جیمز میٹِس جنوبی کوریا پہنچ گئے،بین الوازارتی اجلاس میں شرکت کریں گے

واشنگٹن /سیئول(اے این این)امریکی وزیردفاع جیمز میٹِس جنوبی کوریا پہنچ گئے۔امریکی وزیر دفاع آج سے شروع ہونے والے بین الاوزارتی سالانہ اجلاس میں شرکت کریں گے۔سیول پہنچنے پر میٹِس نے اپنے جنوبی کوریائی ہم منصب سے ملاقات کی اور ڈی میلیٹرازڈ زون کا دورہ کیا۔امریکا کی مسلح فوج کے سربراہ جیمز میٹس نے شمالی کوریا کو خبردار کیا ہے کہ پیانگ یانگ جوہری ہتھیاروں کے ذریعے ہمیں تباہ کرنے کی دھمکیاں دینا بند کرے۔غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی جنرل جیمز میٹس نے جنوبی کوریا کے وزیر دفاع سانگ یانگ مو کے ہمراہ شمالی کوریا کی سرحد سے کچھ فاصلے پر واقع غیر مسلح زون کا دورہ کیا۔اس موقع پر جنرل جیمز میٹس نے شمالی کوریا کے سربراہ کم جانگ ان کی حکومت کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پیانگ یانگ اپنے لوگوں کے ساتھ برا برتا کرتا ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ شمالی کوریا کے ہمسائے میں جنوبی کوریا واقع ہے جس نے اپنے لوگوں کے لیے جمہوریت کو ترجیح دی ہے۔جیمز میٹس نے کہا کہ ہمارا مقصد جنگ نہیں بلکہ جزیرہ نما کوریا کو مکمل اور ناقابل واپسی غیرنیوکلیئر خطہ بنانا ہے۔دوسری جانب جنوبی کوریا کے وزیر دفاع نے کہا کہ شمالی کوریا کبھی بھی اپنے جوہری ہتھیار استعمال نہیں کر سکتا اور اگر اس سے ایسا کیا تو اسے جنوبی کوریا اور امریکا کی مشترکہ طاقتور فورس کی جانب سے منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔یاد رہے کہ جزیرہ نما کوریا میں 1950 سے 1953 تک ہونے والی جنگ کے بعد سے جنوبی کوریا میں تقریبا 30 ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں۔سانگ یانگ مو کا کہنا تھا کہ شمالی کوریا کو مسئلے کے حل کے لئے ہر صورت مذاکرات کرنا ہوں گے۔یاد رہے کہ کچھ ماہ قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے شمالی کوریا کو خبردار کیا گیا تھا کہ اگر پیانگ یانگ نے امریکا یا اس کے اتحادیوں کو دھمکایا تو شمالی کوریا کو مکمل طور پر تباہ کردیں گے۔دوسری جانب شمالی کوریا کے رہنما نے بھی امریکی صدر کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ ہم ایک ایٹمی قوت ہیں اور پورا امریکا ہمارے نشانے پر ہے، جب چاہیں امریکا کو تباہ کر سکتے ہیں۔
