ن لیگ اور پی ٹی آئی نے سیاست کو داغدار کردیا نیلم جہلم پراجیکٹ کا فوری معاہدہ کیا جائے پیپلز پارٹی

اسلام آباد (نامہ نگار خصوصی)پاکستان پیپلز پارٹی آزادکشمیر نے 30 اکتوبر کو پارٹی کے 50 ویں یوم تاسیس کے موقع پر پریڈ گرائونڈ میں ہونے والے جلسہ میں آزادکشمیر سے ہزاروں افراد کی شرکت یقینی بنانے کے لئے تیاریوں کا آغاز کر دیا۔ انتظامیہ، استقبالیہ اور میڈیا کمیٹیوںسمیت نصف درجن کے قریب کمیٹیاں تشکیل دے دی گئیں۔ آزادکشمیر سے زیادہ سے زیادہ عوام کو چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے جلسہ میں لانے کے لئے باقاعدہ عوامی رابطہ مہم شروع کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ بدھ کے روز مقامی ہوٹل میں صدر چوہدری لطیف اکبر کی زیر صدارت آزادکشمیر پیپلز پارٹی کے عہدیداروں کا غیرمعمولی اجلاس منعقد ہوا۔ جس میں پیپلزپارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل سیدنیئر حسین بخاری نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ اجلاس سے پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل سید نیئر حسین بخاری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی ہمارے لئے انتہائی مقدس ہے اس پارٹی کی آبیاری میں شہداء کا لہو شامل ہے۔ شہداء سانحہ کارساز ہوں یا لیاقت باغ ان کے خون کے صدقے پارٹی کا ہر جیالا عوام کی حکمرانی، جمہوریت اور سستے انصاف کے لئے چیئرمین بلاول بھٹو کے 30 اکتوبر کو اسلام آباد پریڈ گرائونڈ میں ہونے والے جلسے میں ضرور شرکت کرے گا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ 30 اکتوبر کا جلسہ اسلام آباد کی تاریخ کاسب سے بڑا جلسہ ہو گا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر پاکستان پیپلز پارٹی آزادکشمیر چوہدری لطیف اکبر نے کہا کہ ملک کے اندر داخلی اور سرحدوں پر بیرونی محاذ پر مختلف چیلنجز درپیش ہیں اور ان چیلنجز سے نمٹنے کیلئے حکمت عملی صرف اور صرف چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے پاس ہے۔ بلاول بھٹو زرداری ہی ملک کو مشکلات سے نکال سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی کی ''گولڈن جوبلی'' کے موقع پر ملک بھر اوربیرون ملک شاندار تقریبات منعقد کرنے کے فیصلے کا بھرپور خیرمقدم کرتے ہیں اور آزادکشمیر میں بھی شایان شان تقریبات کرانے کے ساتھ ساتھ قومی سطح پر بھی تقریبات میں بھی پیپلز پارٹی آزادکشمیر بھرپور شرکت کرے گی۔ انہوں نے کہاہے کہ 30 اکتوبر کو آزادکشمیر کے ہرضلع، تحصیل اور قصبہ سے جیالے قافلوںکی شکل میں جلسہ گاہ شریک ہوں گے۔ سابق وزیراعظم چوہدری عبدالمجید نے کہا کہ ماضی کی طرح اس بار بھی پاکستان پیپلز پارٹی آزادکشمیر اپنے نوجوان محبوب قائد چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے استقبال کیلئے 30 اکتوبر کے اسلام آباد جلسہ میں ہزاروں کی تعداد میں جیالے آزادکشمیر میں شریک ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے یوم تاسیس پر ہونے والا جلسہ میں سیاسی منظر نامے کا تعین کرے گا اور عوام بلے اور شیر کی بجائے ایک مرتبہ پھر ''تیر'' کی طرف بڑھیں گے۔ پاکستان پیپلز پارٹی ہی واحد پارٹی ہے جو عوامی اور قومی سطح پر مقبول ہے۔ اجلاس سے سابق صدر آزاد ریاست جموں وکشمیر سردار محمد یعقوب خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کا قیام دراصل تحریک آزادی کشمیر کے لئے ایک ایسا ہوا کا خوشگوار جھونکا تھا جس سے کشمیریوں کے حق خودارادیت کی تحریک میں نیا جوش و جذبہ پیدا ہوا اور مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ، او آئی سی جیسے بڑے عالمی فورمز پر دنیا کی توجہ کا مرکز بنا۔ قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو نے پارٹی کی بنیاد ہی مسئلہ کشمیر پر رکھی جس سے واضح ہوتا ہے کہ بھٹو خاندان اور پیپلزپارٹی کس طرح کشمیریوں کے اس اہم مسئلہ سے جڑے ہوئے تھے اور ہیں۔ ہم چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹرینز کے صدر آصف علی زرداری کو یقین دلاتے ہیں کہ اُن کی ہر کال پر ہم اول دستے کا کام کرینگے۔ اجلاس سے اپوزیشن لیڈر چوہدری محمد یاسین نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف دونوں ملکی اور قومی سیاست کو داغدار کر رہی ہیں اوردونوں جماعتوں کی مقبولیت میں روزبروز کمی واقع ہو رہی ہے اور پاکستان پیپلز پارٹی کو عروج حاصل ہو رہا ہے اور سیاسی قدآور شخصیات روزبروز پارٹی میں شامل ہو رہی ہیں انشاء اللہ 2018ء کا الیکشن پیپلزپارٹی 2 تہائی اکثریت سے جیتے گی۔ اجلاس سے چوہدری پرویز اشرف، فیصل ممتاز راٹھور، سردار جاوید ایوب، محمد مطلوب انقلابی، شازیہ اکبر (ایم ایل اے)، سردار امجد یوسف، سردار محمد حسین، صاحبزادہ اشفاق ظفر، افسر شاہد ایڈووکیٹ، چوہدری محمد رشید، عبدالسلام بٹ، شوکت وزیر علی، خالد چغتائی، چوہدری وحید اکرم، سردار عابد حسین عابد، راجہ امتیاز، صاحبزادہ ذوالفقار علی، سردار گل نواز خالق، شاہین کوثر ڈار، سید عزادار حسین کاظمی، عامر ذیشان جرال، سردار امجد جلیل، ملک پرویز اختر اعوان، شوکت جاوید میر، پروفیسر محمد افضل، چوہدری شیراز اکرم، محمد الیاس چوہدری، چوہدری مظہر، طارق سعید، فرزانہ یعقوب، بیگم جنرل شمشاد عزیز، محمد حسین، سید بازل علی نقوی، میر نذیر دانش ایڈووکیٹ، راجہ محمد پرویز ایڈووکیٹ، چوہدری قاسم مجید، چوہدری ولید اشرف، شیخ خورشید احمد، چوہدری اسلم گجر، عبدالشکور صدیقی ، چوہدری خادم حسین، چوہدری شوکت علی، سید اشتیاق حسین گیلانی و دیگر نے بھی خطاب کیا۔ اجلاس کے اختتام پر شہدائے کشمیر، سانحہ کارساز کے شہداء کے درجات کی بلندی، پیپلز پارٹی آزادکشمیر کے ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات سید عزادار حسین کاظمی کے برادر نسبتی، پیپلز سٹوڈنٹس فیڈریشن کے صدر عبدالشکور صدیق کے والد اور پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما سابق ایم ایل اے محمد لعل بانیاں کے صاحبزادے کی وفات پر فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔
اسلام آباد(نامہ نگار خصوصی) پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے پچاسویں یوم تاسیس کے موقع پر تقریبات اور انتظامات کے سلسلہ میں گزشتہ روز ہونے والے پارٹی کے اجلاس میں قراردادیں متفقہ منظور کی گئیں جن میں گولڈن جوبلی تقریبات اور مقبوضہ کشمیر کے مظالم،حریت قیادت کی گرفتاریوں اور لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کی مذمت بھی کی گئی۔پارٹی اجلاس کے شرکاء نے قراردادیں منظور کرتے ہوئے کہا کہ''گولڈن جوبلی'' کے موقع پر ملک بھر اوربیرون ملک شاندار تقریبات منعقد کرنے کے فیصلے کا بھرپور خیرمقدم کرتے ہوئے آزادکشمیر میں بھی شایان شان تقریبات کرانے کے ساتھ ساتھ قومی سطح پر بھی تقریبات میں شریک ہونے اور ان میں شرکت کرنے کا عزم کیا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کا قیام دراصل تحریک آزادی کشمیر کے لئے ایک ایسا ہوا کا خوشگوار جھونکا تھا جس سے کشمیریوں کے حق خودارادیت کی تحریک میں نیا جوش و جذبہ پیدا ہوا اور مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ، او آئی سی جیسے بڑے عالمی فورمز پر دنیا کی توجہ کا مرکز بنا۔ قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو نے پارٹی کی بنیاد ہی مسئلہ کشمیر پر رکھی جس سے واضح ہوتا ہے کہ بھٹو خاندان اور پیپلزپارٹی کس طرح کشمیریوں کے اس اہم مسئلہ سے جڑے ہوئے تھے اور ہیں۔