کشمیر پر بھارتی قبضہ کے 70سال مکمل،کشمیریون کے آر پار یوم سیاہ،عالمگیر مظاہرے

مظفر آباد،میرپور، باغ، کھوئی رٹہ،بھمبر،کوٹلی ، سہنسہ،نیلم،سماہنی(نمائندگان کشمیر ٹائمز) 27 اکتوبر 1974 کو بھارتی حکومت کے کشمیر پر غاصبانہ قبضہ اور تحریک آزادی کے لئے جدوجہد کرنے والے کشمیریوں پر آج تک جاری مظالم کیخلاف دنیا بھر میں مقیم کشمیریوں نے یوم سیاہ بھرپور انداز سے منایا،جلسے جلوس ،ریلیاں،کشمیریوں کی مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی قبضے کیخلاف اور تحریک آزادی کے حق میں نعرے بازی، تمام شرکاء اور قائدین تحریک آزادی کو منزل کے حصول تک جاری رکھنے کا عزم ۔یوم سیاہ کے حوالے سے مظفرآباد میں خواتین نے کشمیر پر بھارتی قبضے کے خلاف زبردست احتجاجی ریلی نکالی ،ریلی کا آغاز دومیل سے کیا گیا شرکاء ریلی نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر بھارتی غاصبانہ قبضے کے خلاف نعرے درج تھے ۔ریلی کا اہتمام فری کشمیر آرگنائزیشن کی جانب سے کیا گیا تھا ۔خواتین نے بھارت کے خلاف زبردست نعرے بازی کی۔ریلی علمدار چوک پہنچ کر جلسہ عام کی شکل اختیار کر گئی ۔ریلی سے خطاب کرتے ہوئے محمد صدیق کیانی صدرایف کے او ، ماریہ نقوی ، سعید صدیقی و دیگر نے کہا کہ آج کا دن آر پار اور دنیا بھر کے کشمیری یوم سیاہ کے طور پر منا رہے ہیں ۔27اکتوبر 1947کو بھارت نے کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کیا تھا آزادکشمیر کی خواتین کا آج اتنی بڑی تعداد میں سڑکوں پرآنا اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ کشمیری عوام کی جدوجہد میں آزادکشمیر کی عوام بھی ان کے شانہ بشانہ ہیں ۔مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق آزادانہ رائے شماری ہے ۔جس کے تھت کشمیری عوام نے اپنی غالب مسلم اکثریتی حیثیت کے تحت اپنی تقدیر پاکستان سے وابستہ کرنی ہے ،۔اس موقع پر خواتین نے بھارتی پرچم بھی نذر آتش کیا ۔وزیر اعظم آزادکشمیرراجہ محمد فاروق حیدر خان کی ہدایت پر بھارت کے مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر پر ناجائز قبضہ اور تسلط کے خلاف ضلع میرپور میں یوم سیاہ منایا گیا یوم سیاہ کے سلسلہ میں احاطہ کچہری سے احتجاجی ریلی نکالی گی جس کی قیادت ڈپٹی کمشنر انصر یعقوب ،ایس ایس پی راجہ عرفان سلیم ، ایڈ یشنل ڈپٹی کمشنر جنرل راجہ فاروق اکرم خان، اسسٹنٹ کمشنر چوہدری ساجد حسین ، صدر بار چوہدری شبیر شریف ، قومی تقریبات کمیٹی کے سیکرٹری جنرل الطاف حمید رائو ، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر راجہ راشد تراب اسسٹنٹ ڈائریکٹر لبریشن سیل ملک محمد سحاق مسلم کانفرنس کے رہنما شکور مغل ، صدر معلم چوہدری محمد عجائب ، ملازمین تنظیموں کے را ہنمائوں مسعود راٹھور ، ضیاء مہناس ، قیصر شیراز کاظمی ، راجہ رشید ، ڈرگ انسپکٹر چوہدری محمد عجائب نے کی جبکہ ریلی میں سرکاری جریدہ و غیر جریدہ ملازمین انجمن تاجراں وکلاء ، صحافیوں ، سیاسی و سماجی راہنمائوں اور مختلف سکولوں کے طلباء و اساتذہ اور سول سوسائٹی کے اراکین کی بڑی تعداد موجود تھی ۔ شرکاء ریلی ہے حق ہماراآزادی، ہم چھین کے لیں گے آزادی، بھارتی غاصبوچھوڑ دوکشمیرکو، انڈیا کی بربادی تک جنگ رہے گی ۔ آزادکشمیر اوردنیابھر کی طرح راولاکوٹ میں بھی کشمیر میں بھارتی فوج کی طرف سے مداخلت کے خلاف یوم سیاہ بھرپورطریقے سے بنایا گیا راولاکوٹ میں انتظامیہ اور سول سوسائٹی کے زیر اہتمام یوم سیاہ پر ایک ریلی ڈپٹی کمشنر آفس سے نکالی گئی جس میں سول سوسائٹی ملازمین طلباء وطالبات کی کثیر تعداد نے شرکت کی ریلی کے شرکاء بھارتی ظلم وستم ہائے ہائے اور مکار بھارت مردہ باد کے نعرے لگا رہے تھے شرکاء ریلی پورے شہر کا چکر لگانے کے بعد صابر شہید سٹیڈیم میں جمع ہو کرجلسے کی صورت اختیار کر گئے مقررین نے کہا کہ آج مسئلہ کشمیر کی وجہ سے دنیا کی نصف آبادی بارود کے ڈھیر پر بیٹھی ہے یہ چنگاری کبھی بھی شعلہ بن کر آدھی دنیا کو بھسم کر دے گی لہذا عالمی برادری اس مسئلے کو حل کر ے جو ستر سال سے اقوام متحدہ کے لئے سوالیہ نشان ہے ہندوستانی مقبوضہ کشمیر میں آزادی پسندوں کی بینائی چھینی جارہی ہے عورتوں کے بال کاٹے جارہے ہیں یہ ایسے انسانی مظالم ہیں کہ جبر کی دنیا میں ان کی کوئی مثال نہیںملتی کے آزادی کی بات کرنے والوں کو اس طرح ظلم کا نشانہ بنایا جارہا ہو مقررین نے کہا کہ ہندوستان کو کشمیریوں کو آزادی دینا ہوگی نہیں کو بھارت کی شکست اٹل ہے جلسہ سے خطاب کرنے والوں میں اسسٹنٹ کمشنر ممتاز کاظمی ،ڈی ای او مردانہ آصف خان ،ڈی ای او زنانہ ریحانہ شاہ محمد ،ڈسٹرکٹ پریس کلب کے صدر ریاض شاہد صحافی مسعود گردیزی طالب علم رہنما رضوان خان اور دیگر نے خطاب کیا ریاست بھر کی طرح پلندری میں بھی بھارت کے خلاف یوم سیاہ منایا گیا پلندری کی تمام سیاسی و م،ذہبی جماعتوں کے علاوہ سرکاری و نیم سرکاری سکولوں کے طلباء طالبات نے بھی شرکت کی سیکنڑوں افراد نے بھارت کے یوم سیاہ کے موقع پر ایک احتجاجی ریلی نکالی مظاہرین نے بھارت کے خلاف اور آزادی کے حق میں نعرے لگائے پورے بازار کا چکر لگا نے کے بعد ریلی جب ریسٹ ہائوس چوک میں پہنچی تو ایک بڑا جلسہ کی شکل اختیار کر گئی اس احتجاجی جلسہ سے ڈپٹی کمشنر سدہنوتی چوہدری امجد اقبال ،سابق وزیر حکومت سردار محمد حسین ایڈووکیٹ ،ایس پی سدہنوتی راجہ عبدالقدوس،ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر سدہنوتی سردار یونس صدیقی ،صد ر مسلم لیگ (ن) ضلع سدہنوتی حاجی سردار منشاء خان ،صدر ادبی کونسل سردار تسنیم احمد خان،صدر انجمن تاجران سردار شہزاد احمد،سردار اکمل مسعود ،زبیر احمد ڈار ایڈووکیٹ ،سردار راشد صدیق و دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت جتنا مرضی ظلم کر لے کشمیری آزادی لے کر رہیں گے اُنھوں نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ کشمیر کو حق خود ارادیت دلانے میں اپنا کردار ادا کرے۔مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جابرانہ قبضہ کے خلاف ریاست بھر کی طرح ضلع نیلم میں بھی یوم سیاہ منایا گیا، ڈپٹی کمشنر آفس نیلم سے شرکاء نے بنتل چوک تک ریلی نکالی جس میں ضلعی انتظامی آفیسران سکولوں اور کالجوں کے طلبہ ، وکلاء ، تاجران اور نمائندگان پریس نے بڑی تعداد میں شرکت کی ، شرکاء ریلی نے کشمیری کی آزادی اور بھارت کے خلاف پلے کارڈ اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر آزادی کے نعرے درج تھے، اس موقعہ پر بنتل چوک میں منعقد ہ احتجاجی مظاہرہ سے ڈی سی نیلم شاہد محمود ، صدر ڈسٹرکٹ بار نذیر احمد دانش ، صدر معلم ہائی سکول آٹھمقام سعید صابر ، صدر سی یو جے نیلم حیات اعوان ، عنایت علی قاسمی ایڈووکیٹ ، پروفیسر بہاء الدین ساجد، خواجہ مدثر مقبول ، سمیت دیگر مقررین نے خطاب کیا ، مقررین نے بھارتی جابرانہ قبضے کے خلاف اپنے اپنے خطاب میں اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ رات کی تاریکی میں ہونے والے قبضے کے خاتمے کے لئے اپنا کردار ادا کرے اور کشمیرمیں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لیاقوام عالم نے اگر مسئلہ کشمیر پر اپنا دوہرا معیار برقرار رکھا اور بھارت کو فائدہ پہنچانے کی پالیسی جاری رہی تو اس کا حشر بھی لیگ آف نیشن جیساہوگا۔