جبری لاپتہ افراد کے اہلخانہ کی کچہری چوک سے فوارہ چوک تک احتجاجی ریلی 

اٹک : 11 روز قبل پر اسرار طریقہ سے اٹک کے مشہور رہائشی و تجارتی مرکز جامعہ تفہیمات اسلامیہ کے قریب سے جبری طور پر لا پتہ ہونے والے حال ہی میں وکالت کا امتحان پاس کرنے والے اٹک کے معروف سینئر ایم بی بی ایس ڈاکٹر ، نائب صدر ڈیفنس آف ہیومن رائٹس پاکستان ڈاکٹر انعام اللہ کے جبری گمشدہ ہونے کے خلاف ڈی ایچ آرکے زیر اہتمام صدر ڈیفنس آف ہیومن رائٹس پاکستان چیئر پرسن آمنہ مسعود جنجوعہ کی قیادت میں ملک بھر سے دیگر جبری لاپتہ افراد کے اہل خانہ جن میں خواتین کی اکثریت شامل تھی نے کچہری چوک سے فوارہ چوک تک احتجاجی ریلی نکالی شرکاءنے بینرز پلے کارڈز اور جبری طور پر لاپتہ ڈاکٹر انعام اللہ سمیت دیگر افراد کی تصاویر اپنے ہاتھوں میں جس پر ان کی رہائی کے لیے نعرے درج تھے بھی اٹھا رکھے تھے تمام خواتین اور مردوں نے ڈاکٹر انعام اللہ کی رہائی کے نعروں والی تصاویر بھی اپنے لباس پر آویزاں کر رکھی تھیں ریلی کے شرکائ تمام راستے نعرہ بازی کرکے چیف جسٹس آرمی چیف وزیر اعظم اور حکومت سے جبری طور پر لاپتہ ڈاکٹر انعام اللہ اور دیگر کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا ریلی میں سابق امیدوار قومی اسمبلی راہنما تحریک انصاف تیمور اسلم ، راہنماجماعت اسلامی خالد محمود ، ملک عمر فاروق، میجر طاہر لورز فورس کے شیخ تنویر احمد ، ضلعی صدر مسلم لیگ ن سلیم شہزاد ، کونسلر بلدیہ میاں شاہنواز شانی،پی ایم اے ،دینی و سیاسی جماعتوں کے کارکنان نے شرکت کی صدر ڈیفنس آف ہیومن رائٹس پاکستان چیئر پرسن آمنہ مسعود جنجوعہ نے کہا کہ انیس اپریل کو شام پانچ بجے ڈی چوک اسلام آباد میں ملک بھر سے جبری طور پر لاپتہ افراد کے بازیاب نہ ہونے کے خلاف ڈیفنس آف ہیومن رائٹس پاکستان کے زیر اہتمام مظاہرہ کیا جائے گا انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر انعام اللہ کے جبری لاپتہ ہونے پر انہوں نے سات اپریل کو اقوام متحدہ میں باقاعدہ تحریری طور پر شکایت درج کرادی ہے اور اس سلسلہ میں ان کی جانب سے روزانہ کی بنیاد پر ای میل کے ذریعہ رابطہ اور معلومات کا سلسلہ جاری ہے پاکستان اقوام متحدہ کے رکن ملک کی حیثیت سے بین الاقوامی قوانین کے نفاذ کا پابند ہے اصل دہشت گرد احسان اللہ احسان اور دیگر کالعدم تنظیموں کے مستند دہشت گرد اداروں کے ریسٹ ہاو¿سوں میں ان کے خصوصی مہمان کی حیثیت سے رہائش پذیر ہیں جبکہ ملک بھر میں شریف، بے گناہ اور بے قصور افراد کو گرے لسٹ اور دیگر الزامات کے تحت ماورائے عدالت جبری طور پر لاپتہ کرنے کا سلسلہ جاری ہے اور اس سلسلے میں کسی بھی حکومت نے محض اداروں کے ناراض ہونے کے خوف سے قانون سازی سے گریز کیا ہے تحریک انصاف ، مسلم لیگ ن ،پی پی پی ، جے یو آئی، ایم کیو ایم اور دیگر جماعتیں جب بھی اقتدار سے باہر ہوتی ہیں تو وہ ان کے کیمپوں میں نہ صرف شریک ہوکر اظہار یکجہتی کرتی ہیں بلکہ ان کے ہر قدم کے شانہ بشانہ چلنے کی یقین دھانی اور گم شدہ افراد کے بارے میں اقتدار میں آکر واضح قانون سازی کی بھی یقین دھانی کراتی رہی ہیں جن میں وزیر اعظم عمران خان، سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف اور ان کے اہل خانہ ، آصف علی زرداری اور ان کے اہل خانہ شامل ہیں تاہم اقتدار میں