افسوس ناک الزام تراشی،دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہوں بارے ہرزہ سرائی بند کی جائے،پاکستان

اسلام آباد (صباح نیوز)وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان کی قربانیوں کے باوجود پاکستان پر الزام تراشی افسوسناک ہے، دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے انٹیلی جنس تعاون ناگزیر ہے، ہم نہیں چاہتے کہ پاکستان کی سرزمین کسی بھی ہمسایہ ملک کے خلاف استعمال ہو،افغانستان میں بھارت کے وسیع تر کردار کے خلاف ہیں، افغانستان کے لیے پاکستان اور امریکا کا کردار اہمیت کا حامل ہے، پاکستان اور امریکا نے سوویت یونین اور القاعدہ کو مل کر خطے سے نکالا، پاکستان اور امریکا کے مابین تنائو کی کیفیت اچھی نہیں لہذا دونوں ممالک کو تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے کوششیں کرنا ہوں گی، پاکستان میں دہشت گردوں کا کوئی منظم وجود نہیں، ہمیں خودساختہ دہشت گردی اور مہاجرین کے مسائل سے نمٹنا ہے، افغانستان میں حالات کی خرابی کا الزام پاکستان کو نہیں دیا جاسکتا۔پیر کو اسلام آباد میںدو روزہ پاک امریکا ٹریک ٹو ڈائیلاگ کے چوتھے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ امریکا سے اختلافات برقرارہیں،رابطوں سے ا تفاق رائے پیداکر نے کی کوشش جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ خطے کے حالات بہترکرنے کیلئے ہرکوشش کاخیرمقدم کرتے ہیں۔خواجہ آصف نے کہا کہ افغانستان کی ساری معیشت منشیات پر ہے،پریشرگروپ شامل ہوگئے، امریکاکیساتھ مکمل اعتمادبحال نہیں مگرخواہش ہے کہ بحال ہو۔انہوں نے کہا کہ امریکاکی جانب سے پناہ گاہوں کی ہرزہ سرائی درست نہیں، ایک تقسیم شدہ معاشرہ مفاہمتی عمل کو مشکل بنا رہا ہے، آج افغانستان میں حکومت اختلافات کا شکار ہے، وہاں منشیات اور لاقانونیت عروج پر ہے خواجہ آصف نے افغانستان کے حوالے سے مزید کہا کہ ہم ایک مستحکم اور محفوظ افغانستان چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمیں آبی مسائل اور افغانستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں سے نمٹنا ہوگا۔وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ امن عمل کے لئے زیادہ کام خود افغانستان میں ہونے والا ہے، ہم افغانستان میں افغانوں کے لئے ان کا اپنا امن چاہتے ہیں۔ وزیر خارجہ خواجہ آصف نے واضح کیا کہ پاکستان میں دہشت گردوں کا کوئی منظم وجود نہیں،ہمیں خودساختہ دہشت گردی اور مہاجرین کے مسائل سے نمٹنا ہے۔خواجہ آصف نے کہا کہ ہماری معیشت اس وقت دنیا کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشت ہے اور امریکا کے پاک بھارت تعلقات معمول پر لانے میں کردار کو خوش آمدید کہتے ہیں۔جہاں کے حالات کی خرابی کا الزام پاکستان کو نہیں دیا جاسکتا۔انہوں نے کہا کہ ہمیں آبی،مہاجرین کے مسائل، افغانستان، پاکستان میں دہشت گردوں کی پناہ گاہوں سے نمٹنا ہے تاہم امریکا کی مشروط پالیسی سے افغان مفاہمتی عمل کو دھچکا لگا، افغانستان کو معاشی چیلنجز، پوست کی کاشت، منشیات اسمگلنگ اور دہشت گردی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں کو ختم کرنا ہو گا جب کہ ۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی اپنے ملکی مفاد میں کررہے ہیں، دہشت گردی کے خلاف جنگ پاکستان کے دفاع کی جنگ ہے جب کہ پاک بھارت تنازعات کے خاتمے کیلئے امریکی کردار کا خیرمقدم کرتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ پاکستان دہشتگردی کیخلاف اپنے مفاد میں کام کر رہا ہے، افغانستان کی ساری معیشت منشیات پر ہے اور بہت سے پریشر گروپ شامل ہوگئے ہیں جو چاہتے ہیں تنازع جاری رہے۔
#/S
