باغ،گڈ گورننس کے دعوے ہوائی نکلے،اراضی ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ نہ ہو سکا

باغ ( نمائندہ کشمیر ٹوڈے)وزیر اعظم آزاد کشمیر کے گڈ گورننس کے دعوے آبائی ضلع تک محدود باغ میں اراضی ریکارڈ کمپیوٹر رائزڈ نہ ہو سکے غریب عوام اپنی زمین کی نقول کے لیے جگہ جگہ دھکے کھا تے اور دن بھر خوار ہو رہے ہیں ، ضلع باغ کی لاکھوں کی آبادی کو دور جدید میں بھی اس سہولت سے مرحوم رکھنا نا انصافی ہے ، وزیر اعظم آزاد کشمیر انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے اراضی ریکارڈ کو کمپیوٹر رائزڈ کروانے کے لیے خصوصی اقدامات اٹھائیں ، تاکہ جدید سہولیات سے باغ کے عوام بھی مستفید ہو سکیں ،محکمہ مال نے جان بوجھ کر غلط اندراج کے ذریعے غریب عوام کو تھانہ کچہری کے چکر میں ڈال رکھا (باقی صفحہ6بقیہ نمبر31)
ہے ،جس کے باعث کئی خاندان دشمنیوں کے باعث اجڑ چکے ہیں ، تفصیلات کے مطابق آزاد کشمیر کے دیگر اضلاع میں لینڈ ریکارڈ کی کمپیوٹر رائزیشن کا عمل شروع ہو چکا ہے ، باغ کے عوام کو دور جدید میں بھی اس اہم سہولت سے مرحوم رکھنا نا انصافی ہے باغ آزاد کشمیر کی تاریخی سر زمین ہے ، سیاست سے لے کر جہاد تک اس ضلع سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے ہر میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے ، وزیر اعظم آزاد کشمیر فوری طور پر باغ کے عوام کو بھی پٹواری کلچر سے نجات دلوانے کے لیے اقدامات اٹھائیں تاکہ نا انصافی کا ازالہ ہو سکے ، کیونکہ محکمہ مال نے ہزاروں غریب لوگوں کو غلط اندراجات کے ذریعے تھانے کچہریوں کے چکر میں سالوں سے لگا رکھا ہے ، پٹواری کلچر کے خاتمے کے لیے حکومت انتظامیہ کو حرکت میں لائے ، اور باقاعدہ اراضی ریکارڈ سنٹر کے افتتاح کیا جائے، عوامی حلقو ںنے کہا کہ لاکھوں کی آبادی کو ترجیحی بنیادوں پر سہولیات فراہم کی جائیں ، جدید سہولیات کی فراہمی سے باغ کے لاکھوں عوام کو مستفید کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے ، گڈ کورننس کے دعوے اور وعدے کو کامیاب بنانے کے لیے وزیر اوعظم آزاد کشمیر کو دیگر اضلاع کی طرح باغ کی انتظامیہ کو بھی حرکت میں لانا ہو گا، ان حلقوں نے وزیر اعظم آزاد کشمیر ، مقامی وزراء ، وزیر مال ، ڈائریکٹر جنرل آئی ٹی خالد رفیق اور محکمہ مال کے دیگر ذمہ داران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ باغ کے عوام کے لیے بھی لینڈ ریکارڈ کمپیوٹر رائزیشن کے لیے بھی خصوصی اقدامات اٹھائیں ، بصورت دیگر عوام حکومت اور محکمہ مال کے خلاف سخت احتجاج پر مجبور ہوں گے ، حالات کی خرابی کی ذمہ داری حکومت اور دیگر متعلقہ حکام پر عائد ہو گی۔