شیخ رشید، زلفی بخاری، کرنل انور، اسد قیصر بھی این اے56 سے ہاتھ کرگئے

اسلام آباد (صدیق فخر سے)تحریک انصاف بھی این اے 56 سے انصاف نہ کر سکی، پارٹی کا نام اور تبدیلی کے دعوے صرف الفاظ تک محدود، عملی طور پر ایک سال گزرنے کے باوجود کارکردگی صفر رہی، وفاقی وزیر شیخ رشید احمد، سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، معاون خصوصی وزیراعظم زلفی بخاری، صوبائی وزیر کرنل (ر) ملک محمد انور بھی این اے 56 سے ہاتھ کر گئے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی وزیر شیخ رشید احمد نے میانوالی ریل کار کے افتتاح کے موقع پر گاڑی میں سفر کیا تھا اور مختلف ریلوے اسٹیشن پر سٹاپ نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں نے احتجاج کیا تھا اور میانوالی ریل کار کا ریلوے سٹیشن پر رکنے کا مطالبہ کیا تھا جس پر وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد وعدہ کیا تھا کہ وہ ان کے مطالبے کو ضرور پورا کریں  گے لیکن کئی ماہ گزرنے کے باوجود وعدہ ایفا نہ ہو سکا، اسی طرح معاون خصوصی وزیراعظم زلفی بخاری نے اٹک میں نیزہ بازی کے مقابلے کی ایک تقریب میں شرکت کی تھی اور وہاں پر اعلان کیا تھا کہ ترنول جنڈ روڈ کو دوبارہ بنانے کا اعلان کیا تھا لیکن ان کا اعلان بھی سیاسی بات ثابت ہوئی جبکہ حقیقت میں تاحال کوئی عمل نہ ہو سکا اسی طرح سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے اٹک میں جشن بہاراں میلہ میں تحریک انصاف کے رہنما اور ایم این اے میجر طاہر صادق کی دعوت پر شرکت کی تھی اور اس تقریبب میں بھی ان سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ ترنول جنڈ اور فتح جنگ پنڈی گھیب روڈ کو دو رویہ کیا جائے جس پر انہوں نے بھی اس کام کی حامی بھری تھی لیکن ان کی حامی بھی عوام کو سبز باغ دکھانے تک ہی رہی جبکہ حقیقت میں ان کی طرف سے بھی کوئی اس مطالبہ پر کام نہ ہو سکا، اسی طرح کرنل (ر) ملک محمد انور نے بھی جنڈ، پنڈی گھیب، فتح جنگ سمیت مختلف جگہ پر کھلی کچہریوں اور تقریبات میں مختلف کاموں کے اعلانات کئے تھے جن میں بطور خاص جنڈ کھلی کچہری میں دو نئے اراضی سنٹر بنانے کا اعلان بھی شامل تھا لیکن حلقہ سے تعلق ہونے کے باوجود وہ بھی لاہور میں ہی براجمان نظر آتے ہیں اور عوام کے مسائل کھلی کچہریوں میں سننے تک ہی محدود رہے جبکہ حقیقت میں کوئی مسئلہ حل نہ ہو سکا اور اعلان صرف سیاسی تقاریر ہی ثابت ہو سکیں۔ اہلیان این اے 56 نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اپنی پارٹی کے نام کا ہی خیال رکھتے ہوئے ہمارے ساتھ بھی انصاف کیا جائے اور وزراء کی طرف سے کئے گئے وعدوں کو عملی جامہ پہنایا جائے ۔ یاد رہے کہ اس حلقے سے جنرل الیکشن میں حکومتی جماعت کے ہی ایم این اے میجرطاہر صادق منتخب ہوئے تھے جبکہ ضمنی الیکشن میں مسلم لیگ (ن) کے ملک سہیل خان کمڑیال ایم این اے منتخب ہوئے، تحریک انصاف سے وابستگی رکھنے والے علاقے کی محرومی کو اپوزیشن کا ایم این اے ہونے کی وجہ ثابت کرنے کی کوشش پر گامزن ہیں لیکن حقیقت اس سے برعکس ہے کیونکہ اس حلقے کے دو نشستوں پر ممبران صوبائی اسمبلی حکومتی جماعت تحریک انصاف کے ہیں اور ان میں سے ایک کے پاس صوبائی وزیر کا عہدہ بھی ہے اس حلقے میں حکومت کی نمائندگی ہونے کے باوجود نظر انداز کرنے کو اگر عوام سے انتقامی کارروائی کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ کیونکہ حلقہ این اے56 میں تو صوبائی نشستوں پر حکومت ہی براجمان ہے۔