نیلم جہلم سے فروری میں پیداوار شروع ہوجائیگی:پراجیکٹ ڈائریکٹر
مظفرآباد (صباح نیوز)پراجیکٹ ڈائریکٹر نیلم جہلم ہائیڈرو الیکٹرک پراجیکٹ نیئرعلائو الدین نے کہا ہے کہ نیلم جہلم ہائیڈرو الیکٹرک پراجیکٹ پر 95فیصد کام مکمل ہو چکا ہے ۔28 فروری 2018میں پہلا یونٹ اپنا کام شروع کر دے گا۔ بعدازاں اپریل ، مئی 2018تک نیلم جہلم پراجیکٹ کے 4یونٹ نیشنل گریڈ میں شامل ہو جائیں گے ۔پراجیکٹ کی تکمیل سے969میگا واٹ بجلی پیدا ہوگی ۔پاور لائنز پر بھی 94فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔ پراجیکٹ کی تکمیل سے اوسطاً 5.150بلین یونٹ سالانہ بجلی پیدا ہوگی اور تقریباً50بلین روپے سالانہ ریونیو حاصل ہوگا بعدازاں اس میں سالانہ اضافہ ہوتا رہے گا۔ تمام پراجیکٹ کی انوائر منٹل اسٹڈی کی ہوئی ہے ۔حکومت آزاد کشمیر اور واپڈ ا کے درمیان معاہدہ بھی زیر کار ہے اور پراجیکٹ پرکام بھی معاہدہ میں درج شرائط کے مطابق ہی کیا جارہا ہے ۔ پراجیکٹ کی تکمیل سے مقامی آبادی کو بھی ترجیحی بنیادوں پر روز گار کے مواقع میسر آئیں گے ۔ان خیالات کا اظہار پراجیکٹ ڈائریکٹر نیلم جہلم پراجیکٹ نیئر علائو الدین نے میڈیا کو پریس بریفنگ دیتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر پراجیکٹ کے دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے ۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ جھیل کی بھرائی کی وجہ سے دریا بالکل خشک ہو جائے گا جس سے نوسیری سے نیچے علاقے متاثر ہو سکتے ہیں اور دریا میں کم پانی کی وجہ سے بد بو آئی گی ۔انہوں نے واضح کیاکہ دریا کا پانی مکمل طور پر کسی صورت بند نہیں کیا جائے گا۔ آزاد کشمیر حکومت سے معاہدہ کے تحت کم از کم 530کیوسک (15کیومکس )پانی دریا میں موجود رکھا جائے گا جب کہ گرمیوں کے موسم میں دریا کا بہائو تقریبا معمول کے مطابق ہوگا اور دریا میں پانی کا بہائو اوسطا 18000کیوسک (500کیومکس )تک ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ابتدائی طور پر وسط جنوری 2018تک 425کیوسک (12کیومکس ) پانی ہی روکاجائے گا اور اس سے زائد پانی جو کہ اوسطا 1800کیوسک (50کیومکس )بنتا ہے دریا میں بہتا رہے گا۔ اس لیے اس سلسلے میں پائے جانے والے خدشات درست نہیں ہیں ۔پراجیکٹ ڈائریکٹر نے کہا کہ فوری طور پر ایسا کوئی مسئلہ پیدا ہونے کے امکانات نہیں ہیں کیونکہ موجودہ حالات میں بھی اوسطا 1800کیوسک (50کیومکس )تک پانی دریا میں بہتا رہے گا۔ جبکہ موسم گرما میں کسی بھی قسم کی پانی کی قلت نہیں ہوگی ۔انہوں نے کہا کہ ماکڑی واٹر سپلائی سکیم کے لیے صرف 35کیوسک ( ایک کیومکس ) پانی درکار ہوتا ہے ۔انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ واپڈا نیلم جہلم ہائیڈروپاور کمپنی نے 500ملین روپے پہلے ہی ماکڑی واٹر سپلائی سکیم کی ممکنہ اثرات کی بحالی کے لیئے 2012سے مختص کیئے ہوئے ہیں اور حکومت آزاد کشمیر کے متعلقہ محکمہ نے اس منصوبے پر کام کرنا ہے تاکہ اس سے متعلقہ خدشے کا ازالہ کیا جاسکے ۔
#/S
