ریاست کے دونوں اطراف بھارتی یا پاکستانی باشندے ریاستی باشندے نہیں بن سکتے چوہدری طارق فاروق

مظفرآباد(صباح نیوز) آزاد کشمیر حکومت کے سینئر وزیرو سینئر نائب صدر مسلم لیگ ن آزاد کشمیر چوہدری طارق فاروق نے گزشتہ روز جامعہ کشمیر میں'' مسلہ کشمیر اور نوجوانوں کے کردار'' کے موضوع پر منعقدہ سیمینار میں بحثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے متنازعہ ہونے کی اس سے واضح دلیل اور کیا ہو سکتی ہے کہ ریاست کے دونوں اطراف بھارتی یا پاکستانی باشندے ریاستی باشندے نہیں بن سکتے اگر مودی ریاست کی متنازع حیثیت کو تسلیم کرنے سے انکار کرتا ہے تو اپنی سات لاکھ افواج کی موجودگی میں ریاستی باشندہ بن کر دکھائے انہوں نے کہا کہ بھارت ستر سالوں سے تحریک کو دبانے کے لیے ہر حربہ آزما چکا ہے جس میں وہ آج تک کامیاب نہیں ہو سکا کشمیری ستر سال سے لڑ رہے ہیں ستر سال مزید لڑیں گے مگر آزادی اور پاکستان کے بغیر کوئی حل قبول نہیں کریں گے.انہوں نے کہا کیونکہ کشمیری مذہب یا علاقہ کی بنیاد پر نہیں بلکہ جغرافیائی اور زمینی حقائق کے مطابق اپنے آپ کو پاکستان سے وابستہ کرنا چاہتے ہیں.انہوں نے کہا کہ کشمیری اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق اپنے حق خود ارادیت کے تسلیم شدہ حق کے مطابق اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنا چاہتے ہیں اگر پوری دنیا کی آزادی کی تحریکوں کے حق کو تسلیم کر لیا گیا ہے توکیا کشمیریوں کی رگوں میں بہنے والا خون انسانی خون نہیں؟ انہوں نے کہا پاکستانی لیڈر شپ مسلہ کشمیر کی حساسیت کو سمجھتے ہوئے مسلہ کو از سر نو جائزہ لے کر آگے بڑھائے تو دنیا کو قائل کیا جا سکتا ہے. کشمیری بنیادی فریق کے اعتبار سے خود بات کریں تو ان کی بات زیادہ موثر ہو گی.انہوں نے کہا جنرل مشرف نے آوٹ آف باکس حل تلاش کرنے کی تجویز دی تو کشمیریوں نے اسے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق کشمیریوں کو ان کا بنیادی حق دینے کے مطالبے پر قائم رہے انہوں نے کہا کشمیری مظبوط اور توانا پاکستان چاہتے ہیں پاکستان مظبوط ہو گا تو کشمیریوں کی بات زیادہ بہتر طریقے سے دنیا تک پہنچا سکتا ہے کیونکہ پاکستان کے علاوہ کشمیریوں کا دنیا میں اور کوئی ہمدرد نہیں. انہوں نے پاکستان کی مختلف اور ٹاپ رینکنگ جامعات سے آئے طلبا کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کے پاکستان ھماری صرف سفارتی اور اخلاقی حمایت کرے۔ کشمیری اپنی آزادی کے لیے خود جدوجہد کرتے رھیں گے۔کشمیری پاکستان کے دفاع کی مظبوط دیوار ہیں. نوجوان کشمیر کے وکیل بنیں اور ملک بھر کے تعلیمی اداروں میں تحریک کو اجاگر کرنے کے لیے ایمبیسڈرز کا کردار ادا کریں. انہوں نے کہا پاکستان میں بسنے والوں سے زیادہ پورپ برسلز میں اہل علم و دانش کشمیر کے جنگی و جغرافیائی حالات سے آگاہ ہے. غور طلب بات ہے کے پاکستان کی تعلیمی درسگاہوں سمیت میڈیا میں کشمیر پر کم توجہ کیوں دی جاتی ہے جسے ترجیحات میں شامل کرنا وقت کانتقاضہ ہے. انہوں نے کہا مقبول بٹ، افضل گورو کے بعد برہان وانی تحریک کے تازہ ترین درخشاں ستارہ ہیں. جنہوں نے اپنی عملی جد جہد سے تحریک میں نئی روح ڈالی. انہوں نے کہا کشمیریوں نے پاکستان کے لیے پہلے بھی اپنا سب کچھ قربان کیا ہے آئیندہ بھی کریں گے. ہم نے پاکستان کو روشن کرنے کے لیے اپنے اباو اجداد کی قبروں کی قربانی دی ہے.انہوں نے کہا پاکستان کی سیاسی جماعتوں کو اپنے سیاسی ایجنڈے سے باہر آ کر کشمیر پر یک زبان ہونے کی ضرورت ہے. پاکستانی عوام نے 5 فروری کو کشمیریوں کے ساتھ جس طرح یک زبان ہو کر یکجہتی کا اظہار کیا اس سے کشمیریوں کے حوصلے بلند ہوئے ہیں انہوں نے کہا میں حکومتی یا سیاسی نمائندے کی حیثیت سے زیادہ ایک کشمیری ہونے کی حیثیت سے آیا ہوں اور نوجوانوں کو دیکھ کر خوشی ہو رہی ہے. انہوں نے کہا مسلم لیگ ن کی موجودہ حکومت نے مسلہ کشمیر کو دنیا کے سامنے لانے کی مثبت کوششیں کی ہیں اور تحریک آزادی اولین حکومتی ترجیحات میں سر فہرست ہے جس کے نتائج بھی برآمد ہو رہے ہیں انہوں نے کہا یونیورسٹی کے چانسلر اور وائس چانسلر صاحبان کی طرف سے اس طرح کی مثبت ایکٹوٹیز کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے سینئر وزیر حکومت چوہدری طارق فاروق نے سیمینار سے قبل پاکستان بھر سے آئے ہوئے مختلف یونیورسٹیوں کے طلبا کے مابین تقریری مقابلہ بعنوان ''اب پاکستان بولے گا کشمیر میں'' سے منعقدہ تقرری مقابلہ میں بھی بحثیت مہمان خصوصی شرکت کی اور چار گھنٹے سے زائد پروگرام میں بیٹھ کر طلبا و طالبات کی جانب سے کی جانے والی تقاریر سنیں اور تقریب کے بعد مقابلہ میں پوزیشن ہولڈر طلبا و طالبات میں انعامات تقسیم کئے. اور آخر میں پروگرام آرگنائزرز کی طرف سے انہیں شیلڈ پیش کی گئیں.