ہاڑی گہل:محکمہ لینڈ ریوینو میں 50ارب سے زائد کے گھپلوں کا انکشاف

ہاڑی گہل (نمائندہ کشمیر ٹوڈے) محکمہ ''ان لینڈ ریوینیو آزادکشمیر'' میں 50ارب روپے سے زائد گھپلوں کا انکشاف، کمشنر اپیلز محکمہ انکم ٹیکس اشتیاق احمد نے گھپلوں بارے سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا، محکمہ کے کرپٹ آفیسران کمشنر اشتیاق احمد کی کردار کشی پر اتر آئے، ایماندار آفیسر کو کرپشن کی نشاندہی پر جان کے لالے پڑ گئے، کرپٹ آفیسران ریاستی خزانے کو شیرِ مادر سمجھ کر ہڑپ کرتے رہے، نشاندہی پر محکمے کے مگرمچھوں پر لرزہ طاری ہوگیا، معتبر ذرائع کے مطابق اگست 2013ء میں کمشنر اپیلز اشتیاق احمد نے سیکرٹری کشمیر افیئرز کو ان لینڈ ریوینیو کے کرپٹ آفیسران کی 8بلین روپے کی کرپشن کی 14صفحات پر مشتمل رپورٹ ارسال کی تھی لیکن تاحال کارروائی نہ ہو سکی۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ دنوں کمشنر اپیلز کے خلاف ایک من گھڑت خبر اخبار میں چھپی جس کی تحقیق پر معلوم ہوا کہ محکمے کے کرپٹ آفیسران نے اپنی کرپشن چھپانے کے لئے کمشنر اشتیاق احمد کے خلاف ''کرپشن کی ٹیبل سٹوری'' ڈیزائن کرائی ہے جب کہ حقائق سٹوری کے بالکل مغائر ہیں امر واقعہ یہ ہے کہ محکمہ ان لینڈ ریوینیو آزادکشمیرکے کرپٹ آفیسران 2009ء سے تا حال قومی دولت کو لوٹ رہے ہیں جس کے متعلق کمشنر اشتیاق احمد نے 8بلین کرپشن کی تفصیلی رپورٹ سیکرٹری کشمیر افیئرز کو 2013ء میں ارسال کی تھی اور موجودہ وقت میں اشتیاق احمد نے مذکورہ کرپشن بارے سپریم کورٹ سے رجوع کر رکھا ہے کرپٹ آفیسران کو خدشہ ہے کہ وہ عنقریب احتساب کے شکنجے میں جکڑے جانے والے ہیں اس لئے اشتیاق احمد کو ہراساں کرکے خاموش کرانا چاہتے ہیں اس معاملے پر کمشنر اپیلز کے خلاف خبر لگوائی گئی اس کی حقیقت یہ ہے کہ نیلم جہلم کمپنی نے نیلم جہلم پروجیکٹ کے لئے جرمنی سے ٹنل بورنگ مشین (TBM) جس کی مالیت 20ارب روپے بنتی ہے بذریعہ کراچی پورٹ درآمد کرائی مشین کی درآمدی ڈیوٹی وصول کرنے کی مجاز اتھارٹی تحت قانون کلکٹر کسٹم کراچی ہے جب کہ ان لینڈ ریوینیو آزادکشمیر نے کمپنی پر دوہری ڈیوٹی عائد کر دی جس کے خلاف کمپنی نے کمشنر انکم ٹیکس اپیلز کو رجوع کیا جس نے قانون کے مطابق فیصلہ کرکے کرپٹ مافیا کو دوہری ڈیوٹی ہڑپ کرنے سے روک دیا جس پر مافیا میں کھلبلی مچ گئی اور کمشنر اشتیاق احمد کے خلاف اخباری پروپیگنڈہ شروع کر دیا ضرورت اس امر کی ہے کہ آزادکشمیر میں جاری ہائیڈل پاور منصوبوں پر کام کرنے والی کمپنیوں، میرپور میں قائم فوم اور سگریٹ بنانے والی کمپنیوں سے اربوں کا ٹیکس وصول کیا جاتا ہے جسے تحت قانون انکم ٹیکس ، سیلز ٹیکس اور ایکسائز ڈیوٹی کا فرانزک آڈٹ کرایا جانا چاہیئے تاکہ 50ارب سے زائد کے گھپلوں میں ملوث کرپٹ مافیا کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جا سکے اور قومی خزانے کو دیمک کی طرح چاٹنے والوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جا سکے۔