یہ اجلاس مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔ بھارت نے مقبوضہ کشمیر کے اندر کشمیریوں کی حق خودارادیت کے لئے جاری تحریک کو کچلنے کے لئے ہر طرح کے حربے آزمائے اور ان میں مسلسل ناکامی کے بعد اب خواتین کی ''چوٹیاں'' کاٹنے جیسی گھنائونی وارداتیں شروع کرا دی ہیں تاکہ کشمیری خواتین خاص طور پر پورے مقبوضہ کشمیر میں خوف و ہراس کی ایسی فضا قائم کی جائے کہ لوگ بھارتی مظالم کے خلاف آواز اٹھانا بند کر دیں مگر ہم یہ بھارتی حکومت پر واضح کرتے ہیں کہ کشمیری کبھی بھی بھارت کے ظالمانہ اور گھنائونے ہتھکنڈوں سے خوف زدہ نہیں ہوں گے کیونکہ ان کی تحریک آزادی کے پیچھے پوری پاکستانی قوم کھڑی ہے اور پاکستان پیپلز پارٹی کھڑی ہے۔ یہ اجلاس حریت قیادت کی گرفتاریوں، گھر گھر تلاشی، ماورائے عدالت قتل کے واقعات کی بھی مذمت کرتا ہے اور عالمی برادری سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کا نوٹس لیتے ہوئے بھارت پر بائو ڈالیں کہ وہ کشمیریوں کے عالمی سطح پر تسلیم شدہ حق خودارادیت کا احترام کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر سے اپنی افواج نکالے اور انہیں اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حق خودارادیت دے۔یہ اجلاس ورکنگ بائونڈری اور جنگ بندی لائن پر بھارتی افواج کی جانب سے بے گناہ اور معصوم کشمیریوں پر گولہ باری اور فائرنگ کے لگاتار واقعات کی بھی شدید مذمت کرتا ہے اور جنگ بندی لائن پر رہنے والے شہریوں سے اظہار یکجہتی کرتا ہے۔ جنگ بندی لائن پر جس طرح پاک افواج دفاع وطن کا فریضہ سرانجام دے رہی ہیں اس سے دشمن کا حوصلہ ٹوٹ چکا ہے۔ اجلاس پاک فوج کو اندرون و بیرون ملک قومی سلامتی کو یقینی بنانے پر بھی خراج عقیدت پیش کرتا ہے۔ یہ اجلاس حکومت آزادکشمیر پر زور دیتا ہے کہ وہ اپنی ناکام گورننس کو چھپانے کے لئے ملازمین اور سیاسی ورکروں کے خلاف انتقامی کارروائیاں بند کرے اور عدالت عظمیٰ کے فیصلے کی روشنی میں تعلیمی پیکیج پر مکمل عملدرآمد کرے۔یہ اجلاس حکومت آزادکشمیر سے مطالبہ کرتا ہے کہ نیلم جہلم ہائیڈل پراجیکٹ جو تکمیل کے قریب ہے کے متعلق مرکزی حکومت سے معاہدہ کرے تاکہ آزادکشمیر کے مالی حقوق کو تحفظ مل سکے۔ حکومت دریائے نیلم جہلم کے پانی بند کرنے کے واپڈا کے متوقع اقدامات کوروکنے کیلئے بھی ٹھوس اقدامات اٹھائے اور اس سے اس ضمن میں معاہدہ کو بھی یقینی بنائے تاکہ عوام میں پائے جانے والے تحفظات کو دور کیا جا سکے۔اجلاس یہ مطالبہ بھی کرتا ہے کہ کوہالہ ہائیڈل پراجیکٹ کو ٹنل ٹیکنالوجی کے ذریعہ بنانے کی بجائے اسے ڈیم کے ذریعے قابل عمل بنائے تاکہ آبادی کو درپیش شدید ماحولیاتی و دیگر مسائل اور ملک کو بے جا اخراجات سے بچایا جا سکے۔یہ اجلاس سانحہ کارساز میں شہید ہونے والے پیپلزپارٹی کے جیالوں کو ان کی ملک میں جمہوریت کی بحالی اور سیاسی استحکام کے لئے جانی قربانیوں پر خراج عقیدت پیش کرتا ہے اور عزم کا اظہار کرتا ہے کہ شہداء کے خوابوں کے مطابق ملک کے اندر جمہوریت کے استحکام، غریب عوام کے حقوق کے تحفظ اور غیر طبقاتی معاشرے کے قیام تک جدوجہد جاری رکھیں گے۔مسلم لیگ (ن) کے بعض رہنمائوں کی جانب سے پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کے خلاف بہتان تراشی اور گھٹیا زبان استعمال کرنے باالخصوص تحریک انصاف کے صدر عمران خان کی جانب سے مرد حر چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز و سابق صدر پاکستان آصف علی زرداری کے نام کو بگاڑنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔یہ اجلاس چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، صدر پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز آصف علی زرداری، سیاسی امور کی انچارج محترمہ فریال تالپور اور صدر پیپلز پارٹی آزادکشمیر چوہدری لطیف اکبر کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتا ہے اور پارٹی کی اعلیٰ قیادت کی رہنمائی میں شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے ویژن کے مطابق سیاسی، جمہوری و پارلیمانی جدوجہد کے مشن پر کاربند رہنے کا عزم کا بھی اعادہ کرتا ہے۔
