نوازشریف کی نیب ریفرنسز پر فرد جرم معطل کرنے کی درخواست سماعت کیلئے مقرر

اسلام آباد: سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کی نیب ریفرنسز پر احتساب عدالت کا فرد جرم کا حکم نامہ معطل کرنے کی درخواست سماعت کے لیے مقرر کرلی گئی۔
اسلام آباد کی احتساب عدالت نیب کی جانب سے دائر تین ریفرنسز فلیگ شپ انویسٹمنٹ، العزیزیہ اسٹیل مل اور ایون فیلڈ اپارٹمنٹس میں نوازشریف پر فرد جرم عائد کرچکی ہے جو ان کی غیر موجودگی میں ان کے مقرر کردہ نمائندے ظافر خان کے سامنے عائد کی گئی۔
میاں نوازشریف نے اپنے وکلا خواجہ حارث اور عائشہ حامد کے توسط سے اپنے نمائندے ظافرخان کے ذریعے اسلام آباد ہائیکورٹ میں 3 درخواستیں دائرکی ہیں جس میں احتساب عدالت کے 19 اکتوبر کو فرد جرم عائد کرنے کے حکم نامے کو چیلنج کیا گیا ہے
درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ احتساب عدالت کوتینوں ریفرنسز یکجا کرکے ایک فرد جرم کا حکم دیا جائے اور درخواست گزارکے خلاف احتساب عدالت میں ایک الزام پرایک ہی ٹرائل کیا جائے۔
درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ فرد جرم عائد کرنے کا 19 اکتوبر کاحکم نامہ کالعدم قرار دیا جائے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے میاں نوازشریف کی درخواست سماعت کے لیے مقرر کرلی ہے جس پر جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ سماعت کرے گا۔
واضح رہے کہ نیب نے پاناما کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں شریف خاندان کے خلاف تین الگ الگ ریفرنس دائر کیے ہیں جب کہ نوازشریف تینوں ریفرنسز کو یکجا کرنے کے لیے سپریم کورٹ میں پہلے ہی درخواست دائر کرچکے ہیں۔
