باغ: ویمن یونیورسٹی کے 22ملین لیپس، مزید 85ملین ضائع ہونے کا خدشہ

اغ ( سٹی رپورٹر)انجمن تاجران با غ کے سابق صدر خان سلیم خان نے کہا ہے کہ وویمن یونیورسٹی باغ کے 22ملین پہلے ہی لیپس ہو گئے اب 85ملین بھی ضائع ہونے کا خدشہ ہے وویمن یونیورسٹی کی کمیٹی کے چئیر مین وزیر جنگلات سردار میرا کبر خان زمین کی خریداری کے لئے اقدامات اٹھائیں اور اس اہم مسئلے کی طرف توجہ دیں تاکہ ہزاروں بچیوں کا مستقبل تاریک ہونے سے بچ سکے۔ وویمن یونیوسٹی کے لئے زمین دستیاب ہونے کے باجود باغ کے دونوں وزراء دلچسپی نہیں لے رہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ خان سلیم خان نے کہا کہ وویمن یونیورسٹی باغ کے لئے قادر آباد، سیور ، سدھن گلی اور دیگر علاقوں میں لوگ جگہ دینے کے لئے رضا مند ہیں اس کے باوجود ٹال مٹول سے کام لیا جارہا ہے جو کہ باغ کی عوام کے
ساتھ بڑی علم دشمنی ہے جسے باغ کے عوام ہر گز قبول نہیں کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ وویمن یونیورسٹی باغ کے عوام کے لئے ہی نہیں بلکہ پوری ریاست کے لئے ایک بڑا علمی تحفہ ہے جس پر باغ کے عوام سازشی عناصر کی سیاست کو قبول نہیں کریں گے اس لئے حکمران طبقے کے ذمہ داران کو چاہیے کہ وہ وویمن یونیورسٹی کی جگہ کی خریداری کے فوری اقدامات اٹھائیں تاکہ باغ کے عوام میں پائی جانے والی بے چینی کو دور کیا جا سکے ۔انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ باغ عوامی مفادات کے لیے مشاورت سے ضلعی منصوبہ جات کو مکمل کرنے کے لئے حکمت عملی سے کام لے تاکہ باغ کے عوام کو بھر پور ریلیف مل سکے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر وویمن یونیورسٹی باغ کی جگہ کے لئے فوری انتظامیہ کو حرکت میں لائیں تاکہ بچیوں کا مستقبل تاریک ہونے سے بچ سکے ۔ وویمن یونیورسٹی پر سیاست کرنے والوں کو چاہیے کہ و ہ ریاست بھر کی بچیوںپر رحم کریں تاکہ بچیوں کا مستقبل روشن ہو سکے ۔
ویمن یونیورسٹی
