کرپشن ثابت ہو جائے تو معافی مانگ کر گھر چلا جائوں گا، حافظ طارق

باغ (ڈسٹرکٹ رپورٹر)صدر انجمن تاجران حافظ طارق نے کہا ہے کہ مافیا ، بلیک میلروں ،سود خورورں اور دو نمبرکام کرنے والوں کا حقہ پانی 3سالوں سے بند ہونے سے انکی چیخیں نکل رہی ہیں کارڈوں اور دیگر فنڈز میں خرد برد کرنے والے اچھل کود نہ کریں ایک روپے کی بد عنوانی یا مالی کرپشن ثابت ہو جائے تو تاجروں سے معافی مانگ کر گھر چلا جائونگا ،آئین میں ترامیم 2018کا الیکشن جیت کر کریں گے ،باغ کے تاجر تمام مافیا کو جانتے ہیں جو صرف افسروں اور حکمرانوں کی ہمیشہ چاپلوسیاں کرتے رہے ہیں ،ہم نے 3سال تاجر تنظیم بلا تخصیص پارٹی ،برادری ،مسلک چلائی ہے ، میرے خلاف زمان چوک کے چھوٹے کمرے میں بیٹھ کر 3سال سے سازشیں کی جاتی رہیں لیکن ان کا کبھی کچھ بننے والا نہیں ،سپریم کونسل کے اجلاس میں ہم ترمیم کر سکتے تھے لیکن ہم انگوٹھا ماروں کو موقع نہیں دینا چاہتے کہ وہ بہانہ بنا کر الیکشن سے بھاگ جائیں ،انجمن تاجران کے الیکشن میں دوستوں کی مشاورت سے اجلاس بلوا کر پینل کا اعلان کرینگے ، میں نے خان سلیم خان کو صدارت کیلئے کہا لیکن انہوں نے معذرت کر دی اب بھی اگر میرے کسی دوست کی خواہش ہے تو وہ آئے اسکو بھی لے کر چلنے کے لیے تیار ہیں ،ہم نے تاجروں کے حقوق کا 3سال بھرپور تحفظ کیا ہے ،ان خیالات کا اظہار انہوں نے انجمن تاجران باغ کی سپریم کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔سپریم کونسل اجلاس سے چیئر مین سپریم کونسل سید ذوالفقار کاظمی ،وائس چیئر مین حنیف منہاس ، سابق صدر انجمن تاجران خان سلیم خان ،جنرل سیکرٹری منصور احمد ، نگران اعلیٰ راجہ اعجاز ، سیکرٹری مالیات ناصر اسلم ، سردار نیاز ،چوہدری عابد ،ملک افسر ، حاجی یعقوب ،الطاف سدوزئی ، افضل کشمیری ، خواجہ نعیم آکاش ، چیئر مین حنیف ،خواجہ شبیر شمیم ، سرداراخلاق ، سید عباس شاہ ، ابرار گردیزی ، چوہدری منصف کٹھانہ ، خان اسد خان ، گلزار خان ، سیف اللہ شوکت اور دیگر نے بھی خطاب کیا حافظ طارق نے کہا کہ الیکشن کے لیے مشاورتی اجلاس بلوا کر فیصلہ کرینگے ، خان قادر ہمارے بھائی ہیں ہم 3سال اکٹھے چلے ہماری تنظیم نے اعلیٰ رواداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے تمام تاجروں کے حقوق کا خیال رکھا منتخب ہونے کے بعد بیکرز اور ہوٹلز ایسوسی ایشن کی ذیلی تنظیموں کے صدور ان ساتھیوں کو بنایا جو انتخابات میں میرے ساتھ نہیں تھے ،خان قادر ، مشتاق سدوزئی اور افتخار زمان نے ملی بھگت سے 3سال ٹیلرز اور سبزی فروٹ ایسوسی ایشن کی تنظیموں کیخلاف کیس کروائے ،انہوں نے کہا کہ میں نے سارے اختیارات خان قادر کو دیے اور اس نے وعدہ کیا کہ میں ایک ماہ میں آڈٹ کروائوںگا لیکن آڈٹ کے بجائے شام کو زمان چوک کے چھوٹے دفتر میں بیٹھ کر ہمارے خلاف ہی سازشوں میں مصروف