ختم نبوت بل اسمبلی میں پیش،ووٹنگ نوازشریف کی آمد پر مشترکہ اجلاس میں کرانے کا فیصلہ

مظفرآباد(بیورورپورٹ)آزاد جموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی میں ختم نبوت وناموس رسالت بل پیش کردیا گیا،بل کی منظوری سابق وزیراعظم نوازشریف کی موجودگی میں قانون ساز اسمبلی وکشمیر کونسل کے مشترکہ اجلاس میں ہوگی،وزیراعظم کا ایوان میں اظہار خیال۔حکومتی واپوزیشن ممبران نے ڈیسک بجا کر حکومتی اقدام کا خیر مقدم کیا،سردار عتیق نے اہم اور تاریخی دن قراردیا۔قانون ساز اسمبلی کا اجلاس جمعہ کے روز سپیکر شاہ غلام قادر کی زیر صدارت تلاوت کلام پاک سے شروع ہوا۔ اجلاس کے آغاز میں سپیکر آزاد جموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی شاہ غلام قادر نے رواں اجلاس کیلئے ممبران اسمبلی چوہدری مسعود خالد،راجہ محمد صدیق خان اور محترمہ رفعت عزیز پر مشتمل پینل آ ف چیئرمین کا اعلان کیا۔ اجلاس میں آزادکشمیر کے وزیر قانون و پارلیمانی امور راجہ نثار احمد خان نے مسودہ قانون The Azad Jammu & Kashmir Interim Constitution (Twelveth Amendment) Act,2018پیش (Introduce)کرنے کی تحریک پیش کی ایوان نے مسودہ قانون پیش کرنے کی تحریک اتفاق رائے سے منظور کر لی۔ بعدازاں مسودہ قانون پر اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر اعظم آزادکشمیر راجہ محمد فاروق حیدرخان نے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت ہمارے ایمان کا حصہ ہے ،مسودہ قانون پر مزید غور غوض کیلئے اسمبلی کے مشترکہ اجلاس میں مزید بحث ہوگی جس میں علماء کرام،ٹیکنوکریٹ سمیت دیگر بھی شامل ہونگے ۔وزیر اعظم آزادکشمیر کے توجہ دلانے پر 1973کی قانون ساز اسمبلی میں ممبران اسمبلی میجر محمد ایوب خان، سردار عبدالقیوم خان اور دیگر ممبران نے عقیدہ ختم نبوت پر قرارداد پا س کی ان کیلئے بھی دعا مغفرت کی گئی۔ اظہار خیال کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم سردار عتیق احمد خان نے کہا کہ اس بل کو لانے پر قائد ایوان اور تمام ممبران اسمبلی کو مبارکباد پیش کرتا ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ بل پر مزید غور غوض کیلئے اپوزیشن کو بھی شامل کیا جائے تاکہ ایک مشترکہ کوشش میں ہم بھی اس سعادت کے کام میں شامل ہو سکیں۔ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر قانون و پارلیمانی امور راجہ نثار احمدخان نے کہا کہ اس مسودہ قانون کے تحت عقیدہ ختم نبوت پر ایمان نہ رکھنے والے دائرہ اسلام سے خارج ہونگے ۔ انہوں نے کہا کہ اللہ کی وحدانیت اور ختم نبوت ہمارے ایمان کا حصہ ہے ۔میں اس موقع پر موجود اسمبلی کے تمام معزز ممبران کو بل لانے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر تعمیرات عامہ چوہدری محمد عزیز نے کہا کہ تمام ممبران جنہوں نے اس بل پر کام کیا سب کو مبارکباد پیش کرتا ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ حضور ۖ کی ختم نبوت پر ہمارا پختہ ایمان ہے ،یہ بل پاس کرنا ہم سب کیلئے باعث سعادت ہے ۔ ممبراسمبلی پیر سید علی رضا بخاری نے کہا کہ ہمار ے لیے خوش نصیبی اور سعادت کا باعث ہے کہ یہ بل ایوان میں منظوری کیلئے پیش ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ااسلامی ریاست میں اسلامی قانون بنانا ہماری ذمہ داری بھی ہے اور فرض بھی۔ انہوں نے کہا کہ آج کا اجلاس انتہائی اہمیت کا حامل اور سعادت کا باعث بھی ہے۔ اس بل کے لانے پر قائد ایوان، وزیر قانون و پارلیمانی اموراور تمام معزز ممبران کو مبارکباد پیش کرتا ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ 1973میں ختم نبوت کی قرارداد منظور ہوئی ہے اس وقت کے تمام ممبران کو بھی آج خراج عقیدت پیش کرتا ہوں ۔ ممبر اسمبلی عبدالرشید ترابی نے اس موقع پر سردار عبدالقیوم خان مرحوم اور میجر محمد ایوب خان اور دیگر کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوںجنہوں نے 1973میں قرارداد پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت ہمارے ایمان کا حصہ ہے ۔ یہ بل ہمارے ایمان کا حصہ اور ہمارے لیے سعادت کا باعث ہے ۔ ممبراسمبلی احمد رضا قادری نے کہا کہ ختم نبوت ہمارے ایمان کا حصہ ہے ،اس بل کو لانے پر قائد ایوان، وزیر قانون اور تمام ممبران کو مبارکباد پیش کرتا ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ اس بل کی منظوری ہمارے ایوان کیلئے سعادت کا باعث ہے ۔ ممبرا سمبلی راجہ محمد صدیق خان نے کہا کہ قائد ایوان ، وزیر قانون اور تمام ممبران اسمبلی کو مبارکباد پیش کرتا ہوں ۔ انہوں نے کہاکہ عقیدہ ختم نبوت پر ایمان لانا ہمارے ایمان کا حصہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ 1973میں میجر محمد ایوب خان ، سابق وزیر اعظم سردار محمد عبدالقیوم خان ودیگر نے عقیدہ ختم نبوت پر قرارداد منظور کی ان سب کو بھی خراج عقیدت پیش کرتا ہوں ۔ ممبر اسمبلی ملک محمد نواز خان نے کہا کہ میں آج1973میں میجر محمد ایوب خان اور سردار عبدالقیوم خان اور تمام معزز ممبران کو عقیدہ ختم نبوت کی قرارداد پاس کرنے پر خراج عقیدت پیش کرتا ہوں اور آج بل کو منظوری کیلئے پیش کرنے پر اس ایوان کو بھی مبارکباد پیش کرتا ہوں ۔ ممبر اسمبلی عبدالماجد خان نے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت ہمارے ایمان کا حصہ ہے ،جو ختم نبوت پر ایمان نہیں رکھتا ہو مسلمان نہیں ۔ آخر میں سپیکر قانون ساز اسمبلی شاہ غلام قادر نے اجلاس غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کر دیا۔
