بھارت تنازع کشمیر کے حل کیلئے مثبت ردعمل نہیں دے رہا،پاکستان

اسلام آباد( نیوزایجنسیاں)ترجمان دفترخارجہ ڈاکٹرفیصل نے کہاہے کہ افغانستان کے معاملے پر پاکستان اور امریکا کا ایک ہی موقف ہے، افغان حکومت سے ملافضل اللہ کا معاملہ اٹھایا تھا لیکن ابھی تک حل طلب ہے،واشنگٹن سے حالیہ رابطوں میں انسداد دہشت گردی سمیت تمام معاملات پر بات چیت ہوئی تاہم دہشت گردوں کی فہرستوں کے تبادلے کو کوئی علم نہیں،پاکستان نے مسئلہ کشمیرکے حل کے لیے ہمیشہ پہلا قدم اٹھایا، یہ بھارت ہی ہے جس نے مسئلہ کشمیر پرکبھی مثبت ردعمل نہیں دیا اور نہ دے رہا، اقوام متحدہ کو اپنے قرار دادوں کے مطابق جلد مسئلہ کشمیر کا حل کرنا چاہئے، بنگلا دیش کے حوالے سے پاکستان کا موقف واضح ہے، متنازع ویڈیو پاکستانی ہائی کمیشن ڈھاکا کی ویب سائٹ پر نہیں تھی بلکہ فیس بک پیج پر تھی جسے ہٹا دیا گیا تھا۔جمعرات کو اسلام آباد میں میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان دفترخارجہ ڈاکٹرمحمد فیصل کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کی آمدورفت روکنے کے لئے پاک افغان باڑ ضروری ہے اسی لئے پاکستان کی جانب سے سرحد کو محفوظ بنانے کے لئے باڑ سمیت دیگر اقدامات اٹھائے گئے۔انہوں نے کہا کہ کشمیر کے معاملے پر ہمیشہ بات کی اور کرتے رہیں گے، اقوام متحدہ کو اپنے قرار دادوں کے مطابق جلد مسئلہ کشمیر کا حل کرنا چاہئے۔شیخ مجیب الرحمان سے متعلق متنازعہ ویڈیو کے معاملے پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ بنگلا دیش کے حوالے سے پاکستان کا موقف واضح ہے، متنازع ویڈیو پاکستانی ہائی کمیشن ڈھاکا کی ویب سائٹ پر نہیں تھی بلکہ فیس بک پیج پر تھی جسے ہٹا دیا گیا۔پشاور سے لاپتہ ہونے والے افغان ڈپٹی گورنر کے حوالے سے ڈاکٹر فیصل کا کہنا تھا کہ ڈپٹی گورنر کنڑ اپنے ذاتی کام سے پاکستان آئے تھے اور پاکستان کو سرکاری طور پر آگاہ نہیں کیا گیا تھا تاہم ان کی گمشدگی کے بعد حکومت ان کی بازیابی کے لئے کوششیں کررہی ہے۔
