محبوبہ مفتی اقتدار کی حوس میں کشمیرکے بارے میں تلخ حقائق کو نظر اندازکر رہی ہے۔۔حریت کانفرنس غیر قانونی بھارتی قبضے نے کشمیریوں کو قتل وغارت کے سوا کچھ نہیں دیا۔۔۔ترجمان

سرینگر 14جنوری (کے ایم ایس )
مقبوضہ کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی طرف سے نام نہاد اسمبلی میں دیے جانے والے حالیہ بیان پر سخت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ حقیقت سے مبرا بیانات سے کشمیریوں کو ہرگز گمراہ نہیں کیا جاسکتا۔ محبوبہ مفتی نے کہا تھا کہ کشمیر کو بھارت کا حصہ بنانا شیخ عبداللہ اورمہارجہ ہری سنگھ کا جراّ ت مندانہ اور تاریخی فیصلہ تھا۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ محبوبہ مفتی اقتدار کی حوس میں کشمیر کے حوالے سے تلخ حقائق کو نظر انداز اور تاریخی حقائق کو جھٹلا رہی ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ محبوبہ مفتی کشمیریوںکی خواہشات کی نمائندگی کا حق اور انکے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرنے کا اختیارنہیں رکھتی ۔ انہوں نے کہا کہ مفتی محبوبہ کی طرف سے نام نہاد اسمبلی میں دیا جانے والا بیان جھوٹ کا پلندہ اور بنیادی حقائق کے بالکل برخلاف ہے ۔ انہوںنے کہا کہ بھارت سے الحاق نے کشمیریوں کو مصائب و مشکلات کے سوا کچھ نہیں دیااور اس غیر فطری اور مشکوک الحاق کے سبب یہ خطہ گزشتہ ستر برس سے غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے جبکہ اس عرصے کے دوران لاکھوں کشمیری قتل کیے گئے۔ ترجمان نے کہا کہ بھارت نے کشمیریوںکی تحریک آزادی کو دبانے کیلئے مقبوضہ علاقے میں آٹھ لاکھ سے زائد فورسز اہلکار تعینات کر رکھے ہیںجسکے باعث جموںوکشمیر اس وقت دنیا کاسب سے بڑا فوجی جماﺅ والا خطہ بن چکا ہے۔ حریت ترجمان کہا کہ قابض بھارتی فورسز نے گزشتہ سات دہائیوں کے دوران چھ لاکھ سے زائد کشمیری شہید اور ہزاروں لاپتہ کر دیے ۔ترجمان نے کہا کہ صرف گزشتہ ستائیس برس کے دوران ہزاروںکشمیری خواتین بیوہ ،ہزاروں بچے یتیم جبکہ ہزاروں افراد معذور کیے گئے۔ترجمان نے کہا کہ کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ نے 8جولائی 2016کو ممتاز نوجوان رہنما برہان مظفر وانی کے ماورائے عدالت قتل کے بعد سے اب تک مقبوضہ وادی میںقتل کیے جانے والے شہریوں اور کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے اطلاق کے حوالے سے جو اعداد وشمار نام نہاد اسمبلی میں پیش کیے وہ حقائق کے برخلاف ہیں۔ حریت ترجما ن نے کہا کہ کشمیر عالمی سطح پر تسلیم شدہ ایک متنازعہ خطہ ہے اور یہ بھارت ہی ہے جو جموںوکشمیر کا تنازعہ اقوام متحدہ میں لے گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے کشمیریوں کے حق خود اردیت کے بارے میں عالمی ادارے کی جانب سے پاس کی جانے والی قراردادوں پر دستخط کیے لیکن وہ بعد میں ان قراردادوں پر عمل در آمد اور کشمیریوں سے کیے گئے وعدوں سے مکر گیا ۔ ترجمان نے کہا کہ کشمیری تنازعہ کشمیر کے اپنی خواہشات کے مطابق حل تک اپنی جدوجہد ہر قیمت پر جاری رکھیں گے۔KMS-01/M