سابق وزیراعظم نواز شریف کو سروسز اسپتال سے ڈسچارج کردیا گیا

لاہور: سروسز اسپتال میں 15 روز سے زیر علاج سابق وزیراعظم نواز شریف کو ڈسچارج کردیا گیا۔
نواز شریف گزشتہ 15 روز سے سروسز اسپتال میں زیرعلاج تھے جہاں ان کے پلیٹیلیٹس میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری تھا تاہم طبیعت ناساز ہونے کے باوجود انہیں اسپتال سے ڈسچارج کردیا گیا ہے۔
سابق وزیراعظم کو شریف میڈیکل سٹی اسپتال منتقل کیا جائے گا اور انہیں لینے کیلئے شریف سٹی اسپتال کا عملہ بھی سروسز اسپتال میں موجود ہے۔
ذرائع کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے صدر و شہباز شریف اور مریم نواز بھی اسپتال میں موجود ہیں اور مریم نواز کی روبکار کا انتظار کیا جارہا ہے۔
قبل ازیں سابق وزیراعظم کے علاج کیلئے قائم میڈیکل بورڈ کے سربراہ ڈاکٹر محمود ایاز کے مطابق نواز شریف کے پلیٹیلیٹس کاؤنٹ میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری ہے اور گزشتہ روز ان کے پلیٹیلیٹس میں کمی ہوئی ہے جس کے بعد پلیٹیلیٹس کی تعداد 45 سے 42 ہزار تک پہنچی جب کہ منگل کے روز یہ تعداد مزید کم ہوکر 30 ہزار ہوگئی ہے۔
ڈاکٹر محمود ایاز نے بتایا کہ اسٹیرائیڈز کی وجہ سے نواز شریف کی شوگر میں اتار چڑھاؤ ہے اور فی الحال ان کو شوگر کی زیادتی کا سامنا ہے جب کہ انہیں دل اور گردوں سمیت کئی امراض بھی ہیں۔
میڈیکل بورڈ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ نوازشریف کے خون کے نمونے لینے سے بلیڈنگ بہت مشکل سے رکتی ہے، ان کے بازو پر نیل کے نشان پڑ رہے ہیں جب کہ ان کی شوگر بھی کنٹرول نہیں ہے لہٰذا نوازشریف کو ان کی طبیعت سے متعلق آگاہ کردیا گیا ہے۔
ڈاکٹر محمود ایاز نے کہا کہ پلیٹیلیٹس کےاتارچڑھاؤ کی تشخیص کیلئے نوازشریف کے ٹیسٹ کرنا چاہتے ہیں جس کے لیے ان کے خون کا نمونے لے کر بیرون ملک بھجوائے جائیں گے، ٹیسٹ کی وجہ سے نوازشریف کے پلیٹیلیٹس گرنے کی وجہ پتا چلے گی۔