اس لئے اقوام متحدہ مشرقی تیمور کی طرح کشمیری قوم کو بھی حق خود ارادیت دے تاکہ ایک کروڑسے زائد کشمیری آزادی سے اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں۔ان خیالات کا اظہار ڈپٹی کمشنر بھمبر چوہدری گفتار حسین ،سابق صدر پریس کلب سجاد مرزا ،مسلم کانفرنس کے ضلعی صدر اقبال انقلابی ،اے سی چوہدری نزاکت حسین اور انجمن تاجران کے رہنماء حاجی محمد عبد اللہ اور قادری ناظم حسین نے یوم سیاہ کے موقع پر منعقدہ ایک جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا۔کشمیر پر بھارت کا غاصبانہ قبضہ بین الاقوامی قانون مساوات انصاف بنیادی انسانی حقوق جمہوری تقاضوں بین الاقوامی اصولوں اور اقوام متحدہ کی قرار دادوں صریحاََ خلاف ورزی ہے ۔ عالمی بے حسی کی وجہ سے دو دہائیاں گزرنے کے باوجود بھارت نے مقبوضہ کشمیر پر غاصبانہ قبضہ جما رکھا ہے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل نہ ہونے کے نتیجہ میں کشمیر ی پچھلے ستر سالوں سے بھارتی درندگی ، بربریت ، وحشیانہ کارروائیوں کا شکار ہیں ۔ اگر مسلہ پرامن طریقے معروف جمہوری اصولوں اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حل نہ ہوا تو ایٹمی جنگ چھڑ جائے گی ۔ پاک بھارت بارود کے ڈھیر پر ہونے کی وجہ سے کروڑوں انسان لقمہ اجل بن جائیں گے ۔ ان خیالات کا اظہار اے سی سہنسہ مرز ا عیص بیگ ، سابق امید وار سمبلی راجہ ضیا الحمید ، تحصیل دار ناصر اورنگزیب ، پروفیسر وزارت علی ، انجمن تاجراں کے صدر راجہ سلیم خان ، دائود حسین مغل نے احتجاجی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا انھوں نے کہا کہ پاکستانیوں کا کشمیر یوں کے ساتھ علاقائی و زمینی نہیں بلکہ سیاسی مذہبی ، تہذیبی ، ثقافتی ، اور قلبی رشتہ ہے ۔ جسے فراموش نہیں کیا جاسکتا ہے
مظفرآباد(وقائع نگار) وز یر اعظم آزاد حکومت ریا ست جموں و کشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا ہے کہ ہندوستان حریت قیادت اور کشمیریوں سے مذاکرات سے پہلے کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو تسلیم کرے اور مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فوج کے ذریعے کشمیریوں کے قتل عام، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور کالے قوانین کا خاتمہ کرے۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں جاری عوامی مزاحمتی تحریک سے خوف زدہ ہو کر مذاکرات کا ڈرامہ رچا رہا ہے تاکہ عالمی برادری کی آنکھوں میں دھول جھونکی جا سکے۔ کشمیر جغرافیائی اور دفاعی نقطہ نظر سے اہمیت کا حامل ہے اسی لیے قائد اعظم محمد علی جناح نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا ۔ 1947 میں انگریز اور ہندوئوں نے باہمی سازش کے تحت کشمیر کی شہ رگ پر قبضہ کیا اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیں اتاریں۔ اقوام متحدہ نے کشمیر کو متنازعہ قرار دے رکھا ہے اور کشمیریوں کو حق خودارادیت دینے کا وعدہ کر رکھا ہے۔ بھارتی فوج مقبوضہ کشمیر میں انسانیت سوز مظالم ڈھا رہی ہے اور انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں میں مصروف ہے ۔بھارت دنیا کی توجہ مقبوضہ کشمیر سے ہٹانے کے لئے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ بائونڈری پر سویلین آبادی کو نشانہ بنا رہا ہے۔ کشمیری مسئلہ کشمیر کے بنیادی فریق ہیں اسلامی ممالک کو کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی کھل کر حمایت کرنا ہو گی۔ کشمیری بھارت سے آزادی کے لئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ جب تک ایک بھی کشمیری زندہ ہے جدوجہد آزادی جاری رہے گی۔ بھارت کے خلاف یوم سیاہ کی تقریب میں وفاقی وزیر امور کشمیر برجیس طاہر کی آمد کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان جموں وکشمیر لبریشن سیل کے زیر اہتمام کشمیر پر بھارتی قبضے کے خلاف یوم سیاہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں وفاقی وزیر امور کشمیر برجیس طاہر نے خصوصی طور پر شرکت کی۔ یوم سیاہ کی تقریب سے وزیر تعلیم آزاد کشمیر بیرسٹر سید افتخار علی گیلانی، وزیر صنعت و تجارت و چیئر پرسن قومی تقریبات کمیٹی محترمہ نورین عارف، ممبر اسمبلی مصطفی بشیر عباسی، حریت راہنما مشتاق الاسلام، جماعت اسلامی آزاد کشمیر کے مرکزی نائب امیر شیخ عقیل الرحمان، پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے مرکزی رابطہ سیکرٹری شوکت جاوید میر، جمعیت علماء اسلام کے قاضی محمود الحسن اشرف ، لبریشن لیگ کے خواجہ منظور قادر ڈار، پاسبان حریت کے عزیر احمد غزالی، ڈائریکٹر کشمیر لبریشن سیل راجہ سجاد لطیف، تاجر راہنماء عبدالرزاق خان، اور دیگر نے خطاب کیا۔ تقریب میں سیکرٹریز حکومت ، سربراہان محکمہ جات،تاجران، سول سوسائٹی، ملازمیں سمیت سیاسی و مذہبی جماعتوں کے افراد نے بڑی تعداد مین شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کے دواران وزیر اعظم آزاد کشمیر کا کہنا تھا کہ 27اکتوبر 1947کو بھارت نے کشمیر میں فوجیں اتار کر کشمیر پر جبری قبضہ کیا۔ اور خود ہی اقوام متحدہ میں چلا گیا۔اقوام متحدہ میںبھارت نے کشمیریوں کو حق خودارادیت دینے کا وعدہ کیا۔ لیکن 70سال گزرنے کے باوجود اپنے وعدے پر عمل درآمد نہیں کیا۔ کشمیر پر بھارت کے غاصبانہ قبضے کے خلاف کشمیریوں نے اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق جدوجہد آزاد ی شروع کر رکھی ہے اور آزادی کے لیے کشمیریوں نے بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔ ہم بھارت پر واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ کشمیری آزادی کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ بھارت کو ہر قیمت پر کشمیر یوں کو آزادی دینا ہو گی۔ جدوجہد آزادی میں آزاد کشمیر کے عوام مقبوضہ کشمیر کے عوام کے شانہ بشانہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی کٹھ پتلی اسمبلی نے جب بھارت سے الحاق کی قرارداد منظور کی تو پاکستان نے اقوام متحدہ سے رجوع کیا تو اقوام متحدہ نے اس الحاق کو مسترد کر دیا۔ متحدہ جہاد کونسل کی طرف سے ہندوستان کی مذاکرات کی پیشکش کے جواب مین جو تین شرائط پیش کی ہیں یہ شرائط بنیادی اہمیت کی حامل ہیں ۔ ان شرائط کو تسلیم کئے بغیر ہندوستان سے مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں۔ وزیر اعظم آزاد کشمیر نے وزیر امور کشمیر برجیس طاہر کو مظفرآباد میں بھارت کے خلاف یوم سیاہ کی تقریب میں آمد پر خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر کی ترقی ، خوشحالی اور ریاستی مسائل کے حل کے لیے انہوں نے جو جاندار کردار ادا کیا اس کا بھرپور خیر مقدم کرتے ہیں۔ اس موقع پر وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے مہاجرین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ان کے تما م مسائل حل کئے جائیں گے،اور مہاجریں سے جو وعدے کیے گئے ہیں ان پر ہر صورت میں عمل درآمد ہو گا۔