اٹک :کتب اور کاپی رائٹ کے عالمی دن موقع پر تقریب کا انعقاد

اٹک :کتب اور کاپی رائٹ کے عالمی دن کے موقع پر گورنمنٹ ای لائبری اٹک میں آکسفورڈ یونیوسٹی پریس کے زیر اہتمام تقریب کا انعقاد ہوا بچوں کو کتابوں کی جعلسازی کے حوالہ سے کہانیاں سنائی گئیں جس میں 25 سکولوں کے 230 سے زائد بچوں نے انتہائی دلچسپی لی اور کتابوں کی جعلسازی کے حوالہ سے تقریب کو سراہا ، کتابوں کی اہمیت حقوق دانش کے حوالہ سے منعقدہ سیمینار میں اس کی افادیت پر روشنی ڈالی گئی اور جعلی کتب کے نقصانات سے بھی آگاہ کیا گیا تقریب سے اے سی اٹک حرا رضوان ، پروفیسر گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج اٹک پروفیسر شمس القمر عاکف، آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کے واصب جاوید ، ملک بلال حیدر ، نبیل یونس ، حذیفہ صدیق ، انچارج گورنمنٹ ای لائبریری رخسانہ اختر ، اسسٹنٹ لائبریرین رئیس الدین اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کتابوں کی اہمیت اور دیگر مسائل پر روشنی ڈالی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آکسفورڈ یونیورسٹی کے واصب جاوید ، ملک بلال حیدر ، نبیل یونس اور حذیفہ صدیق نے کہا کہ جعلسازی کے ذریعے صرف 2017 ءمیں ہونے والا معاشی خسارہ 917 ارب ڈالر کا ہے جس میں جعلی ادویات ، جعلی کتب ، جعلی موبائل فون اور دنیا بھر کے مشہور برانڈ کی اشیائکی نقل شامل ہے کاپی رائٹ کو 1883 ءمیں جرم قرار دے دیا گیا تھا اور پاکستان میں اس کی سزا ایک لاکھ روپے جرمانہ ، 6 ماہ قید ہے اور پاکستان میں 2015 ءمیں جعلسازی کے ذریعہ بنائی جانے والی اشیاءسے ہونے والے نقصان کا تخمینہ 10 ارب ڈالر ہے 2013 ءمیں جعلسازی کی وجہ سے 26 لاکھ نوکریاں سرے سے ختم ہو گئیں اور 2022 میں یہ تعداد 54 لاکھ نوکریوں پر محیط ہو گی جس سے پوری دنیا میں اس کے نقصانات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے سابق صدر پاکستان جنرل ایوب خان نے بھارت میں ایک تقریب میں گیت سنا اور داد دی اور اس کے شاعر سے ملنے کی خواہش کا اظہار کیا تو انہیں بتایا گیا کہ یہ پاکستانی شاعر ساحر لودھیانوی ہے انہوں نے پاکستان آ کر گورنر ہاو¿س میں اس عظیم شاعر سے ملنے کی خواہش کا اظہار کیا تو یہ اپنی غربت اور مفلسی کے سبب داتا دربار کے فٹ پاتھ پر میلی کچیلی چادر میں سو رہے تھے جس سے پاکستان میں لکھاریوں کی قدر و منزلت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے اور برطانیہ کی مشہور لکھاری نے اپنی تحریر کا جادو جگا کر جو دولت کمائی ہے وہ ملکہ برطانیہ کے اثاثوں سے زائد ہے با شعور معاشرے کاپی رائٹ کے قانون پر سختی سے عملدرآمد کراتے ہیں اور پشاور میں ایک مشہور بک سٹال کے مالک کو جعلسازی میں 7 سال کی سزا سنائی گئی۔