مستغیث پارٹی سے ملکر واویلا کرنیوالے اصل ملزم ہیں، آصف چغتائی

جنوبی باغ (نمائندہ کشمیرٹوڈے) پروفیسر انور قتل کیس سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ، جماعت اسلامی یک طرفہ مظاہرہ نہ کر حقائق دیکھ کر مظاہرہ کرے متعدد حلقوں نے اس مظاہرے کی مذمت کی ہے ایف آئی ار میں نامزد چند ملزم مستغیث پارٹی سے ملکر ہمارے خاندان پر کیچڑ اچھال رہے ہیں ہم بھائیوں ، بھتیجوں کا نہ تو کسی سے جھگڑا ہوا اور نہ ہی کسی سے کوئی دشمنی ہے ، جن کا جھگڑا ہوا وہی مستغیث پارٹی کیساتھ ملکر ہمارے خلاف سازشیں کر کے بد نام کر رہے ہیں ، ایس ایس پی وقت میر پور حال کوٹلی عرفان سلیم نے تفتیش میں ہمیں بے گناہ قرار دیا ، کوئی بھی غیر جانبدار افیسر انکوائری کرے گا تو اصل قاتل وہی نکلیں گے جو مستغیث پارٹی کے ساتھ ملکر واویلا کر رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار سردار اصف چغتائی اور سردار محمد حفیظ نے یہاں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر انکے ہمراہ حاجی محمد خان ، محمد زہین خان ، سردار فاروق،سردار سعید چغتائی و دیگر بھی موجود تھے ۔ انہوں نے کہا کہ ہاڑی گہل بازار میں پروفیسر انور کے قتل کے روز جو جھگڑا ہوا اس سے ہمارا کوئی تعلق نہیں تھا ہمارا نہ تو کسی سے جھگڑا ہوا اور نہ ہی ہماری کسی سے کوئی دشمنی ہے ، قتل والے روز بازار میں اور بازار سے باہر جو جھگڑا ہوا وہ قتل کی ایف ائی ار میں درج کاشان ولد فارض اور دیگر کا ہوا ہمارے خاندان کا کوئی فرد اس جھگڑے میں شامل نہیں تھا بعد ازاں قتل کے حقائق چھپانے اور ہمیں پھنسانے کے لیے کاشان وغیرہ نے انسپکٹر راجہ اختر سے میلاپ کر لیا اور ہمیں پھنسانے کی سازش تیار کی ، بعد ازاں ائی جی پولیس نے کیس کی انکوائری ایس ایس پی عرفان سلیم کے حوالے کی جنہوں نے غیر جانبدارانہ انکوائری کی اور بے گناہ قرار دیا ، انہوں نے کہا کہ پروفیسر انور کے اصل قاتل وہی ہیں جنہوں نے جھگڑا کیا اصل محرک وہی ہیں جو مستغیث پارٹی کے ساتھ مل کر اپنی ہمدردی ظاہر کر کے خود بچنا چاہتے ہیں اور ہمارے بھائی اور خاندان پر کیچڑ اچھال رہے ہیں ، انہوں نے کہا کہ اگر کسی غیر جانبدار افیسر سے ایک مرتبہ پھر انکوائری کرائی جائے تو قاتل مستغیث پارٹی کی صف سے ہی برآمد ہوں گے انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ پروفیسر انور قتل کیس سے ہمارا سرے سے کوئی تعلق نہیں ، انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے زیر اہتمام مظاہروں میں ہماری کردار کشی سے بل جماعت کے اکابرین حقائق معلوم کریں اور یکطرفہ ہمدردی میں جماعت کی ساکھ خراب نہ کریں۔