کرپشن پر گرفتار کسی شہزادہ سے رعایت نہیں ہو گی،سعودی حکومت کا اعلان

جدہ /ریاض(صباح نیوز)سعودی عرب کے اٹارنی جنرل الشیخ سعود بن عبداللہ بن مبار المعجب نے واضح کیا ہے کہ بدعنوانی کے مقدمات میں زیر حراست کسی بھی شخص کے ساتھ کسی بھی قسم کی کوئی رو رعایت نہیں کی جائے گی۔ عہدہ یا سماجی حیثیت کی بنیاد پر کسی کے ساتھ امتیازی برتائو نہیں کیا جائے گا، ملزمان سے عام سعودی شہری کی طرح برتا6 کیا جائے گا کسی کی اہم پوزیشن یا عہدہ انصاف کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنے گا ۔ملزمان سے عام سعودی شہری کی طرح برتا6 کیا جائے گا کسی کی اہم پوزیشن یا عہدہ انصاف کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنے گا ۔ ایک بیان میں الشیخ سعود بن عبداللہ بن مبار المعجب نے توجہ دلائی کہ جو لوگ بدعنوانی کے الزام میں زیر حراست ہیں ان کو بھی وہی حقوق حاصل ہیں جو دیگر افراد کو دیئے جاتے ہیں۔ ایک عام سعودی شہری، شہزادے، وزیر اور اعلی عہدیدار کے حقوق میں کوئی فرق نہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ انسداد بدعنوانی کی نئی کمیٹی نے اپنا کام شروع کردیا۔ تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا،ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی زیر صدارت تشکیل دی گئی کمیٹی کو وسیع اختیارات حاصل ہیں۔ مفاد عامہ کے تحت ملزمان کو حراست میں لیا جا سکتا ہے۔ ان کے معاونین کو بھی گرفتار کیا جا سکتا ہے۔ ان کی جامہ تلاشی اور مکانات کی تلاشی بھی لی جا سکتی ہے۔ جو کچھ کیا جا رہا ہے یا کیا جائے گا وہ مفاد عامہ کے حصول کو یقینی بنانے کیلئے اعلی کمیٹی کے دائرہ اختیار کے تحت ہوگا۔ اینٹی کرپشن کمیٹی دہشت گردی کو ختم کرنے کے لیے متعدد کیسز پر کام کر چکی ہے جبکہ سعودی وزارت اطلاعات نے کہا ہے کہ کرپشن الزامات میں گرفتار کے اثاثے منجمند کئے جائیں گے اور کرپشن سے تعلق رکھنے والی کوئی بھی جائیداد ریاست کے نام ہو جائے گا۔
#/S