کشمیری شہدائے جموں کی قربانیاں دہرا رہے ہیں:برجیس طاہر

اسلام آباد(اے بی سی نیوز)وفاقی وزیر برائے اُمورکشمیر برجیس طاہر نے یوم شہدائے جموں کے حوالے سے اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ 70سال قبل جموں میںکشمیری مسلمانوں کی ہونے والی نسل کشی کا سلسلہ آج بھی کسی نہ کسی صورت میں بغیر کسی رکاوٹ کے مقبوضہ کشمیر میں جاری ہے اور کشمیری آج بھی قربانیاں دہرا رہے ہیں ۔انہو ں  نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی جانب سے جعلی مقابلوں میں نہتے کشمیریوں کو شہید کرنے کے واقعات کی پرُ زور الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ قابض بھارتی فوج روزانہ کی بنیاد پر کشمیریوں کو ماورائے عدالت قتل کر رہی ہے جس کا عالمی دُنیا کو فوری نوٹس لینا چاہیے ۔انہوںنے کہا کہ جعلی مقابلوں میں نہتے کشمیری عوام کو شہید کرنے کا سلسلہ ایک معمول بن چکا ہے جس کے ذریعے بھارت اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے ۔انہوںنے کہاکہ بھارتی انسانی حقوق کمیشن کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں دوہزار سے زائد اجتماعی قبریں موجود ہونے کی تصدیق اس امر کوواضح کرتی ہے کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیرپر اپنا ناجائز تسلط قائم رکھنے کے لیے لاکھوں افراد کو شہید کیا ہے ۔انہوں نے کہاکہ یہی وجہ ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں غیر ملکی غیر جانبدارانسانی حقوق کے اداروں کو داخلے کی اجازت نہیں دیتا کیونکہ ایسا کرنے سے انسانی حقوق کے حوالے سے بھارت کا مکروہ چہرہ دُنیا پر بے نقاب ہو جائے گا ۔ انہوںنے کہاکہ بھارتی انسانی حقوق کمیشن کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں دوہزار سے زائد اجتماعی قبروں کے اعتراف سے بین الاقوامی دُنیا اور انصاف کے عالمی اداروں کی آنکھیں کھل جانی چاہیے جو پچھلی کئی دہائیوں سے اپنے ذاتی، سیاسی و معاشی مفادات کی خاطر مقبوضہ کشمیر میں انسانی المیے سے چشم پوشی اختیار کیے بیٹھے ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہاکہ بھارت کی سخت پابندیوں کے باوجود بھارت کے مقبوضہ کشمیر میں کیے جانے والے ظلم وتشدد کی کاروایاں دُنیا کے سامنے آ رہی ہیں ۔2016 ء میں دُنیا نے کشمیریوں کی چھروں سے چھلنی آنکھوں کو دیکھا جب قابض بھارتی فوج نے آزادی اور حق خودارادیت کے خواب بسائے کشمیری نوجوان بچوں اور بچیوں کی آنکھوں کو چھلنی کرکے اُن کو عمر بھر کی بینائی سے محروم کر دیا اور جس کا سلسلہ آج بھی بے دریغ جاری ہے ۔انہوں نے کہاکہ بہادر کشمیر ی شہدا ئے جموں جیسے لاکھوں آباو اجداد اور بہن بھائیوں کی قربانیاں دینے کے باوجود اپنے حق خودارادیت کے پیدائشی حق پر ثابت قدمی سے قائم ہیں اور بھارت کا اندھا دھند تشدد اور درجنوں کالے قوانین بھی اُن کے عزم کو ہلانے میں ناکام رہے ہیں انہوںنے کہاکہ بھارت کویہ جان لینا چاہیے کہ وہ پچھلے ستر سال میں کشمیریوں کو سبز باغ دکھانے ،مذاکرات کا جھانسہ دینے سے لے کر ماورائے عدالت قتل ،خواتین کی عصمت دری اور اُن کی اجتماعی قبریں بنانے تک تمام قسم کے ہتھکنڈے اپنا چکا ہے جس کے باوجود وہ کشمیریوں کونہیں ڈرا سکا ہے انہوں نے کہا کہ آج کشمیریوں کی تیسری نسل بھارت کے خلاف اپنے حقوق کی حفاظت کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں اوربھارت کے ظالم ہتھکنڈوں کے باوجود اپنے حق خود ارادیت کے لیے اُسی جوش وجذبے سے جدوجہد کر رہے ہیں جس جوش و جذبے سے اُن کے اسلاف نے اپنے اس حق لیے قربانیاں پیش کیں تھیں بلکہ آج یہ جذبہ اس مقام تک پہنچ چکا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں ہر شہید ہونے والے فرد کو سبز ہلالی پرچم میں دفنا یا جاتاہے اور کشمیری نوجوان پاکستان سے اپنی وابستگی کا اظہار آٹھ لاکھ بھارتی فوج کی موجودگی کے باوجود اُن کے سامنے سبز ہلالی پرچم لہرا کر کرتے ہیں انہوں نے کہاکہ اپنے مقصد میں اس قدر لگائو اور عزم یقینا جلد کشمیری عوام کو آزادی کی منزل سے ملائے گی اور بھارت کا مقبوضہ کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ بنانے کا خواب خاک میںمل جائے گا۔