اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم کے باوجود فیض آباد انٹرچینج پر دھرنا جاری

اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم کے باوجود وفاقی دارالحکومت اور جڑواں شہر راولپنڈی کے سنگم فیض آباد پر ایک مذہبی و سیاسی جماعت کا دھرنا 13 ویں روز بھی جاری ہے، جس کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

دوسری جانب ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے مذہبی جماعت کےسربراہ کو دھرنا ختم کرنےکے لیے خط لکھ دیا۔

خط میں کہا گیا کہ اگر دھرنا ختم نہ کیا گیا توقانون کے مطابق سخت کارروائی ہوگی۔

واضح رہے کہ ایک مذہبی و سیاسی جماعت 'تحریک لبیک' نے فیض آباد انٹرچینج پر 13 روز سے دھرنا دے رکھا ہے، جس میں وزیر قانون زاہد حامد کے استعفے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

مذکورہ مذہبی و سیاسی جماعت نے یہ دھرنا ایک ایسے وقت میں دیا جب رواں برس اکتوبر میں حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) نے الیکشن ایکٹ 2017 میں ترامیم منظور کی تھیں، جس میں 'ختم نبوت' سے متعلق شق بھی شامل تھی، لیکن بعد میں حکومت نے فوری طور پر اسے 'کلیریکل غلطی' قرار دے کر دوسری ترمیم منظور کرلی تھی۔ 

تاہم الیکشن ایکٹ میں ترمیم کے خلاف مذکورہ سیاسی و مذہبی جماعت نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا۔

گزشتہ روز  مذکورہ درخواست پر سماعت کے دوران اسلام آباد ہائی کورٹ نے دھرنے والوں کو دھرنا ختم کرنے کا حکم دیا تھا۔ 

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ریمارکس دیے تھے کہ بچے، بوڑھے، ملازمین اور طالبعلم دھرنے سے متاثر ہو رہے ہیں، دھرنا ختم کریں تاکہ عوام کی مشکلات ختم ہوں۔