مقبوضہ کشمیر : علی گیلانی کا شہید مقبول بٹ کو خراج عقیدت

سرینگر(مانیٹرنگ ڈیسک)مقبوضہ کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کیچیئرمین سید علی گیلانی نے ممتاز کشمیر ی رہنما شہید محمد مقبول بٹ کو شہادت کی 34ویں برسی پر شاندار خراج عقیدت
 پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہید ایک بہادر اور باہمت حریت پسند تھے، جنہوں نے اپنی جان کا نذرانہ دیکر باطل کے خلاف مزاحمت کا عملی نمونہ پیش کیا۔کشمیر میڈیاسروس کے مطابق سید علی گیلانی نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں نئی دلی کی تہاڑ جیل میں دفن شہید محمد مقبول بٹ اور شہید محمد افضل گورو کی میتوں کو انکے اہلخانہ کے حوالے کرنے کا مطالبہ دہراتے ہوئے کہا کہ یہ سراسر ایک انسانی مسئلہ ہے۔ سید علی گیلانی نے کہا کہ میتوں کو انکے اہلخانہ کے حوالے کرنے کے بجائے جیل کے احاطے میں دفنانے کے عمل سے بھارتی جمہوریت کا اصل چہرہ بے نقاب ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ زندہ قومیں ان سرفروشوں کو کبھی فراموش نہیں کرتیںجو اپنا اج قوم کے روشن کل کے لیے قربان کرتے ہیں۔حریت چیئرمین نے کہا کہ شہید محمد مقبول بٹ ،شہی د محمد افضل گورو اور دیگر لاکھوں شہداء کو خراج پیش کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اس مشن کے ساتھ وفا کی جائے اور اس کو ہر صورت میں اگے بڑھایا جائے۔ سیدعلی گیلانی صاحب نے کہا کشمیری بھارت کے غیر قانونی تسلط سے نجات کیلئے بیش بہا قربانیاں دے رہے اور ان قربانیوں کی حفاظت ایک اہم اور مقدس فریضہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ازادی کی منزل پانے اور قربانیوں کا ثمر حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ کشمیری مقبوضہ علاقے میں موجود بھارت کی کٹھ پتلیوں اور اس کے ایجنٹوں سے مکمل کنارہ کشی اختیار کریںکیونکہ ان بھارت نواز سیاستدانوں کی وجہ سے ہی ہماری ازادی کی منزل دور ہورہی ہے۔ سید علی گیلانی نے کہا کہ یہ بھارت نواز سیاست دان اپنی کرسیوں اور عیاشیوں کے عوض بھارت کے اگے اپنی خودداری کا سودا کرچکے ہیں اور یہ لوگ بے گناہ کشمیریو ں کے قتل عام میں برابر کے شریک ہیں۔
دریں اثنا سید علی گیلانی کی ہدایت پر تحریک حریت جموںوکشمیر کا ایک وفد محمد رفیق اویسی کی قیادت میں شہید محمد افضل گورو کے گھر گیا اور شہید کے فرزند غالب گورو کو تفہیم القران کا نسخہ پیش کیا۔وفدمیں رفیق اویشی کے علاوہ مختار احمد اور رمیز راجہ شامل تھے۔ KMS-02/M