سرینگر میں مشترکہ حریت قیادت کی اپیل پر احتجاجی ریلی
پلوامہ میں مظاہرین اور بھارتی فوجیوں کے درمیان جھڑپیں
سرینگر29جنوری (کے ایم ایس )مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی فورسز کی طرف سے شمالی اور جنوبی کشمیرمیں قتل عام کے حالیہ واقعات اور تلاشی اور محاصرے کی کارروائیوںکے خلاف آج سرینگر میں ایک پر امن احتجاجی ریلی نکالی گئی ۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق سرینگر میںآبی گذر سے لال چوک تک احتجاجی مارچ کیاگیا۔ مارچ کی کال سیدعلی گیلانی ، میر واعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک پر مشتمل مشترکہ حریت قیادت نے دی تھی ۔ مظاہرین نے پریس کالونی میں احتجاجی دھرنا دیا۔ حریت رہنمائوںشوکت احمد بخشی، مختار احمد صوفی، نور محمد کلوال ، عمر عادل ڈار، بشیر احمد بویا، فاروق احمد سوداگر،محمد رفیق شاہ اور بشیر احمد بٹ نے مظاہرے میں شرکت کی ۔
تینوں حریت رہنمائوں سیدعلی گیلانی ، میر واعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے سرینگر میں جاری ایک مشترکہ بیان میں کہاکہ بھارت نے جموںوکشمیر کو ایک مقتل گاہ میں تبدیل کردیا ہے جہاںعمر اورصنف کا لحاظ کئے بغیر لوگوں کو مظالم کا نشانہ بنایا جارہا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ بھارت اور اسکی کٹھ پتلی انتظامیہ کی زیر نگرانی قتل عام کے بڑھتے ہوئے واقعات کشمیریوںکی نسل کشی ُ کا واضح ثبوت ہیں ۔
سیدعلی گیلانی نے ایک بیان میں کہاکہ بھارتی فورسز کشمیر ی عوام کے خلاف سنگین جنگی جرائم میں ملوث ہیں ۔ انہوںنے شوپیاں میں بھارتی فوجیوں کی طرف سے مظاہرین پر اندھادھند فائرنگ میں دو طالبعلموں جاوید احمد بٹ اور سہیل جاوید لون کے قتل اور متعدد افراد کو زخمی کرنے کی شدید مذمت کی ۔
ادھر شہید نوجوانوں کے اہلخانہ سے اظہار ہمدردی کیلئے بڑی تعداد میں لوگ گنو پورہ اوربل پورہ گئے ۔ جاوید اور سہیل کی میتوں کو پاکستانی جھنڈوں میں لپیٹ کر انکے آبائی علاقوں میںسپرد خاک کیاگیا ۔ اس موقع پر قبرستان میںبڑی تعداد میں پاکستانی جھنڈے اور برہان مظفر وانی سمیت شہید مجاہدین کی تصاویر موجودتھیں۔
ضلع پلوامہ میں نوجوانوں نے سڑکوں پرنکل کر شوپیاں میں کشمیریوں کے قتل کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرے کئے ، اس موقع پر مظاہرین اور فورسز کے اہلکاروںکے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔بھارتی فوجیوںنے مظاہرین پر آنسو گیس سمیت طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا ۔ کشمیریوںکے قتل کی مذمت کیلئے شوپیاں میں احتجاجی ہڑتال آج بھی جاری رہی۔
دریں اثناء کل جماعتی حریت کانفرنس کاایک وفد حال ہی میں نامعلوم افراد کی طرف سے بے حرمتی اور قتل کا نشانہ بننے والی آٹھ سالہ بچی آصفہ کے والدین سے اظہار ہمدردی کیلئے ضلع کٹھوعہ کے علاقے ہیرانگر گیا۔ وفدمیں یاسمین ، زمردہ حبیب، میر شاہد سلیم ، حاجی محمد اعظم ، سید غلام نبی شاہ ، دیویندرسنگھ اور ونے کمار شامل تھے ۔
آل ٹرائیبل کوآرڈینیشن کمیٹی نے ایک بیان میں کہاہے کہ مقامی انتظامیہ نے ہیرانگر اورضلع کٹھوعہ کے دیگر علاقوںمیں مسلمان آبادی کو پانی کی فراہمی معطل کردی ہے ۔KMS-Y
