قوانین پر عملدرآمد کرنا ہر آفیسر کی ڈیوٹی ہے:کرنل وقار

باغ (ڈسٹرکٹ رپورٹر) چیئر مین وزیر اعظم معائینہ و عمل درآمد کمیشن و ممبر قانون ساز اسمبلی کرنل (ر)وقار احمد نور نے کہا ہے کہ ترقیاتی محکموں کے
آفیسران منصوبوں کی ہفتہ وار مانٹرینگ کریں ۔سرکاری وسائل کو درست و صیح صیح استعمال ہو ناقص تعمیر کرنے والے کنٹریکٹر کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے ۔ناقص تعمیر ہونے والے منصوبے پر متعلقہ محکمہ کے ذمہ دار آفیسر کے خلا ف سخت ترین کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔سکولوں میں مانیٹرنگ کا عمل جاری رکھا جائے ۔ہر ہفتہ دس دن کے بعد منصوبوں کا دوبارہ وزٹ کر کے اس میں جو چیز ناقص یا غلط تھی اس کو چیک کیا جائے ۔حکومتی قوانین پر عملدرآمد کرنا آفیسر کی ذمہ داری میں شامل ہے۔ عوام کو زیاہ سے زیادہ سہولیات کی فراہمی کے لیی منصوبوں کو بروقت مکمل کر کے اس کے ثمرات ان تک پہنچائے جائیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے باغ میں ضلعی آفیسران کے ساتھ بریفینگ لیتے ہوئے کہا۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر باغ سردار محمد وحید خان سپرٹنڈنٹ پولیس جمیل احمد خان ڈپٹی ڈائریکٹر وزیر اعظم معائنہ و عملدرآمد سردار عابد حسین خان ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر سردار راشد آزادڈی ایم ایس باغ ڈاکٹر محمد ادریس خان ، ڈی ایف او سید طاہر شاہ، ڈی ایچ او ڈاکٹر عبدالقدوس چوہدری ، نائب ناظم زراعت خواجہ افتخار بٹ ، ایکسین تعمیرات عامہ سید زاہد گیلانی، ایکسین برقیات سردار ذوالفقار، ایکسیئن شاہرات راجہ زبیر احمد، سوشل ویلفیئر اطلاعات خوراک جنگلات کے علاوہ دیگر  تمام محکمہ جات کے ضلعی آفیسران موجود تھے۔ چیئرمین معائنہ کمیشن نے آفیسران سے کہا کہ گورنمنٹ رولز پر عملدرآمد کیا جائے اور رولز کا اطلاق بہر صورت سب پر یکساں ہونا چاہیے انہوں نے کہا کہ سسٹم کی ٹھیک کرنے کی کوشش کریں حکومت نے آفیسران کو فری ہینڈ دیا ہے کہ وہ رولز کے اندر رہتے ہوئے میرٹ اور گڈ گورنس کو عملی جامعہ پہنائیں۔موجودہ حکومت اداروں کے اندر کوئی سیاسی مداخلت نہیں کر رہی ہے تاہم اگر اداروں کے اندر حکومتی ترجیحات اور تعمیر و ترقی کے منصوبے میں کسی قسم کی کوئی غفلت ، لاپرواہی دیکھی گئی تو اس کے خلاف سخت اقدامات عمل میں لائے جائیں گے ۔ آفیسران خود منصوبوں کا معائنہ اور مانیٹرنگ کے عمل کریں اور کام کے معیار میں کسی قسم کا کوئی کمپرومائیز نہ کیا جائے۔ کوالٹی کا خصوصی خیالی رکھا جائے۔ اور سب سے ضروری یہ کہ جو بھی وسائل استعمال ہوں ان کا درست طور پر استعمال ہو اور ان کے ثمرات حق دار تک پہنچنے چاہیں ۔ ایک ایک پائی عوام کی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر درست لگے اور اس کا ریکارڈ اور کام کا معیار بھی درست اور صیح ہو۔ انہوں آفیسران سے کہا کہ وہ دفاتر کے اندر بھی رکھ کر خود آئیں اور ماتحت سٹاف کو بھی اس پر سختی سے عملدآمد کرائیں۔ دفاتروں میں آنے والے لوگوں کے مسائل سنیں اور ان کو حل کیا جائے ۔ میٹر ریڈ ر ایوریج بل ہر کسی صارف کو نہ دیں ڈسٹرکٹ کمپلکس باغ کو بروقت مکمل کرنے کے لیے تیزی کے ساتھ کام کیا جائے۔ تاخیر سے منصوبے مکمل ہونے سے ان کی لاگت میں کئی گنا اضافہ ہوتا ہے آئیندہ کوئی منصوبہ بروقت مکمل نہ ہونے پر متعلقہ کنٹریکٹر کو بلیک لسٹ کیا جائے اور اس محکمہ کے ذمہ داران کے خلاف بھی سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