یوم سیاہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر تعلیم بیرسٹر سید افتخار علی گیلانی نے کہا کہ بھارت کی سات لاکھ افواج نے مقبوضہ کشمیر کے عوام پر ظلم و ستم کی انتہا کر رکھی ہے۔ لیکن کشمیریوں کے حوصلے بلند ہیں اور وہ اپنی آزادی کی جدو جہد میں مصروف عمل ہیں ہم اس موقع پر کشمیریوں کی جدوجہد کو سلام پیش کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری ، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ کشمیریوں کے عالمی سطح پر تسلیم شدہ حق خودارادیت کو دلانے کے لئے بھارت پر اپنا دبائو بڑھائیں۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ممبر اسمبلی ڈاکٹر مصطفی بشیر نے کہا سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف اور وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی نے اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر پر جاندار موقف پیش کرتے کشمیریوں کی بھرپور ترجمانی کی۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر سب سے پرانامسئلہ ہے۔ عالمی برادری مقبوضہ کشمیر کے عوام کی آزاد ی کے لئے اپنا کردار ادا کرے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے دیگر مقررین نے کہا کہ سابق وزیر میاں نواز شریف اور موجودہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی طرف سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں مسئلہ کشمیر پر دو ٹوک اور واضح موقف اختیار کرنے اور کشمیریوں کی بھرپور ترجمانی کرنے پر ان کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ مقررین نے کہا کہ عالمی برادری سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ہندوستان کی طرف سے سیز فائر لائن اور ورکنگ بائونڈری کی مسلسل خلاف ورزیوں ، انسانی جانوں اور املاک کے نقصان کا نوٹس لے۔ انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام مقبوضہ کشمیر کے عوام کی جدوجہد آزادی میں ان کی سیاسی ، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھیں گے۔ دریں اثنا وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان چوہدری محمدبرجیس طاہر نے کہا ہے کہ جدوجہد آزادی میں کشمیر ی تنہا نہیں ہیں۔پوری پاکستانی قوم کشمیریوں کے ساتھ ہے ۔پاکستان کشمیریوں کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کی جملہ سیاسی و مذہبی جماعتوں کا بھارت سے آزادی کے یک نکاتی ایجنڈے پر متفق ہونا جدوجہد آزادی کی کامیابی کی دلیل ہے ۔ کشمیر کے بغیر پاکستان نا مکمل ہے بانی پاکستان نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا ۔لائن آد کنٹرول پر بھارتی فائرنگ کے متاثرین کے لئے فوری طور پر جملہ وسائل مہیا کریں گئے ایل اوسی کے متاثرین کے لئے تمام تر وسائل بروئے کا ر لائیں جائیں گئے آزاد کشمیر کی ترقی و خوشحالی کے لئے جملہ ضروریات پوری کی جائیں گی قائد پاکستان میاں محمد نواز شریف نے آزاد کشمیر کو دیگر صوبوں کے برابر ترقی کے مواقع مہیا کر نے کے لئے آزاد کشمیر کے ترقیاتی بجٹ کو دوگنا کیا ۔سی پیک میں آزاد کشمیر کو شامل کیا قائد پاکستان میاں محمد نواز شریف نے آزاد کشمیر کی ترقی و خوشحالی کے لئے جتنے بھی منصوبو ں کے اعلانات کیئے ان پر عمل درآمد ہو گا۔ وزیر امو ر کشمیر یہاں مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی قبضہ کے خلاف یوم سیاہ کی تقریب سے خطاب کرر ہے تھے ۔وزیر امور کشمیر چوہدری برجیس طاہر نے خصوصی طور پر یوم سیاہ کی تقریب میں شرکت کی ۔