2018میں مقررہ وقت پر انتخابات ہونا ضروری ہیں،رضا ربانی
کراچی(صباح نیوز)چیئرمین سینٹ میاں رضا ربانی نے کہا ہے کہ 18ویں ترمیم کے خاتمہ کی کوشش کی گئی تو وفاق پر گہرے اثرات پڑیں گے، غیر آئینی اقدامات کے سبب 18ویں ترمیم پر عملدرآمد ناممکن ہو جائے گا، آئین سب سے بالاتر ہے، ایک دوسرے کے کاموں میں غیر آئینی مداخلت نہ کی جائے، مشترکہ مفادات کونسل کو صحیح انداز میں استعمال نہیں کیا جا رہا۔ تین بجٹ گزر گئے لیکن این ایف سی ایوارڈ نہیں آیا،غیر آئینی عمل کی باتیں سن کر دل خون کے آنسو روتا ہے،موجودہ حالات میں کچھ بھی ٹھیک نہیں ہو رہا، قائد اعظم کے 14 نکات میں سے چار نکات صوبائی خود مختاری پر ہیں۔2018ء میں مقررہ مدت پر ملک میں انتخابات ہونا ضروری ہیں، پرویز مشرف پر کیس بنا لیکن اس کو ریاست عدالت تک نہیں لے جا سکی اور وہ فرار ہو کر غیر ملک میں بیٹھا ہوا ہے، پاکستان کو دہشت گردی کے جن حالات کا سامنا ہے اس میں پرویز مشرف کا بہت بڑا کردار ہے جب وہ ایک ٹیلی فون کال پر جھک گیا احتساب کے بغیر کوئی معاشرہ اور ملک نہیں چل سکتا۔ان خیالات کا اظہار رضاربانی نے 18ویں ترمیم کے بعد صوبائی خود مختاری کے قوانین پر عملدرآمد کے چیلنجز پر سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔میاں رضا ربانی کا کہنا تھا کہ پرویز مشرف کے دور میں صوبوں کے بجٹ میں کٹوتی کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ 1947ء سے 2012ء تک تعلیم اور نصاب وفاق کے پاس تھا سکولوں میں پاکستانی تاریخ ٹھیک انداز میں نہیں پڑھائی جاتی جبکہ سیمینار سے خطاب کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے میاں رضا ربانی کا کہنا تھا کہ یہ تاریخ میں دوسری مرتبہ ہوگا کہ 2018ء میں ایک سویلین حکومت پانچ سالہ مدت مکمل کرنے کے بعد انتخابات کے بعد دوسری سویلین حکومت کو اقتدار منتقل کرے گی 2018ء میں مقررہ شیڈول پر انتخابات ہونا بہت ضروری ہے رضا ربانی نے کہا کہ بد قسمتی ہے کہ 18ویں ترمیم میںآرٹیکل میں ترمیم کی گئی اور مارشل لاء کا راستہ روکا گیا کیس مشرف پر بنا لیکن اس کو عدالت تک ریاست نہیں لے جا سکی اور فرار ہو کر غیر ملک میں اس وقت بیٹھا ہواہے اور افسوس کی بات تو یہ ہے کہ وہاں سے وہ پاکستان کی سیاست پر تبصرہ کرتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو دہشت گردی کے جن حالات کا سامنا ہے اس میں پرویز مشرف کا بہت بڑا کردار ہے جب وہ ایک ٹیلی فون کال پر جھک گیا ان کا کہنا تھا کہ قومی ڈائیلاگ کے حوالے سے بات کرنا سیاسی جماعتوں کا کام ہے میں نے کوئٹہ میں جو بات کی تھی وہ مختلف بات تھی میں نے بات کی تھی کہ آئین کے تحت ادارے کام کررہے ہیں اور پاکستان کے آئین میں پارلیمان ،ایگزیکٹو اورعدلیہ ہے میں نے ان کے درمیان بات چیت کی بات کی تھی کہ وہ ڈائیلاگ ہونا لازم ہے اوراس میں ملٹری بیوروکریسی بھی شامل ہے ہر ادارہ اپنی آئینی حدود میں بہتے ہوئے کام کرے۔میاںرضا ربانی کا کہنا تھا کہ احتساب کے بغیر کوئی معاشرہ اور ملک نہیں چل سکتتا اور احتساب کا عمل پاکستان کے آئین کے اندر مہیا کیا گیا ہے۔احتساب قانون کے حوالے سے بننے والی پارلیمانی کمیٹی کو میں نے ایک تفصیلی خط بھی لکھا تھا جس میں میں نے ایک کمیشن کی بات کی میں نے یہ بات کی تھی کہ اگر احتساب کو بامعنی بنانا ہے تو وہ سب کے لیے برابر ہونا چاہیے اس میں یہ نہیں ہو سکتا کہ کچھ ادارے یہ کہیں کہ ہم اپنے سینیٹرز کے ذریعہ جوابدہ ہیں اور صرف کچھ لوگ سیاستدان اور سول بیوروکریسی خصوصی عدالتوں یا خصوصی قوانین کے تحت ہوں۔ سیاسی جماعتوں کی اپنی حکمت ہے میں اس پر کوئی رائے نہیں دوں گا ۔اخبارات میں نے پڑھا سیاسی جماعتوں نے فیصلہ اس کے برعکس کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ سینٹ میں ہم نے دو روز قبل اپنی ایتھکس کمیٹی بنا دی ہے اور سینٹ پاکستان میں پہلا ہائوس بنا ہے جس میں سینیٹرز جوابدہ ہوں گے اگر کوئی بھی رکن یا شہری ان کے خلاف شکایت کمیٹی میں لے جا سکے گا۔ سینٹ اور سینیٹرز نے اپنے آپ کو احتساب کے لیے پیش کردیا ہے میاں نواز شریف کے خلاف کیسز اور (ن) لیگ کے اندر اختلافات کی خبروں کے حوالے سے سوال پر رضا ربانی کا کہنا تھا کہ میرا عہدہ ایسا ہے کہ مناسب نہیں ہوگا کہ میں سیاسی بات پر اپنی رائے دوں۔ چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ نان سٹیٹ ایکٹرز کے خلاف آپریشن ہوئے ہیں یا جو آپریشنز جاری ہیں ان میں فوج کوخاطر خواہ کامیابی حاصل ہوئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ گوریلا جنگ یا دہشت گردی میں سلیپنگ سیل اور اس طرح کی بہت ساری چیزیں ہوتی ہیں اور یہ توقع کرنا کہ بجلی کے بٹن کسی طرح آپریشن کریں گے یہ ختم ہو جائیں گے۔وہ ممکن نہیں ہے وقت کے ساتھ اور مسلسل جدوجہد کے ذریعہ یہ ختم ہونگے ابھی تک پاکستان آرمی اور دیگر سیکیورٹی فورسز نے جو آپریشنز کیے ہیں ان میں خاطر خواہ کامیابی ہوئی ہے اور ہمیں اس دبائو کو برقرار رکھنا پڑے گا میں نہیں سمجھتا کہ اس حوالے سے سول اور ملٹری کے اندر کسی قسم کا کوئی تنازعہ ہے تمام سیاسی جماعتیں اس حوالے سے ایک پیج پر ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ بد قسمتی سے سول سروس ریفارمز کسی بھی سویلیں حکومت کی ترجیح یا ایجنڈہ نہیں رہا۔
