پروفیسر انور قتل کیس میں پولیس مکمل طور پر ناکام ہوگئی، نثار شائق

باغ (ڈسٹرکٹ رپورٹر) جماعت اسلامی ضلع باغ کے امیر نثار شائق، پیپلز پارٹی کے رہنماء منظور چغتائی، شیراز ایوب، رانا سرفراز، حاجی افراہیم، لیاقت انور، صوبیدار صابر، عثمان انورنے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ پروفیسر انور شہید کے قتل کو 8ماہ گزر گئے ریاستی پولیس قاتلوں کو گرفتار کرنے میں ناکام ہو چکی ،7دن کی ڈیڈ لائن ختم ، دفاعی مین شاہراہ کو غیر معینہ مدت کے لیے بند کرنے کے لیے مشاورت مکمل ،ایس پی موسیٰ ، ڈی ایس پی شوکت مرزا،ایس ایچ او حسن وزیر آفریدی کو فوری طور پر عہدوں سے معطل کرکے دوبارہ تفتیش کی جائے ،پروفیسر انور کے قتل میں ایس پی موسیٰ اور اسکے بھائی ،بھتیجے اور دیگر قریبی عزیز ملوث ہیں ،وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر ، عبد الرشید ترابی ،وزراء حکومت اپنے وعدے کے مطابق مجرموں کی گرفتاری کے لیے کردار ادا کریں ،پروفیسر انور کا قتل انسانیت کا قتل ہے یہ کسی برادری کی جنگ نہیں ،آئی جی پولیس ، ایڈیشنل آئی جی فہیم عباسی اور دیگر اس کیس میں ڈنڈی مار رہے ہیں ،فہیم عباسی کے خلاف بھی وزیر اعظم انکوائری کا حکم دیں ، عرفان سلیم نے ابتدائی تفتیش میں جن 14نکات پر مشتمل غلطیوں کی نشاندہی کی انکے مطابق بھی ذمہ داران کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ،پروفیسر انور کے قتل کا وقوعہ رضا خان کے گھر کے ساتھ ہوا، رہنمائوں نے کہا کہ پروفیسر انور جسٹس فورم نے کہا کہ 8مئی 2017کو پروفیسر انور کو قتل کیا گیا ،پولیس جب نعش کے پاس پہنچی رضا خان ولد جلال دین خان وہاں موجود تھا پولیس آفیسر کس ذرائع کی اطلاع پر وہاں پہنچے اس کی چھان بین نہیں کی گئی اور نہ ہی کوئی بات صفحہ مثل پر لائی گئی ایک پولیس آفیسر موسیٰ خان ایس ایس پی کا حقیقی بھائی رضا خان موقع پر موجود پولیس اہلکاران اور ورثاء کو بریفنگ دے رہا تھا کہ یہ ایکسیڈنٹ ہے اور نشاندہی کر رہا تھا کہ SCOکی ایک تار اس حادثے کی علامت ہے ،حسن وزیر آفریدی جو اس وقت مہتمم تھانہ پولیس باغ موقع پر پہنچا اور اس دیکھتے ہی اسے قتل قرار دیا اس نے رضا کی بات کو مسترد کیا ،SHOحسن وزیر آفریدی نے پڑوسی سے کپڑا منگوا کر خون آلود نعش سے خون کو صاف کیا اور نعش کی حالت کو تبدیل کیا جس کا مکمل ثبوت ہمارے پاس موجود ہے ،8مئی 2017کو نعش کے قریب ملزمان آزادانہ طریقے سے گوم رہے تھے پولیس نے نعش کے قریب ممنوعہ جگہ کی نہ تو نشان دہی کی اور نہ ہی نعش کے قریب ترین گھر کا معائنہ کیا ،پوسٹ مارٹم کے دوران ڈاکٹرز کے ساتھ DSPشوکت مرزا کی تلخی ہوئی ،SSPعرفان سلیم نے تفتیش کے دوران 4ماہ کی طویل مدت میں دریافت کے عمل سے ملزمان کے بمطابقCDR Geo fancingکی روشنی میں 8کس ملزمان پر نعش کو ٹھکانہ لگانے کی منصوبہ بندی اور رضا خان کے گھر انکی موجودگی کا شبہ قائم کیا لیکن تفتیش کے عمل سے انہیں نہ گزارا گیا قتل کے مرکزی ملزم جمیل ولد فوجدار کو سو فیصد مشکوک ہوتے ہوئے بھی 169دفعہ کے تحت بلا جواز خلاصی دے دی گئی اور عمران ولد منشاء کو بھی دانستہ خلاصی دی گئی ،FIRکے نامزد ملزمان میں 8کس ملزمان ایسے ہیں جو 8ماہ بعد بھی ایک منٹ کے لیے تفتیش کے عمل سے نہیں گزر سکے جن میں قتل کا منصوبہ ساز بھی شامل ہے ،SSPعرفان سلیم نے گزشتہ تفتیش کی روشنی میں پولیس آفیسران شوکت مرزا ، ڈی ایس پی اور حسن وزیر آفریدی کے خلاف بے رحمی کے ساتھ قتل کیس کی شہادتیں مٹانے کی پاداش میں آئی جی پولیس کو تادیبی کارروائی کی سفارش کی جس پر تا حال عمل نہ ہو سکا ،ملزمان کو بچانے کے لیے SPموسیٰ نے کھلے عام مداخلت شروع کر رکھی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ایس پی موسیٰ کے بھائی آصف جو ملزم ہے وہ اور انکے دیگر رشتے دار بے بنیاد خبریں لگوا رہے ہیں ، حکومت نے اگر قاتل گرفتار نہ کیے تو راولپنڈی شاہراہ غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دی جائیگی ،وزیر اعظم اپنے وعدے کے مطابق قاتلوں کو گرفتار کروائیں۔