رہے ہم نے پراپرٹی ٹیکس کیخلاف تاریخی ہڑتال کی ہمیں دیکھ آل آزاد کشمیر کے نام پر ان لوگوں نے اجلاس کیا جن لوگوں نے بنک کے فارمز فروخت کیے اور تاجروں کے کارڈ پھیری کرنے والوں کو ٹائیں ڈھلکوٹ تک فروخت کیے ،جتنی کرپشن کارڈوں کے نام پر کی گئی وہ ناقابل بیان ہے ، میں تسلیم کرتا ہوں کہ ہم آڈٹ نہ کر سکے جس کی وجہ یہ تھی کہ ہمارے چیئر مین خان قادر نے یہ ذمہ داری لی اور خود انہیں لوگوں سے مل گئے جو کرپشن میں ملوث تھے ، انہوں نے کہا کہ سپریم کونسل کے اجلاس میں ہم آئین میں ترامیم کر سکتے تھے لیکن دوستوں کی مشاورت سے ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ہم کو ئی ترمیم نہیں کرینگے اور نہ ہی انگوٹھا مار کو یہ موقع دینگے کہ وہ انتخاب سے بھاگ سکیں ، ان تین سالوں کے دوران میں ذاتی حیثیت میں مقروض ہوا تعلق رشتہ متاثر ہوا ، انہوں نے کہا کہ میں نے کبھی انتظامیہ کو تاجروں کے ساتھ بدمعاشی نہیں کرنے دی اور ہم نے اس دوران تاریخی کام کیے ،میرٹ اور انصاف کے مطابق فیصلے کیے جس سے زیادہ تر میری اپنی برادری کے لوگ مجھ سے ناراض ہوئے ،انہوں نے کہا کہ میں نے خان سلیم خان کو صدارت کا الیکشن لڑنے کی تجویز دی تھی جس پر انہو ں نے معذرت کر دی میں مافیا ، بلیک میلروں کو اب الیکشن سے بھاگنے نہیں دونگا ہم نے اپنے تاجروں کی کال پربیرون آزاد کشمیر سے دو نمبراشیاء لا کر یہاں فروخت کرنے والوں کو رنگے ہاتھوں پکڑا اور انکے خلاف کاررائی کی ،حافظ طارق نے کہا کہ ہم کسی دو نمبر کاروبار کرنے والی کی کبھی حمایت نہیں کرتے یہاں گیس سلنڈروں کا معاملہ ہوا تو میں نے سینئر تاجروں سے کہا کہ اوگرا کی ٹیم بلوائیں اور یہ سلنڈر انکے حوالے کریں ان میں جو بھی غلط نکلتا ہے اسکے خلاف کارروائی کریں اور میں اب بھی اس پر قائم ہوں ،انہوں نے کہا کہ تاجروں کے لین دین کے معاملات بھی حل کروائے، پہلی بار ایک پنجابی تاجر جس کی دکان کا سامان کالج کے طلباء نے توڑ پھوڑ کر ضائع کیا تھا اس کی وصولی کالج انتظامیہ سے کروائی، ڈی سی اور افسر مال کے جرمانے واپس کروائے، انہوں نے کہا کہ آئندہ آئین میں ترامیم الیکشن میں کامیابی کے بعد کریں گے، انہوں نے کہا کہ مجھ سے قبل 3سیکیورٹی گارڈ تھے جن کو ماہانہ6ہزار دیا جاتا تھا اور سو روپے فی دکان وصول کیا جاتا تھا ہم نے 13سیکیورٹی گارڈ رکھے ہیں ور انہیں 10ہزار ماہانہ تنخواہیں دے رہے ہیں اور تاجروں سے وہی سو روپے لے رہے ہیں جو ماضی میں لیا جاتا تھا اس سے تاجر یہ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کتنی کرپشن ہوتی رہی ہے ،چیئر مین سپریم کونسل ذوالفقار کاظمی نے کہا کہ باغ کے تاجر حافظ طارق کی قیادت میں متحدد ہیں اور آئندہ بھی انہیں کامیاب کروائیں گے، اجلاس کے دوران تاجروں نے حافظ طارق کی 3سالا کارکردگی پر اعتماد کی متفقہ قرارداد منظور کی۔