وزیر امور کشمیر کا کہنا تھا لائن آف کنٹرول کے اس پار جدوجہد آزادی میں مصروف کشمیر یوں کو یقین دلاتا ہوں کہ ساری پاکستانی قوم ان کے سا تھ کھڑی ہے کشمیر یوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گئے۔ 70 سال سے پاکستان کی ہر حکومت اور سیاسی و مذہبی جماعتوں نے کشمیر یوں کی جدوجہد آزاد ی کی مکمل حمایت کی ۔قائد پاکستان میاں محمد نواز شریف نے بحثیت وزیراعظم پاکستان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں مسئلہ کشمیر کو پوری قوت کے ساتھ اٹھایا اور کشمیر پر جاندار مئوقف اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم ، انسانی حقوق کی پامالیوں اور جدوجہد آزادی کو دبانے کے لئے بھارتی کالے قوانین کو بے نقاب کیا ۔اور اقوام متحد ہ سے اپنی قراردادوں پر عمل درآمد کامطالبہ کیا ۔ میاں محمد نواز شریف کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کشمیر پر بات کرنے سے روکنے کی کوشش کی گئی ۔اور نیو یارک میں میاں محمد نواز شریف کو کہا گیا کہ اگر آپ نے کشمیر پر بات کی تو امریکی قیادت آپ سے ملاقات نہیں کرے گی لیکن میاں محمد نواز شریف نے ان باتوں کی پرواہ نہیں کی اور جنرل اسمبلی میں پوری قوت کے ساتھ مسئلہ کشمیر اٹھایا۔اور عالمی ضمیر جھجوڑا۔ وزیر امور کشمیر نے کہا پاکستان کشمیر یوں کے حق خودرادیت کی مکمل حمایت جاری رکھے گااور کسی بھی قیمت پر کشمیر یوں کو تنہا نہیں چھوڑے گا ۔ پوری پاکستانی قوم کشمیریوں کی پشت پر ہے ۔ ہم دنیا کو پھر ایک مرتبہ یہ باور کروانا چاہتے ہیں مسئلہ کشمیر حل نہ ہوا تو جنوبی ایشیاء میں امن کا قیام شرمندہ تعبیرنہیں ہو گا ۔تنازعہ کشمیر ڈیڑھ کروڑکشمیریوں کے حق خودادادیت کا مسئلہ ہے جسے اقوام متحدہ نے تسلیم کر رکھا ہے انہوں نے کہا کہ اگرچہ اس وقت میاں نواز شریف وزیر اعظم نہیں لیکن ان کی پالیسیاں جاری ہیں۔نواز شریف اب بھی ہمارے وزیر اعظم ہیں اور ان کی پالیسیوں کو جاری رکھا جائے گا۔ میاں محمد نواز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کے لیے جانے سے پہلے بیس کیمپ کی منتخب حکومت سے مشاورت کی اور اسی مشاورت کی روشنی میں جنرل اسمبلی میں مسئلہ کشمیر پر جاندار موقف اختیار کیا۔ برجیس طاہر نے مزید کہا کہ حکومت پاکستان کے نمائندے کی حیثیت سے آج یہاں موجود ہوں اور کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے آیا ہوں۔ آزاد کشمیر کی ترقی اور خوشحالی ہمارے ایجنڈے میں شامل ہے اسی ایجنڈے کے تحت آزاد کشمیر کی ترقیاتی بجٹ کو 11ارب روپے سے بڑھا کر 22ارب روپے کیا گیا۔ سی پیک میں آزاد کشمیر کو شامل کیا گیا۔ سی پیک کے تحت مانسہرہ تا مظفرآباد تا منگلا عالمی معیار کی ایکسپریس وے تعمیر کی جا رہی ہے، جس کا افتتاح ہو چکا ہے۔ اقتصادی راہداری منصوبے کے تحت آزاد کشمیر میں کوہالہ اور کروٹ ہائیڈرل کے میگا پراجیکٹس شروع کیے جا رہے ہیں اور میرپور میں ملک کا نواں بڑا صنعتی زون قائم کیا جا رہا ہے۔ آزاد کشمیر کی ترقی اور اقتصادی خوشحالی کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیںتاکہ آزاد کشمیر دیگر صوبوں کے برابر ترقی کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ لائن آف کنٹرول کے متاثرین کے لئے آزاد حکومت کو جو فوری فنڈز ضرورت ہیں انھیں فوری طور پر مہیا کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلہ میں وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی نے خصوصی ہدایات جاری کر رکھی ہیں ایل او سی کے متاثرین کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ لائن آ کنٹرول کے متاثرین کے جملہ مسائل ہنگامی بنیادوں پر حل کیے جائیں گے۔
