ایک ہی شخص کے نام 3 ہزار کینال بے نامی جائیدادوں کا انکشاف

اسلام آباد: ایف بی آر کی تحیقاتی ٹیم نے توصیف نامی شخص کی تین ہزار کینال سے زائد بے نامی جائیدادوں کا سراغ لگایا۔

 فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں مزید 3 ہزار کینال سے زائد رقبے  پر مشتمل بے نامی جائیدادیں رکھنے و الے 12 بےنامی داروں کے خلاف ریفرنس دائر کردیئے جس کے بعد ایف بی آر کے ڈائریکٹوریٹ جنرل انسداد بے نامی کی طرف سے دائر کردہ بے نامی ریفرنسز کی تعداد 34 ہوگئی ہے۔

تفتیش کے دوران اکثریتی بے نامی داروں نے جائیداد سے لاتعلقی کے تصدیقی بیان جمع کروا دیئے ہیں جب کہ بے نامی جائیدادوں کے اصل مالک توصیف احمد نے بے نامی جائیدادوں کی ملکیت کا اعتراف بھی کرلیا ہے، ڈی جی انسداد بے نامی کی ٹیم نے مذکورہ کیس کی تحقیقات مکمل کرکے شواہد کی بنیاد پر ریفرنس جمع کروا دیئے جس میں بتایا گیا ہے کہ اسلام آباد میں توصیف نامی شخص کی 3 ہزار کینال سے زائد بے نامی جائیدادوں کا سراغ لگایا گیا، ملزم نے یہ جائیدیں 12 مختلف بے نامی داروں کے نام پر رکھی ہوئی ہیں۔

تحقیقاتی رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے ان بے نامی جائیدادوں میں سے 363 کینال طاہر رؤف، 208 کینال محمد صادق ،231 کینال محمد انس، 279 کینال اعجاز احمد، 120 کینال عبدالشکور، 100 کینال فیصل احمد، 185 کینال وقار نسیم، 74 کینال احمد یار، 99 کینال  آصف محمود، 1160 کینال ثناء حسین، 215 کینال فیاض حسین گیلانی اور100 کینال زمین سکندر حسین نامی بے نامی دار کے نام پر رکھی ہوئی تھی۔

ڈی جی انسداد بے نامی کی تحقیقاتی ٹیم مذکورہ کیس میں توصیف احمد کے خلاف شواہد اکٹھے کیے اور ان شواہد کی بنیاد پر دوران تفتیش توصیف احمد ولد محمود علی نامی شخص نے ان بے نامی جائیدادوں کا مالک ہونے کا اعتراف بھی کرلیا۔ رپورٹ کے مطابق ان بے نامی جائیدادوں کی قیمت 2 ارب روپے سے زائد ہے جب کہ ان کی مارکیٹ ویلیو 3 ارب روپے سے بھی زائد ہے۔

ذرائع کے مطابق  ایف بی آر نے بے نامی جائیدادیں رکھنے والے خیبر پختونخوا کے معروف سیاستدانوں سمیت ملک کے نصف درجن سے زائد بڑے سیاستدانوں کے خلاف بھی شواہد جمع کرلیے ہیں اور آئندہ 10 سے 15 روز کے اندر بے نامی جائیدادیں رکھنے والے ملک کے بڑے سیاستدانوں کے خلاف بھی ریفرنس دائر کیے جائیں گے۔