پریم یونین ریلوے کو تباہ کرنیکی اجازت نہیں دیگی، اشتیاق عرفان

ہم نے اس غیر قانونی اقدام کو عدالت عالیہ میں چیلنج کیا اور حکم امتناعی کے ذریعے یہ غیر قانونی بھرتیوں کا عمل رکوا دیا ،پریس کانفرنس
اٹک (ڈیلی اٹک نیوز ویب مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی وزیر ریلوے کو بدحالی ، بد انتظامی ، کرپشن ، لوٹ مار ، پیسے لے کر ملازمتیں فراہم کرنے ، مزدور کش پالیسیوں پر عمل پیرا ہیں ، سی بی اے پریم یونین وفاقی وزیر شیخ رشید احمد کو ریلوے کو تباہ کرنے کی اجازت نہیں دے گی اور ان کے غیر قانونی کاموں ، غیر قانونی ہتھکنڈوں میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے جس کے سبب ان کے ایماء پر پریم یونین کے عہدیداروں کے دور دراز علاقوں میں تبادلے کیے گئے ہیں جن کو این آئی آر سی کے ذریعے حکم امتناعی حاصل کر کے رکوا دیا گیا ہے ان خیالات کا اظہار مرکزی نائب صدر پریم یونین اور صدر پریم یونین راولپنڈی ڈویژن ڈاکٹر اشتیاق عرفان اٹک میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر امیر ضلع جماعت اسلامی اٹک سردار امجد علی خان ، ڈپٹی سیکرٹری پریم یونین راولپنڈی ڈویژن حافظ دل مراد ، صدر پریم یونین کالونی زون راولپنڈی ذوالفقار احمد ، ضلعی سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی حافظ محمد بلال ، امیر شہر میاں محمد جنید ، سابق کونسلر بلدیہ اٹک
شہاب رفیق ملک اور دیگر موجود تھے ڈاکٹر اشتیاق عرفان نے کہا کہ
راولپنڈی ڈویژن جس کی حدود راولپنڈی سے حسن ابدال ، جہلم ، چکوال ، سرگودھا ڈویژن اور ہزارہ ڈویژن تک ہے میں 900 اسامیوں کی بھرتی میں سے ساڑھے 400 کی بھرتی رشوت لے کر کی گئی جس پر ہم نے اس غیر قانونی اقدام کو عدالت عالیہ میں چیلنج کیا اور حکم امتناعی کے ذریعے یہ غیر قانونی بھرتیوں کا عمل رکوا دیا 3 سے 4 تاریخیں گزرنے کے باوجود ریلوے کی جانب سے عدالت میں ٹھوس موَقف پیش نہیں کیا جا سکا ۔اس پر وفاقی وزیر سیخ پا ہوئے اور انہوں نے ہماری سی بی اے پریم یونین راولپنڈی کے عہدیداروں کے تبادلے ملک کے دور دراز علاقوں میں کرا دیئے جس پر ہم نے این آئی آر سی سے حکم امتناعی حاصل کر کے یہ احکامات معطل کرا دیئے اصولی طور پر پی ایم پیکج اور ٹی ایل اے کے 10 سال سے کام کرنے والے مزدوروں کو جن میں سے بعض کی عمریں 40 سال سے تجاوز کر چکی ہیں کو بھرتی کرنے کے بجائے مک مکا کر کے نئے لوگوں کو بھرتی کیا جا رہا تھا ۔ان پہلے سے کام کرنے والے افراد کو ان کی ملازمتوں پر مستقل کرنے کے
علاوہ جو بھرتیاں رہ جائیں ان پر میرٹ کے تحت بھرتیاں کی جائیں۔
