مقبوضہ کشمیر: نوجوانوںکو تھانو ں میںسخت مار پیٹ کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔۔۔ لبریشن فرنٹ عالمی برادری کشمیریوں کی زندگیاں بچانے کیلئے کردار ادا کرے۔۔۔ ترجمان
سرینگر 13جنوری (کے ایم ایس )
مقبوضہ کشمیر میں جموںوکشمیر لبریشن فرنٹ نے کہا ہے کہ مقبوضہ علاقے میں تھانوںکو نازی کیمپوں میں تبدیل کردیا گیا ہے جہاں کسی کشمیری کی جان و عزت محفوظ نہیں۔تنظیم نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ کشمیریوںکی زندگیاں بچانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق جموںوکشمیر لبریشن فرنٹ کے ترجمان نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ جھوٹے مقدمات میں گرفتار نوجوانوںکو تھانو ں میں بدترین تشدد اور تذلیل کا نشانہ بنایا جارہا ہے جو انتہائی قابل مذمت ہے۔ ترجمان نے کہا کہ سمبل سوناواری کے ایک عوامی وفد نے سرینگر میں لبریشن فرنٹ کے دفتر آکر بھارتی پولیس کے مظالم بیان کیے۔ وفد نے کہا کہ نائد کھائی کے رہائشی نوجوان سجاد احمد کو سینٹرل جیل سرینگر میں دو برس کی طویل غیر قانونی نظر بندی سے رہائی کے فوراً بعد دوبارہ گرفتار کرکے تھانہ سمبل منتقل کیا گیا جہاںسپیشل آپریشن گروپ کے اہلکاروں نے اسے سخت مارپیٹ کا نشانہ بنایا۔ وفد نے کہا کہ نوجوان کو بعد میں زخمی حالت میں دوبارہ سینٹرل جیل سرینگر منتقل کیا گیا۔ عوامی وفد نے کہا کہ ایک 16 سالہ نوجوان غلام محی الدین گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے سپیشل آپریشن گروپ کے کیمپ میں قیدہے جہاں روز اس پر تشدد کیا جاتا ہے جبکہ ایک اور نوجوان معراج الدین پرے جو ایک سیاسی رکن بھی ہے کو پولیس نے گزشتہ تین ماہ سے حراست میں رکھا ہوا ہے اور اسے بھی سخت تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے ۔ وفد نے لبریشن کے رہنمائوں کو بتایا کہ پولیس نے علاقے میں بیسیوں نوجوانوںکو غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا ہوا ہے اور انہیںسخت تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے ۔ لبریشن فرنٹ کے ترجمان نے جوانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی سخت مذمت کرتے ہوئے قوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن ،ایمنسٹی انٹرنیشنل اور عالمی ریڈ کراس سے اپیل کی کہ وہ کشمیریوں پر جاری بھارتی مظالم رکوانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ KMS-04/M