آتے ہی ان تمام نے طوطا چشمی کی روایت برقرار رکھی سپریم کورٹ میں جبری طور پر لاپتہ افراد کے سات سو پچاس کیس داخل ہیں تیسرے چیف جسٹس تبدیل ہوگئے تاہم سپریم کورٹ میں لاپتہ افراد کے کیسز کی شنوائی نہ ہوسکی وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے ان کے احتجاجی کیمپ میں آکر وعدہ کیا تھاکہ جبری گمشدگی کو جرم قرار دے کر پارلیمنٹ سے قانون منظور کرایا جائے گا کئی ماہ گزر گئے یہ قانون کہاں ہے اور شیریں مزاری کا وعدہ وفا نہ ہوسکا تاہم ڈیفنس آف ہیومن رائٹس پاکستان نے ملک کے معروف قانون دانوں سے مل کر اس سلسلہ میں قانون سازی کا عمل مکمل کرلیا ہے اور پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتیں اپنے وعدوں پر عمل کرتے ہوئے اسے پارلیمنٹ سے منظور کروائیں جو انتہائی متوازن قانون ہے اور اس میں اغوا کرنے کی سزا دس سال سے کم کرکے سات سال کردی گئی ہے ہم اس انتظار میں ہیں کہ کون سے سیاسی جماعت یہ قانون پارلیمنٹ میں لے کر آئے گی اس قانون کی پارلیمنٹ سے منظوری کے بعد جبری گمشدگی جیسی لعنت کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہوجائے گا۔ پاکستان میں کوئی ایک بھی لاپتہ اور جبری طور پر گمشدہ فرد نہیں رہے گا انہوں نے مطالبہ کیا کہ جبری طور پر لاپتہ افراد کو ادارے فوری رہاکریں ان کے خاوند کو جبری طور پر لاپتہ ہوئے چودہ سال گزر گئے ہیں پاکستان میں عمر قید کی سزا چودہ سال جودن رات ملا کر سات سال بنتی ہے انہوں نے عمر قید کی دو سزائیں بھگت لی ہیں ان کے سسر اسی آس اور امید پر اس جہاں فانی سے کوچ کرگئے کہ ان کا بیٹا جسے جبری لاپتہ کیا گیا ہے اسے دیکھ سکیں گے جبری طور پر لاپتہ افراد کے لواحقین کی آواز کو ہرسطح پر دبانے کا سلسلہ طاقت ور اداروں نے بام عروج پر پہنچایا ہوا ہے اسلام میں پردے کی سخت پابندی کا حکم ہے تاہم اپنے پیاروں کی جبری گمشدگی کے سبب انتہائی پاپردہ خواتین گلی کوچوں سڑکوں بازاروں اور چوراہوں پر احتجاج کرنے پر مجبور ہیں لاپتہ افراد جن کا تعلق انتہائی غریب اور متوسط گھرانوں سے ہوتا ہے کے جبری لاپتہ ہونے پر ان کے اہل خانہ غم اور مصیبت کی اس گھڑی کے علاوہ جس مالی پریشانی سے دوچار ہوتے ہیں وہ بیان نہیں کی جاسکتی لاپتہ افراد میں سے ایک کی اہلیہ نے بچوں کی مسلسل بھوک ، پریشانیوں اور دیگر مالی مسائل سے تنگ آکر خود کشی کرلی انہوں نے مطالبہ کیا کہ ڈاکٹر انعام اللہ کو قانون کے مطابق عدالت میں پیش کیا جائے اور ان کا جرم بتایا جائے تاکہ ان کے اہل خانہ اس اذیت ناک صورتحال سے نکلیں اور انہیں معلوم ہو کہ ان کے پیار ے کو کس بنیاد پر جبری لاپتہ کیا گیا ہے جبری طور پر لاپتہ افراد کی اداروں کے ہاتھوں گمشدگی پر سیاسی حکومت کے ذمہ داران وزیراعظم ،اپوزیشن لیڈر ، سپریم کورٹ، وزیر اطلاعات، وزیر داخلہ، وزیر انسانی حکومت پاکستان اور دیگر ارباب اختیاراس صورتحال کا سختی سے نوٹس لیں جبری طور پرلاپتہ ہونے والے افراد سے دوران اسیری انتہائی ظالمانہ اور انسانیت سو ز سلوک رکھا جاتا ہے جس کے سبب اکثریت ذہنی طور پر مفلوج اور بعض افراد پر ہونے والے تشدد کے سبب ان کے جسم کی ہڈیاں اس طرح توڑ ی جاتی ہیں کہ وہ تا دم مرگ معذور ی اور دیگر جسمانی و صحت کے مسائل کا شکار ہوکر معاشرے پر بوجھ بن جاتے ہیں جس کی آئین اور قانون اجازت نہیں دیتا۔