انہوں نے وفاقی وزیر شیخ رشید احمد کو متنبہ کیا کہ وہ اوچھے ہتھکنڈوں سے باز آ جائیں اور ریلوے بیورو کریسی جو ان کو غلط پٹیاں پڑھا رہی ہے اس کی بجائے حقائق کو سامنے رکھیں سابق وفاقی وزیر سعد رفیق کے دور میں ریلوے کا خسارہ کم ہوا اور اب شیخ رشید احمد پہلے سے چلنے والی ٹرینوں کے ر اولپنڈی سے لاہور تک اور نام اور لاہور سے کراچی تک اور نام دے کر جو ڈرامہ بازیاں کر رہے ہیں وہ ان کی نیک نامی کا سبب نہیں بن رہیں ریلوے میں آج بھی وزیر اعظم عمران خان کسی بہتر شخصیت کو ریلوے کی وزارت دے دیں تو ریلوے ایک بار پھر اپنے قدموں پر کھڑی ہو سکتی ہے کیونکہ کچھ عرصہ بعد سی پیک کے ایم ایل پروگرام کے تحت ریلوے انتہائی جدید دور میں داخل ہو گی اور پشاور سے کراچی تک کا فیصلہ 8 گھنٹے میں طے کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں یہ سب کچھ اس وقت ہی ممکن ہو گا جب شیخ رشید کو ریلوے کی وزارت سے فارغ کیا جائے گا ۔
ریلوے کی کرپٹ بیورو کریسی جس کو قانونی طور پر اپنے گھروں میں ایک بھی ملازم رکھنے کی اجازت نہیں ایک افسر نے 10 سے 12 گینگ مین اپنے گھروں پر تعینات کر رکھے ہیں اور فیلڈ میں کام کرنے والے سٹاف میں عملہ کی قلت کی یہ حالت ہے کہ کسی کی فوتیدگی پر اسے ایک دن کی رخصت دی جاتی ہے اور 10 منٹ لیٹ ہونے پر شو کاز نوٹس جاری کر دیا جاتا ہے جبکہ گھروں میں کام کرنے والے گینگ مینوں کی حاضری اور چیکنگ کا کوئی ریکارڈ نہیں کم از کم تنخواہ 20 ہزار روپے بھی ہو تو ایک افسر کے گھر میں کام کرنے والے مزدوروں کی تنخواہ 2 سے اڑھائی لاکھ ماہوار اور 30 لاکھ روپے سالانہ بنتی ہے اور سینکڑوں افسروں کے گھروں میں ہزاروں گینگ مین کام کر رہے ہیں ان کی تنخواہ اربوں روپے پر چلی جاتی ہے جو سرکاری خزانے پر بوجھ کے سوا کچھ نہیں ۔
سی بی اے پریم یونین مرکزی صدر حافظ سلیمان بٹ کی قیادت میں ریلوے کے 80 ہزار مزدوروں کے حقوق کی جنگ لڑ رہی ہے شیخ رشید احمد کا ریلوے میں پریم یونین کو ختم کرنے کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو گا ریلوے کی بحالی مزدوروں کی خوشی میں ہے آج وفاقی وزیر شیخ رشید احمد کہتے ہیں کہ وہ پی ایم پیکج اور ٹی ایل اے کے مزدوروں کو مستقل کرنا چاہتے ہیں تاہم پریم یونین اس میں رکاوٹ ہے جبکہ اصل صورتحال یہ ہے کہ پریم یونین نے صرف راولپنڈی ڈویژن میں غیر قانونی بھرتیوں پر عدالت سے حکم امتناعی حاصل کیا ہوا ہے جبکہ ریلوے کے باقی ڈویژن آزاد ہیں وفاقی وزیر دیگر ریلوے ڈویژن میں پی ایم پیکج اور ٹی ایل اے کے ملازمین کو مستقل کر دے ہمارے جنرل منیجر ریلوے سے کامیاب مذاکرات ہوئے جس میں انہوں نے ہمارے مطالبات کو جائز قرار دیا تاہم بعدازاں کہا کہ وزیر ریلوے ان کو ماننے کیلئے تیار نہیں ہمارے پاس ریل کا پہیہ جام کرنے کا اختیار موجود ہے ۔
