محکمہ شاہرات نیلم میں کروڑوں کی ایڈوانس ادائیگیوں کی تحقیق لٹک گئی

نیلم (بیورورپورٹ)  حکومت آزاد کشمیر کی گڈ گورنس اور احتساب کے دعوے ہوا میں سابق دور حکومت میں محکمہ شاہرات نیلم میں ٹھیکیداروں کو کی جانے والی کروڑوں کی ایڈوانس ادائیگیوں کی تحقیق نہ ہوسکی نہ ادھورے پراجیکٹوں پر کام شروع کروایا جاسکا، سیکرٹری ورکس بھی مافیہ کے سامنے بے بس محکمہ شاہرات کے کرپٹ آفیسران کے خلاف کاروائی بھی نہ کی جاسکی۔تفصیلات کے مطابق حکومت آزاد کشمیر نے گڈگورننس اور احتساب کے عمل کا دعویٰ کیا تھا لیکن محکمہ شاہرات نیلم میں ہونے والے کروڑوں کے گھپلوں کی تحقیقات نہ کی جاسکی۔سابق دور حکومت میں نیلم ویلی کی مختلف رابطہ سڑکوں کے ٹھیکداروں کو بھاری کمیشن کے عوض کروڑوں روپے ایڈوانس ادائیگی ہوئی تھی جس کے باعث ٹھیکداروں نے کام کرنے کے بجائے ایڈوانس ادائیگیاں لیکر اپنے بنک اکائونٹ اور پراپرٹی بنائی لیکن باوجود اسکے سڑکوں پر کام شروع نہ کیئے جاسکے سپیکر اسمبلی ایم ایل اے حلقہ نیلم کی طرف سے بھی دوران الیکشن مہم اعلانات اور دعوے کیئے گئے تھے کہ محکمہ شاہرات کی ایڈوانس ادائیگیوں پر کام کروائیں گے اور مافیا کے خلاف ایکشن لیا جائے گا لیکن باوجود اسکے الیکشن میں بھاری مینڈیٹ کے باجود نہ تو مافیا کے خلاف کاروائی کی جاسکی اور نہ ہی ٹھیکداروں سے کام کروایا جاسکا انتخابی مہم کے دوران حکومت کے بلند وبانگ دعوئوں کی قلعی الیکشن میں کامیابی کے بعد کھل گئی  سیکرٹری ورکس نے اپنے دورہ نیلم کے دوران مافیا سے ایڈوانس ادائیگیوں پر کام یا رقم کی وصولی کا اعلان کیا لیکن باوجود سکے مافیا نے انہیں بھی یرغمال بنالیا اورایکشن لینے کے بجائے خاموشی پر مجبور کردیا۔عوامی حلقوں میں شدید تشویش چیف سیکرٹری سے نوٹس لینے کا مطالبہ۔