قبل از وقت انتخابات کے سوا کچھ نظر نہیں آرہا:عمران خان

چترال(اے این این ) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے ایک بار پھر قبل ازوقت الیکشن کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہ جب کسی کا مینڈیٹ مشکوک ہوجاتا ہے تو قبل از وقت انتخابات کرائے جاتے ہیں یہ غیر آئینی نہیں جمہوریت کا حصہ ہے ، اس وقت پاکستان جہاں کھڑا ہے وہاں قبل از وقت انتخابات کے سوا کچھ نظر نہیں آرہا۔چترال میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیرمین تحریک انصاف عمران خان کا کہنا تھا کہ وزیر خزانہ بستر پر پڑے ہیں، ان پر منی لانڈرنگ، کرپشن کے کیسز ہیں اور نہ ہی وہ ملک میں ہیں جب کہ ملک کی معیشیت کا حال دیکھ لیں، وزیر خارجہ اور وزیر داخلہ کے پاس سے اقامہ نکلا ہے، یہ منی لانڈرنگ کا طریقہ ہے، ان حالات میں قوم کے لیے صرف ایک ہی چیز بہتر ہے اور وہ ہے قبل از وقت انتخابات۔عمران خان کاکہنا تھا کہ کوئی احمق ہی کہہ رہا ہے کہ قبل از وقت انتخابات جمہوریت کے خلاف ہے، جب کسی کا مینڈیٹ مشکوک ہوجاتا ہے تو قبل از وقت انتخابات کرائے جاتے ہیں، اس وقت پاکستان جہاں کھڑا ہے وہاں قبل از وقت انتخابات کے علاوہ مجھے کچھ نظر نہیں آرہا۔ لندن میں ٹریسامے اور ترکی میں اردگان نے الیکشن کرایا اور یہ عمل جمہوریت کو تقویت بخشتا ہے اور جتنی جلدی الیکشن ہو اتنا ہی فائدہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں جب کہ اسٹاک مارکیٹ نیچے آرہی ہے، ہم وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ملک کو فورا قبل از وقت انتخابات کی طرف لے جایا جائے۔عمران خان نے کہا کہ نیب کے پہلے چیرمین کو آصف زرداری اور نواز شریف نے مل کر لگایا تھا تاکہ اپنے ساتھیوں اور خود کو بچاسکیں، سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے میں سامنے آگیا کہ انہوں نے سارے اداروں پر اپنے لوگوں کو بٹھایا ہوا تھا جن کا کام ان کو بچانا تھا، پچھلے چیرمین نیب کے خلاف کارروائی کرکے عبرت ناک سزا دینی چاہیے۔موجودہ چیئرمین ٹھیک کام کر رہے ہیں ۔چیرمین تحریک انصاف نے کہا کہ پہلے افغانستان میں امریکی فوج تھی اور ڈرون حملے ہوتے تھے جس کے باعث ہمارے قبائلی علاقوں میں انتشار تھا لیکن جب سے امریکی فوجیں گئی ہیں تو امریکا کی جنگ میں پاکستان کی شرکت سے جو ردعمل آرہا تھا وہ ختم ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب بھارت افغانستان کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی کرارہا ہے، یہ نریندر مودی کا پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کا منصوبہ ہے اور اس کو ناکام بنانے کے لیے پوری قوم کو فوج کے ساتھ متحد ہونا پڑے گا۔عمران خان کا کہنا تھا کہ ہمیں ملک بھر کی پولیس فورس کو خیبر پختونخوا کی پولیس کی طرح بنانا پڑے گا کیونکہ صوبے میں 70 فیصد دہشت گردی کو ختم کیا ہے، اگرہم پولیس کو مضبوط کریں تو دہشت گردی کے خلاف جنگ ہم بہتر طریقے سے لڑ سکتے ہیں۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے شریف خاندان کو جواب دینے کا موقع دیا لیکن وہ اپنی چوری چھپانے کیلئے عدلیہ کے خلاف زبان استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا میں چیف جسٹس کی جگہ ہوتا تو کب کا نواز شریف کو جیل میں ڈال دیتا، وفاقی حکومت کی جانب سے خیبرپختونخوا حکومت کو 35 ارب روپے نہیں دیئے جا رہے جس کی وجہ سے ترقیاتی کام بند پڑے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا مرکز میں حکومت نظرہی نہیں آرہی، سننے میں آ رہا ہے کہ شہباز شریف سے این آر او کی ڈیل ہو رہی ہے، مشرف، نواز شریف اور آصف زرداری کے مابین این آر او سے ملک کو بہت نقصان پہنچا، کوئی پاکستانی تیسرا این آر او قبول نہیں کرے گا۔عمران خان نے کہا کہ ملک میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں، اسٹاک مارکیٹ گررہی ہے۔ وزیراعلی پنجاب اپنے بھائی سے سمجھوتہ کرنے لندن گئے کہ وہ پیچھے ہوجائیں اور انہیں پارٹی سنبھالنے دیں، کیا ملک کے یہ مسائل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سانحہ ماڈل ٹاون کی رپورٹ سامنے آنی چاہئے، حدیبیہ پیپر مل کیس کھولاجائے، منی لانڈرنگ کرنے والوں کے ساتھ اتحاد نہیں کرسکتے۔ انہوں نے کہا ملک میں اداروں کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے تا کہ چوروں کو پکڑا جاسکے، چھوٹے چوروں کو پکڑنے سے کچھ نہیں ہوتا جب تک بڑے چوروں کو نہیں پکڑا جاتا۔ان کا کہنا تھا کہ عوام پر خرچ ہونے والا پیسہ کرپشن کی نذر ہو جاتا ہے، وزیراعظم اپنی ذاتی ائرلائن کے معاملے کیلئے انگلینڈ گئے ۔شاہ خاقان ایک کرپٹ اور نا اہل وزیر اعظم سے ملنے کیلئے جاتے ہیں ۔ عمران خان نے کہا ایم کیو ایم اور پی ایس پی اتحاد میں کوئی سازش نظر نہیں آرہی۔ عمران خان نے کہا آلودگی ایک سنجیدہ مسئلہ ہے جس کے اثرات صحت اور فصلوں پر مرتب ہو رہے ہیں۔
