخی بھی نہیں ہوئی جبکہ پنجاب میں بل پاس ہو رہا ہے کہ خواتین جب چاہیں جہاں جائیں واپس آئی تو انہیں پوچھا جائے تو یہ ذہنی اذیت ہے ۔ پوچھنے والے کے خلاف تھانے میں کاروائی کروائو۔ ایسے میں ہم مملکت خداداد پاکستان میں اچھائی کو دعوت دے رہے ہیں ۔ مختلف مسلک کے لوگ کہہ رہے ہیں کہ مولوی سیاست نہ کریں اس میں ہم بھی شامل ہیں لیکن کیا قوموں کی تقدیر کے فیصلے موچی گیٹ نشتر پارک یا دھیرکوٹ میں بیٹھ کر ہوں گے یا پارلیمنٹ میں ہوں گے۔ مولانا محمود الحسن شیخ الہند مولا نا حسین احمد مدنی نے کیا سیاست نہیں کی۔ اس موقع پر مختلف قراردادیں پیش کی گئیں ۔ یہ اجتماع قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت تحریک تحفظ ختم نبوت کی عدالتی کوششوں کو خراج تحصین پیش کرتا ہے۔ یہ اجتماع جمیعت علماء اسلام کے قائدین بالخصوص مولانا سعید یوسف کی کاوشوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہے۔ یہ اجتماع پاکستان میں پیغام پاکستان کے بیانیے کی مکمل حمایت کرتے ہوئے ریاست اور ریاستی اداروں سے مطالبہ کرتا ہے کہ علماء ،طلبا اور مدارس کے خلاف جانبدارانہ غیر منصفانہ رویہ ختم کیا جائے ۔ حافظ حمداللہ کی ایوان بالا میں مسلمانان پاکستان کی نمائندگی کرنے پر انہیں خراج تحسین پیش کرتا ہے جس میں ختم نبوت کے حلف نامے میں ترمیم کی سازش کو ناکام بنانا ہے۔