چیف سیکرٹری،آئی جی کی مراعات کیخلاف عدالت العالیہ میں رٹ دائر

مظفرآباد(وقائع نگار) معروف قانون دان خالد بشیر مغل ایڈووکیٹ نے چیف سیکرٹری آزادکشمیر اور انسپکٹر جنرل کی مراعات کیخلاف عدالت العالیہ میں رٹ پٹیشن دائر کر دی۔پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کی حکومتوں نے تین مختلف نوٹیفکیشن جاری کئے تھے جن میں بعد ازاں ریٹائرمنٹ چیف سیکرٹری اور آئی جی کو 8سوفری ٹیلیفون کالز 8سو یونٹس بجلی'25ایچ ایم سی تھری گیس'2سو لیٹر پٹرول تاحیات ڈرائیور اور کک بغیر لائنسنس اسلحہ ایک ممنوعہ بور اور غیر ممنوعہ بور اسلحہ رکھنے کی اجازت دی گئی تھی اس کے علاوہ حکومت آزادکشمر کے جملہ ریسٹ ہاوسسز بشمول کشمیر ہاوس میں فری رہائش اسلام آباد ائیر پورٹ سے پروٹوکول میں پک ڈراپ سٹاف کار تین دن تک استعمال کر سکتے ہیں ان تینوں نوٹیفکیشن میں جملہ مراعات کو پیٹشنرر نے عدالت العالیہ میں چیلنج کر دیا ہے پیٹشنرز نے موقف اختیار کیا ہے کہ چیف سیکرٹری اور آئی جی پولیس محدود مدت کیلئے ڈیپوٹیشن پالیسی کے تحت آزادکشمیر میں اپنے فرائض سر انجام دیتے ہیں جو وفاق کے ملازم ہوتے ہیں ریٹائرمنٹ کے بعد انھیں دوہری مراعات کیسے دی جا سکتی ہیں وفاق سے وہ مراعات حاصل کر رہے ہیں اسطرح آزادحکومت انھہیں مراعات کیسے دے سکتی ہے پیٹشنرز نے موقف اختیار کیا کہ ان نوٹیفکیشن کے تحت آزاد کشمیر کی عوام کے ساتھ نا انصافی ہو رہی ہے اس سے آزادکشمیر کے شہریوں کے ٹیکسسز کولوٹا جا رہا ہے سرکاری ملازم ایک وقت میں ایک ہی جگہ سے مراعات حاصل کر سکتا ہے آزادریاست اتنی بھی خود کفیل نہیں ہے کہ وہ ان افراد کو ہر قسم کی مراعات دے اور ریاستی عوام معاشی طور ر تباہ حال ہوں عدالت لاعالیہ نے حکومت آزادکشمیر کو اظہار وجودہ کے نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت آئندہ 15مارچ کوہو گی۔
