لین دین میں قانون کی خلاف ورزی پر نااہل کیسے کردیں؟چیف جسٹس

اسلام آباد(صباح نیوز)سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثارنے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور جہانگیر ترین کی نااہلی کی درخواست پر سماعت کے دوران ریمارکس دیئے کہ ہر قانون کی خلاف ورزی کے اپنے نتائج ہوتے ہیں لہذا کاروباری لین دین میں قانون کی خلاف ورزی پر نااہل کیسے کردیں؟،جبکہ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہاکہ انتخابی گوشواروں میں انسائیڈرٹریڈنگ کاڈیکلریشن نہیں دیناہوتا ، جب غلط ڈیکلریشن نہیں دیا تو نااہلی کیسی؟ ۔منگل کو چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما حنیف عباسی کی جانب سے عمران خان اور جہانگیر ترین کی نااہلی کی درخواست سماعت کی۔دوران سماعت حنیف عباسی کے وکیل اکرم شیخ نے کہا کہ موقف میں تبدیلی کی عمران خان کی درخواست کا جواب دیا ہے، جمائما کے بنی گالہ اراضی کے علاوہ کسی اثاثے کا ذکر نہیں کیا جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ بظاہر جوابی کارروائی کے لیے درخواست دائر کی گئی۔دوران سماعت جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آپ کوپہلے دن سے یہ بات پتا تھی لیکن آپ نے نقطہ نہیں اٹھایا، چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے یہ اعتراض پہلے کبھی نہیں اٹھایا، متنازع دستاویزات پر عدالت کو کیا کرنا چاہیے؟چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ جمائما انتہائی امیر کبیر گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں، عمران خان کو ساری دنیا میں جمائما کے اثاثے ڈھونڈنے پڑتے۔اس دوران حنیف عباسی کے وکیل نے دلائل میں کہا کہ نیازی سروسزکا یورو اکاونٹ پہلی بار سامنے آیا جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کیس چلتا گیا سوال سامنے آتے رہے، جواب میں نئی دستاویزات آئیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ ججز بھی قانون کے تابع ہیں، کبھی اپنے اختیارات کی بات نہیں کی جس پر اکرم شیخ کا کہنا تھا کہ آپ کے اختیارات پر بات کرنے والے کے منہ میں خاک۔چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ حنیف عباسی کا کون سا بنیادی حق متاثر ہوا؟ حنیف عباسی کے لیڈر کو عمران خان نے چیلنج کیا ہے۔دوران سماعت حنیف عباسی کے وکیل عاضد نفیس نے موقف اپنایا کہ جہانگیر ترین انسائیڈر ٹریڈنگ کرکے صادق اور امین نہیں رہے، انسائیڈر ٹریڈنگ جہانگیر ترین کو بے ایمان ثابت کرنے کے لیے کافی ہے جس پر جسٹس فیصل عرب نے ریمارکس دیئے کہ انتخابی قوانین میں انسائیڈر ٹریڈنگ کا ذکر نہیں۔عاضد نفیس کا کہنا تھا کہ جہانگیر ترین انسائیڈر ٹریڈنگ کے مرتکب قرار پائے، ایس ای سی پی قانون کی شق 15 اے،15 بی کالعدم ہو بھی جائے تو جہانگیر ترین نااہل ہوں گے۔جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ انتخابی گوشواروں میں انسائیڈرٹریڈنگ کاڈیکلریشن نہیں دیناہوتا، جب غلط ڈیکلریشن نہیں دیا تو نااہلی کیسی؟حنیف عباسی کے وکیل عاضد نفیس نے سوال اٹھایا کہ الیکشن کے لیے بی اے کی شرط رکھنا بھی غیرآئینی تھا، شرط نہ ہوتی تو نااہل ہونے والے بھی جھوٹ نہ بولتے، نااہلی کاغذات نامزدگی پر نہیں بیایمانی پر ہوگی۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کسی کے الیکشن پر اعتراض ہو تو ٹریبونل سے رجوع کیا جاتا ہے ، متعلقہ فورم موجود ہو توسپریم کورٹ کیوں درخواست سنے۔عاضد نفیس نے کہا کہ جہانگیر ترین نے غیرقانونی آمدن حاصل کی، جرم کے بعد جہانگیرترین کسی کمپنی کے ڈائریکٹر نہیں بن سکتے، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا قانون کی ہرخلاف ورزی انسان کو بے ایمان بنا دیتی ہے؟ کیا کسی قانون کی خلاف ورزی پرانسان بد دیانت ہوجاتاہے؟ کیا ہر قانون کی خلاف ورزی پر نااہلی ہو سکتی ہے؟ آپ نئی دلیل دیرہے ہیں جس پرسکندر بشیر کا موقف لیں گے۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ہر قانون کی خلاف ورزی کے اپنے نتائج ہوتے ہیں، کاروباری لین دین میں قانون کی خلاف ورزی پر نااہل کیسے کردیں؟ قانون کی خلاف ورزی کے کئی سال بعدکیسے کسی کوبے ایمان کہیں؟ مان لیتے ہیں قانون کی خلاف ورزی ہوگی لیکن بے ایمانی کیسے کہیں؟۔
#/S